پاکستان، جنوبی افریقہ سیریز برابر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان نے قذافی سٹیڈیم لاہور میں کھیلا گیا دوسرا ایک روزہ پاکستان نے پچیس رنز سے جیت لیا اور یوں سیریز ایک ایک میچ سے برابر ہو گئی۔ پاکستان کی ٹیم نے پہلے کھیلتے ہوئے مقررہ پچاس اوورز میں نو وکٹوں کے نقصان پر 265 رنز بنائے اور جنوبی افریقہ کو میچ جیتنے کے لیے 266 رنز کا ہدف دیا۔ اس کے جواب میں جنوبی افریقہ کی پوری ٹیم انچاس اعشاریہ تین اوورز میں240 رنز پر آؤٹ ہو گئی ۔ کیچ کرنے کے کئی مواقع ضائع ہونے کے باوجود پاکستانی بالرز نے اس میچ میں اچھی بالنگ کی اور پاکستان کی فتح میں کردار ادا کیا۔ اس میچ میں پاکستان کی فیلڈنگ کافی ناقص رہی اور متعدد کیچ چھوڑے گئے جبکہ مس فیلڈنگ کے سبب بھی جنوبی افریقہ کی ٹیم کو کئی رنز ملے۔ پاکستان کی طرف سے راؤ افتخار اور عمر گل نے تین تین کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا اور شاہد آفریدی، سہیل تنویر اور عبدالرحمان نے ایک ایک وکٹ حاصل کی۔ ان کے بعد ڈولئر کھیلنے آئے۔ ڈولئیر اور گریم سمتھ کے درمیان 76 رنز کی شراکت ہوئی۔ اس شراکت میں پاکستانی فیلڈرز کا بھی کافی ہاتھ تھا۔پاکستانی فیلڈرز نے سمتھ کے دو اور ڈولئیر کا کیچ چھوڑا۔ دو کیچ راؤ افتخار کی بالنگ پر چھوٹے آخر کار راؤ افتخار نے ڈولئیر کو بولڈ کر کے اس لمبی ہوتی شراکت کاخاتمہ کیا۔ ڈولئیر کے بعد جسٹن کیمپ بیٹنگ کے لیے آئے۔ کیمپ کو راؤ افتخار نے ایل بی ڈبلیو آؤٹ کیا وہ صرف آٹھ رنز بنا سکے۔ 125 کے سکور پر جنوبی افریقہ کی پانچویں وکٹ گری جب باؤچر کا کیچ شاہد آفریدی نے اپنی ہی گیند پر لیا۔باؤچر نے چودہ رنز بنائے۔ سمتھ کو اس اننگز میں بہت سے مواقع ملے عمرگل کو نو بال پر بولڈ ہونے کے علاوہ ان کے متعدد کیچ چھوٹے جن میں شاہد آفریدی نے بھی اپنی ہی گیند پر ان کا ایک کیچ چھوڑا لیکن آخر کار وہ کامران اکمل کے ہاتھوں عبدالرحمن کی گیند پر کیچ آؤٹ ہوئے انہوں نے پانچ چوکوں کی مدد سے پینسٹھ رنز بنائے اور یوں جنوبی افریقہ کی چھٹی وکٹ 140 رنز پر گری۔ شان پولاک کو عمرگل نے بولڈ کیا جب وہ 37 رنز بنا چکے تھے انہوں نے دو چوکے اور ایک چھکا لگایا اور یوں جنوبی افریقہ کی آٹھویں وکٹ 212 کے سکور پر گری۔ جنوبی افریقہ کی نویں وکٹ 220 رنز پر گری جب بوتھا راؤ افتخار کی گیند پر سہیل تنویر کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہوئے۔ آخری آؤٹ ہونے والے کھلاڑی لینگا ویلٹ تھے۔
قذافی سٹیڈیم لاہور میں کھیلے جانے والے دوسرے ایک روزہ میچ میں پاکستان نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا ہے۔ پاکستان کی طرف سے عمران نذیر اور کامران اکمل نے بیٹنگ کا آغاز کیا۔ اکمل پالک کے پہلے ہی اوور میں بولڈ ہو گئے۔ ان کی جگہ یونس خان کھیلنے آئے۔ نذیر چھٹے اوور میں نتینی کی گیند کا نشانہ بنے اور اس طرح پندرہ کے سکور پر دونوں اوپنر آؤٹ ہو چکے تھے۔ پاکستان کی تیسری وکٹ اس وقت گری جب انیسویں اوور میں یونس خان بتیس کے ذاتی سکور پر رن آؤٹ ہو گئے۔ ان کی جگہ شعیب ملک کھیلنے آئے۔ اس وقت پاکستا کا سکور تہتر رنز تھا۔ شعیب ملک نے پاکستان کی اننگز کو خوب سہارا دیا اور محمد یوسف کے ساتھ مل کر چوتھی وکٹ کی شراکت پر 107 رنز بنائے۔ شعیب ملک نےچار چھکے لگائے اور ان کی زبردست شارٹس سے قذافی سٹیڈیم میں بیٹھے تماشائی بہت محظوظ ہوئے۔ شعیب ملک کا کیچ کیمپ نے ڈیپ لونگ آن کی پوزیشن پر لینگا فیلٹ کی گیند پر پکڑا۔ انہوں نے چار چھکوں کی مدد سے 56 رنز بنائے۔ ان کے بعد مصباح الحق کھیلنے آئے انہوں نے ایک چھکے اور دو چوکوں کی مدد سے اکیس رنز بنائے ان کا کیچ کپتان سمتھ نے مکایا نتینی کی گیند پر لیا۔ مصباح الحق کے آؤٹ ہونے پر شاہد آفریدی کھیلنے کے لیے آئے انہوں نے آتے ہی اپنے جارحانہ انداز کا مظاہرہ کرتے ہوئے چھکا لگا دیا جس پر سٹیڈیم میں موجود تماشائی اچھل پڑے لیکن اگلے ہی لمحے ان کی خوشی کافور ہو گئی جب شاہد آفریدی نے جیک کیلس کو ایک اور چھکا مارنے کی کوشش میں اونچا شارٹ کھیلا اور بیک ورڈ سکوئر لیگ پر کھڑے فیلڈر لینگا فیلٹ نے کوئی غلطی نہیں کی اور شاہد آفریدی کا کیچ پکڑ لیا۔ شاہد آفریدی کے آوٹ ہونے سے پاکستان کی ٹیم کے ایک بڑے سکور کرنے کی امید بھی ختم ہو گئی۔ انچاسویں اوور میں پاکستان کے 253 کے سکور پر یوسف بھی ساتھ چھوڑ گئے ان کو مورکل نے 117 کے سکور پر بولڈ کیا۔ محمد یوسف نے ایک روزہ کرکٹ میں اپنی تیرہویں سنچری بنائی۔ وہ اپنے کیریر کا 244 واں ایک روزہ کھیل رہے تھے۔ عبدالرحمن محض دو سکور بنا کر آؤٹ ہوئے ان کا کیچ گبز نے مورکل کی گیند پر لیا۔ راؤ افتخاراننگز کے آخری اوور میں بغیر رن بنائے لینگا فیلٹ کے بال پر بولڈ ہوئے۔ اننگز ختم ہوئی تو عمر گل چھ اور سہیل تنویر چار رنز پر کھیل رہے تھے۔ جنوبی افریقہ کی جانب سے نتینی، لینگا ویلٹ اور مورکل نے دو دو اور شان پولاک اور کیلس نے ایک ایک کھلاڑی کو آؤٹ کیا۔ پاکستان نے دوسرے ایک روزہ کے لیے ٹیم میں ایک تبدیلی کی اوپننگ بیٹسمین محمد حفیظ کی جگہ سپنر عبدالرحمن کو ٹیم میں شامل کیا گیا تھا۔ پہلا ایک روزہ میچ جیتنے والی جنوبی افریقہ کی ٹیم میں دوسرے میچ کے لیے کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔
پاکستان کی ٹیم کے کپتان شعیب ملک نے ٹاس جیت کر کہا کہ وہ ایک اچھا سکور کر کے اس میچ کو جیتنے کی کوشش کریں گے۔گریم سمتھ کا کہنا تھا کہ اگر وہ ٹاس جیتتے تو وہ بھی بیٹنگ کا فیصلہ کرتے۔ یاد رہے کہ پہلا ایک روزہ میچ جنوبی افریقہ نے پینتالیس رن سے جیتا تھا۔ جنوبی افریقہ نے پہلے کھیلتے ہوئے مقررہ پچاس اووروں میں پانچ وکٹوں کے نقصان پر 294 رنز بنائے تھے۔ جواب میں پاکستان کی تمام ٹیم چھیالیس اعشاریہ تین اوورز میں 249 رنز بنا کر آؤٹ ہوگئی۔ پاکستان کی ٹیم جنوبی افریقہ کی ٹیم | اسی بارے میں لاہور میں پاکستان کی شکست18 October, 2007 | کھیل ’شکست سے بہت کچھ سیکھا‘ 17 October, 2007 | کھیل نسلی تعصب، شائقین کو وارننگ17 October, 2007 | کھیل ایک روزہ میچوں کے لیے ٹیم کا اعلان13 October, 2007 | کھیل نسل پرستانہ جملوں پر وضاحت طلبی14 October, 2007 | کھیل انضمام میانداد کا ریکارڈ نہ توڑ سکے12 October, 2007 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||