سیریز برابر کریں گے:شعیب | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان شعیب ملک کا کہنا ہے کہ وہ لاہور میں ہونے والا سیریز کا دوسرا اور آخری ٹیسٹ میچ جیت کر سیریز کو برابر کرنے کی کوشش کریں گے جب کہ جنوبی افریقہ کی ٹیم کے کپتان گریم سمتھ کی خواہش ہے کہ وہ ٹیسٹ سیریز دو صفر کی برتری سے جیتیں۔ آٹھ اکتوبر سے قذافی سٹیڈیم لاہور میں شروع ہونے والے دوسرے ٹیسٹ میچ سے ایک روز قبل پریکٹس کے بعد پریس کانفرنس میں شعیب ملک نے کہا کہ کراچی ٹیسٹ میں جیک کیلس ان کی اور جنوبی افریقہ کی ٹیم میں فرق ثابت ہوئے لیکن اب انضمام الحق اور محمد یوسف کے ٹیم میں شامل ہونے سے ان کی ٹیم بھی مضبوط ہو گئی ہے۔ شعیب ملک نے کہا کہ انہوں نے جیک کیلس کو روکنے کے لیے حکمت عملی تیار کر لی ہے اور ان کی کوشش ہو گی کہ کیلس کوانہیں جلد آؤٹ کر لیا جائے کیونکہ جنوبی افریقہ کے بقیہ کھلاڑی سٹروک پلئر ہیں اور جارحانہ کھیل کھیلتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گریم سمتھ کا یہ کہنا درست نہیں کہ انضمام کے کھیلنے سے ان کی ٹیم انتشار کا شکار ہو جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ انضمام کے ہونے سے ان کے اور ان کی ٹیم کے اعتماد میں اضافہ ہو گا اور مورال بلند ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ’ہماری بالنگ میں اتنی صلاحیت ہے کہ جنوبی افریقہ کی ٹیم کو دو مرتبہ آؤٹ کر سکے‘۔ انہوں نے کراچی ٹیسٹ میں اپنی ٹیم کی خراب فیلڈنگ کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ’کبھی کبھی کسی ٹیم کا برا دن ہوتا ہے اور کوئی بھی ٹیم ہمیشہ اچھی فیلڈنگ نہیں کر سکتی دنیا کا اچھے سے اچھا فیلڈر بھی کیچ چھوڑ دیتا ہے لیکن ٹیم نے دوسری اننگز میں کم بیک کیا‘۔ انہوں نے کہا کہ ٹیم کا کراچی ٹیسٹ میں ہارنے کی وجہ جنوبی افریقہ کی ٹیم کا پہلی اننگز میں زیادہ سکور کر جانا تھا۔
جنوبی افریقہ کی ٹیم کے کپتان گریم سمتھ نے کہا کہ ’ہم یہاں جیتنے کے لیے آئے ہیں اور کراچی ٹیسٹ میں فتح نے ہمارے اعتماد میں بے حد اضافہ کر دیا ہے اور ہماری کوشش ہو گی کہ لاہور کا ٹیسٹ بھی جیتیں اور سیریز کو دو صفر سے جیتیں‘۔ گریم سمتھ نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ انہیں پاکستان کی ٹیم کی طرف سے سخت مقابلے کا سامنا ہو گا اور ویسے بھی پاکستان میں جیتنا اتنا آسان نہیں ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ انہیں محمد یوسف کی شمولیت کی کراچی ٹیسٹ میں بھی توقع تھی اور ان کے لیے پلانگ کر لی تھی اور وہی پلانگ یہاں بھی ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ انضمام کی بھی واپسی ہوئی ہے اور ان کے خلاف کچھ عرصہ پہلے ہی جنوبی افریقہ میں کھیل چکے ہیں ’ان دونوں بیٹس مینوں کے ساتھ نمٹنے کے لیے ان کی ٹیم نے حکمت عملی تیار کر لی ہے۔ یہ دونوں ورلڈ کلاس کھلاڑی ہیں لیکن ان کا چیلنج ہے کہ وہ کیسے بیٹنگ کرتے ہیں اور ہمارا چیلنج ہے کہ ہم ان کے خلاف کیسی بالنگ کرتے ہیں‘۔ گریم سمتھ نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ شعیب اختر پاکستان کے لیے میچ جیتنے والا بالر ہے لیکن ’ان کا اپنی ٹیم میں انتشار پیدا کرنے والا تاثر بھی ہے اور جہاں تک میرا تعلق ہے میں شعیب اختر سے زیادہ اپنی ٹیم پر توجہ رکھتا ہوں‘۔ گریم سمتھ نے کہا کہ انہیں یاد ہے کہ لاہور کے گراؤنڈ پر 2003 میں وہ ٹیسٹ میچ ہار گئے تھے لیکن اب کرکٹ میں کافی تبدیلی آ گئی ہے۔ برصغیر میں بھی کھیل کا سٹائل بدل گیا ہے اور ’ہم جو سپنرز کےخلاف نہیں کھیل سکتے تھے اب بہتر کھیل سکتے ہیں ان کے خلاف سکور کر سکتے ہیں اور اس وقت جو ہماری ٹیم کے کھلاڑی ہیں وہ اچھی کارکردگی دکھانے کے لیے بے چین ہیں‘۔ انہوں نے کہا کہ ان کی ٹیم کے دو تین کھلاڑی معمولی بیمار ہیں اور کوشش ہے کہ وہ میچ کے لیے فائنل الیون بنانے سے پہلے فٹ ہوں جائیں گے۔ | اسی بارے میں کراچی ٹیسٹ میں جنوبی افریقہ فاتح05 October, 2007 | کھیل پاکستان کو جیت کے لیے 278 رنز04 October, 2007 | کھیل جنوبی افریقہ کی برتری 235 رن03 October, 2007 | کھیل کراچی: پاکستان کا مڈل آرڈر ناکام02 October, 2007 | کھیل کراچی ٹیسٹ: کیلس، بہترین فارم 01 October, 2007 | کھیل دانش کا ہدف سات سو وکٹیں02 October, 2007 | کھیل جنوبی افریقہ کی ٹیم پاکستان پہنچ گئی26 September, 2007 | کھیل شعیب، لاسن پہلے ٹیسٹ کیلیے تیار30 September, 2007 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||