BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
انضمام ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائر

انضمام الحق اور نسیم اشرف
انضمام الحق نے 119 ٹیسٹ میچز کھیلتے ہوئے8813 رنز اسکور کیے
پاکستانی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان انضمام الحق نے ٹیسٹ کرکٹ کو خیرباد کہنے کا باضابطہ اعلان کردیا ہے۔ جنوبی افریقہ کے خلاف آٹھ اکتوبر سے لاہور میں شروع ہونے والا ٹیسٹ میچ ان کا الوداعی ٹیسٹ ہوگا۔

انضمام الحق نے ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان جمعہ کو نیشنل سٹیڈیم میں پاکستان کرکٹ بورڈ کے چئرمین ڈاکٹر نسیم اشرف کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں کیا۔ انہوں نے کہاکہ انضمام الحق کو لاہور ٹیسٹ میں شاندار طریقے سے خراج تحسین پیش کرتے ہوئے الوداع کہا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ لاہور ٹیسٹ ’انضی ٹیسٹ‘ ہوگا۔


37 سالہ انضمام الحق نے اپنے سولہ سالہ شاندار بین الاقوامی کریئر میں119 ٹیسٹ میچز کھیلتے ہوئے8813 رنز اسکور کئے۔ ان کی 25 سنچریاں ٹیسٹ کرکٹ میں کسی بھی پاکستانی بیٹسمین کی سب سے زیادہ سنچریوں کا ریکارڈ بھی ہے۔

انضمام الحق ٹیسٹ کرکٹ میں کسی بھی پاکستانی بیٹسمین کے سب سے زیادہ جاوید میانداد کے8832 رنز کے ریکارڈ سے صرف20 رنز کی دوری پر ہیں۔
378 ون ڈے انٹرنیشنل میچوں میں انضمام الحق نے11739 رنز سکور کیے ہیں ۔ یہ بھی ایک ریکارڈ ہے۔

یاد گار لمحے
News image
 ورلڈ کپ92 کی جیت میرے کریئر کا سب سے یادگار لمحہ تھا۔ اس کے علاوہ بنگلہ دیش کے خلاف ملتان ٹیسٹ کی سنچری اور بھارت کے خلاف بنگلور کی جیت ہمیشہ یاد رکھوں گا
انضمام الحق

واضح رہے کہ انڈین کرکٹ لیگ میں شمولیت اختیار کرنے پر پاکستان کرکٹ بورڈ نے انضمام الحق پر پاکستانی کرکٹ کے دروازے بند کرنے کا فیصلہ کیا تھا تاہم یوٹرن لینے کے بعد اس نے مصالحتی فارمولے پر پہنچتے ہوئے انضمام الحق کو ’اعلان شدہ‘ آخری ٹیسٹ کھل کر اپنا کریئر ختم کرنے کا موقع فراہم کردیا ہے۔

انضمام الحق نے پریس کانفرنس میں کہا کہ وہ ایک ڈیڑھ سال مزید انٹرنیشنل کرکٹ کھیل سکتے تھے لیکن انہوں نے یہ بھی محسوس کیا کہ ان کی ڈریسنگ روم میں موجودگی سے نوجوان کرکٹرز دباؤ محسوس کریں گے لہذا انہوں نے یہ فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ اتنا آسان نہیں تھا۔

انضمام الحق نے کہا کہ جاوید میانداد کا ریکارڈ ان کی ترجیح نہیں کیونکہ انہوں نے ان سے بہت کچھ سیکھا ہے۔

انضمام الحق نے کہا کہ ورلڈ کپ92 کی جیت ان کے کریئر کا سب سے یادگار لمحہ تھا۔ اس کے علاوہ بنگلہ دیش کے خلاف ملتان ٹیسٹ کی سنچری اور بھارت کے خلاف بنگلور کی جیت کو وہ ہمیشہ یاد رکھیں گے۔

انضمام الحق نے کہا کہ جب آپ کا کریئر طویل ہوتا ہے تو دکھ اور افسوس کے لمحات بھی ہوتے ہیں۔ ویسٹ انڈیز میں منعقدہ ورلڈ کپ ان کے لیے دکھ رکھتا ہے۔ وہ اس میں اچھے نتائج اور کارکردگی کی توقع رکھتے تھے لیکن ایسا نہ ہوسکا۔

انضمام الحق نے کہا کہ وہ ریٹائرمنٹ کے بعد کھیل سے ناتہ جوڑے رکھیں گے اور ہوسکتا ہے کہ وہ اپنی اکیڈمی قائم کریں اور کوچنگ کریں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد