BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 12 October, 2007, 07:02 GMT 12:02 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
انضمام میانداد کا ریکارڈ نہ توڑ سکے

کامران اکمل
یونس خان نے کیریئر کی چودھویں سنچری پچپنویں ٹیسٹ میں مکمل کی
انضمام الحق اپنے کیریئر کے آخری ٹیسٹ میچ میں تین رنز کے فرق سے پاکستان کی طرف سے سب سے زیادہ رنز بنانے کا ریکارڈ قائم نہ کر سکے۔

جنوبی افریقہ کے خلاف لاہور ٹیسٹ کھیلنے والی پاکستانی ٹیم کا حصہ بنتے وقت انضمام الحق کو ٹیسٹ کرکٹ میں جاوید میانداد کا ریکارڈ توڑنے کے لیے صرف بیس رنز درکار تھے، لیکن پہلی اننگز میں وہ 14 اور دوسری میں صرف 3 رنز بنا کر آؤٹ ہوگئے۔

دوسری انگز میں وہ کیلس کی گیند کو باہر نکل کر کھیلنے کی کوشش میں باؤچر کے ہاتھوں سٹمپ آؤٹ ہوئے۔


میانداد نے ایک سو چوبیس ٹیسٹ کھیل کر 8832 رنز بنائے تھے جبکہ انضمام الحق نے ایک سو بیس ٹیسٹ کھیل کر 8830 رنز بنائے۔ انضمام الحق یہ ریکارڈ تو نہ توڑ سکے لیکن ان کے پاس پاکستان کی جانب سے ٹیسٹ کرکٹ میں سب سے زیادہ پچیس سنچریاں بنانے کا ریکارڈ موجود ہے۔
سنچریوں کا ریکارڈ
 میانداد نے ایک سو چوبیس ٹیسٹ کھیل کر 8832 رنز بنائے تھے جبکہ انضمام الحق نے ایک سو بیس ٹیسٹ کھیل کر 8830 رنز بنائے۔ انضمام الحق یہ ریکارڈ تو نہ توڑ سکے لیکن ان کے پاس پاکستان کی جانب سے ٹیسٹ کرکٹ میں سب سے زیادہ پچیس سنچریاں بنانے کا ریکارڈ موجود ہے

انضمام الحق کے لیے لاہور ٹیسٹ مایوسی کا سبب بنا لیکن جنوبی افریقہ کے رنزوں کے بوجھ تلے دبنے کی بجائے پاکستانی بیٹسمینوں نے دوسری اننگز میں زبردست مزاحمت کا مظاہرہ کیا اور میچ ڈرا کرنے میں کامیاب ہوگئے۔

جنوبی افریقہ کی طرف سے دیے گئے 457 رنز کے ہدف کے جواب میں میچ کے اختتام پر پاکستان نے چار کھلاڑیوں کے نقصان پر 316 رنز بنائے ہوئے تھے۔ جب میچ کے خاتمے کا اعلان کیا گیا اس وقت محمد یوسف 63 اور کپتان شعیب ملک 20 رنز پر ناٹ آؤٹ تھے۔

پاکستان کی دوسری اننگز کی خاص بات یونس خان کی شاندار سنچری تھی۔ وہ 130 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔ یہ ٹیسٹ کرکٹ میں ان کی چودھویں سنچری تھی۔ اس کے علاوہ کامران اکمل نے اکہتر رنز بنا کر میچ بچانے میں اہم کردار ادا کیا۔ یونس خان اور کامران اکمل نے دوسری وکٹ کی شراکت میں ایک سو اکسٹھ رنز بنائے۔

جنوبی افریقہ کے کپتان گریم سمتھ نے جمعرات کو پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ وہ لنچ سے پہلے چند پاکستانی کھلاڑیوں کو آؤٹ کر کے میچ پر گرفت مضبوط کرنے کی کوشش کریں گے، لیکن پاکستانی بیٹسمینوں نے زبردست بیٹنگ کا مظاہرہ کیا اور سمتھ کی یہ حکمت عملی کامیاب نہیں ہونے دی۔

لاہور ٹیسٹ میچ کے ریفری ایلن ہرسٹ نے جمعرات کی رات میچ کے بعد پاکستان کی ٹیم کے نائب کپتان سلمان بٹ پر پچاس فیصد میچ فیس کی کٹوتی کا جرمانہ عائد کیا ہے۔

یہ جرمانہ ان پر آئی سی سی کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی کرنے پر عائد کیا گیا۔ سلمان بٹ نے پریس کانفرنس میں ایمپائرز کے فیصلے پر تنقید کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ کراچی ٹیسٹ میں ان کے اور لاہور ٹیسٹ میچ میں محمد یوسف کے آؤٹ کے فیصلے نے ٹیم کی کارکردگی پر اثر ڈالا۔

جمعہ کو میچ کے دوران ایک ناخشگوار واقعہ بھی ہوا۔ عمران خان انکلوثر میں بیٹھے کچھ کم عمر تماشائیوں نے جنوبی افریقہ کے سیکیورٹی اہلکار فیصل نیجل پر نسل پرستانہ جملے کسے اور انہیں بلیکی بلیکی کہا۔جس پر انہوں نے پاکستان کے سکیورٹی اہلکار کرنل ذوالفقار کو شکایت کی جس پر ان لڑکوں کو جو پاکستان کرکٹ بورڈ کے مطابق تارکین وطن ہیں گرفتار کر لیا گیا ہے اور ان سے پوچھ گچھ ہو رہی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد