نسلی تعصب، شائقین کو وارننگ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
قذافی سٹیڈیم لاہور میں جمعرات کو ہونے والے پاکستان اور جنوبی افریقہ کی ٹیموں کے درمیان پہلے ایک روزہ کرکٹ میچ سے ایک دن قبل ہی بڑے بڑے بینرز لگا دیے گئے ہیں جن میں تماشائیوں کو سخت تنبیہ کی گئی ہے کہ وہ کسی کے خلاف نسلی تعصب والے جملے نہ کہیں۔ ایک بینر پر لکھا ہے کہ تماشائی کسی ایسی حرکت میں ملوث نہیں ہوں گے یا کوئی ایسا فقرہ نہیں بولیں گے جس سے کسی کھلاڑی، ایمپائر، ریفری، آفیشیل یا کسی دوسرے تماشائی کی نسل، رنگ، قومیت یا لسانی بنیاد پر عزت مجروح ہو یا ان کی بدنامی یا رسوائی ہو۔ ایک اور بینر پر درج ہے کہ تماشائیوں کو یاد دہانی کروائی جاتی ہے کہ نسلی تعصب پر مبنی جملے بولنے یا اس قسم کی حرکات کے نتیجے میں انہیں گراؤنڈ سے باہر نکال دیا جائے گا۔ اس کے علاوہ مزید ممکنہ اقدامات کے نتیجے میں قانونی کارروائی کی جائے گی اور ان افراد کی تصاویر اور وڈیو فلم بنا کر ان کی نشاندہی کی جائے گی اور ان پر گراؤنڈ میں آنے کے لیے تا حیات پابندی لگا دی جائے گی۔ تماشائیوں کو یہ تنبیہ شاید لاہور میں ہونے والے دوسرے ٹیسٹ میچ کے آخری روز ہونے والے واقعے کے بعد کی گئی ہے۔ لاہور ٹیسٹ کے دوران چند تماشائیوں نے جنوبی افریقہ کی ٹیم کے ساتھ آئے ہوئے سکیورٹی آفیسر فیصل نیجل کے خلاف نسلی تعصب پر مبنی جملے کسے تھے۔ ان تماشائیوں کو گرفتار بھی کیا گیا لیکن بعد ازاں فیصل نیجل کی جانب سے شکایت واپس لینے پر انہیں چھوڑ دیا گیا تھا۔ ایسے کسی مزید ناخوشگوار واقعے سے بچنے کے لیے پاکستان کرکٹ بورڈ نے سٹیڈیم میں یہ بینرز لگا دیے ہیں۔ ادھر آئی سی سی نے بھی لاہور ٹیسٹ کے دوران ہونے والے اس واقعے پر پاکستان کرکٹ بورڈ سے وضاحت طلب کی ہے۔ | اسی بارے میں نسل پرستانہ جملوں پر وضاحت طلبی14 October, 2007 | کھیل ہیئر نے تعصب کا دعویٰ واپس لے لیا10 October, 2007 | کھیل وولمر موت کی دوبارہ تحقیق شروع16 October, 2007 | کھیل ایک روزہ میچوں کے لیے ٹیم کا اعلان13 October, 2007 | کھیل آج میں سٹمپ ہوگیا: انضی12 October, 2007 | کھیل انضمام میانداد کا ریکارڈ نہ توڑ سکے12 October, 2007 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||