BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 12 October, 2007, 16:09 GMT 21:09 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
آج میں سٹمپ ہوگیا: انضی

الوداعی تقریب میں انضمام الحق نے اپنی قوم، کرکٹ شائقین، اپنے سینیئرز، سلیکٹرز کرکٹ بورڈ، ساتھی کھلاڑیوں اور اپنے خاندان کا شکریہ ادا کیا

پاکستان کے مایہ ناز بیٹسمین انضمام الحق کا سترہ سالہ شاندار کرکٹ کیریئر آج ختم ہوا۔ جنوبی افریقہ اور پاکستان کے درمیان سیریز کا دوسرا ٹیسٹ میچ انضمام کا آخری میچ تھا۔

جمعہ کو میچ کے اختتام پر انضمام الحق کے شاندار کرکٹ کیریئر کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے پاکستان کرکٹ بورڈ نے میچ کی اختتامی تقریب کے ساتھ ہی ایک باوقار تقریب کا اہتمام کیا۔

اس تقریب میں شرکت کے لیے جب انضمام الحق میدان میں داخل ہوئے تو پاکستانی ٹیم کے کھلاڑیوں نے دونوں طرف قطار بنا کر کرکٹ بلوں سے سایہ بنا کر راہداری بنائی جس میں سے گزر کر انضمام الحق میدان میں پہنچے جہاں پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین ڈاکٹر نسیم اشرف نے ان کا استقبال کیا۔

اور پھر سٹیڈیم میں حال ہی میں نصب کی گئی الیکٹرونک سکرین پر انضمام کے کیریئر پر ڈاکومینٹری فلم دکھائی گئی۔

اس کے بعد ان کو لائف ٹیم اچیومنٹ گولڈ میڈل پی سی بی کے چیئرمین نے پہنایا اور پھر انہوں نے قذافی سٹیڈیم میں انضمام الحق کے نام سے انکلوثر منسوب کرنے کا اعلان کیا اور اس انکلوثر پر انضمام الحق کے نام کی تختی کی نقاب کشائی کی گئی۔

قذافی سٹیڈیم میں انضمام کے نام سے انکلوژر: نسیم اشرف
اس کے بعد انضمام الحق نے سٹیڈیم میں موجود تماشائیوں سے خطاب کیا جس میں انہوں نے اپنی قوم، کرکٹ شائقین، اپنے سینیئرز، سلیکٹرز کرکٹ بورڈ، ساتھی کھلاڑیوں اور اپنے خاندان کا شکریہ ادا کیا۔اس تقریب میں انضمام الحق کی اہلیہ کاشفہ ان کے بچوں اور خاندان کے دیگر افراد نے شرکت کی۔ ان کی اہلیہ کی تقریب کے دوران مسلسل آنکھیں بھیگتی رہیں۔

تقریب کے بعد انضمام الحق نے پریس کانفرنس میں کہا کہ انہوں نے جارحانہ کھیل کھیلنے کے لیے اور چھکا مارنے کے لیے تاکہ پاکستان میچ جیت جائے باہر نکل کر شارٹ لگائی لیکن انہیں اس بات کا کوئی افسوس نہیں کہ وہ جاوید میانداد کا ریکارڈ نہ توڑ سکے۔

انہوں نے کہا کہ وہ اپنے کیریئر کے اختتام پر اپنی کاردگی سے مطمئن ہیں۔انہوں نے کہا کہ ان کی زندگی کی مشکل اننگز تھی وہ آخری ٹیسٹ میچ میں یادگار اننگز کھیلنا چاہتے تھے۔ ’تمام عمر میری یہ شارٹ کامیابی سے لگتی رہی لیکن آج میں سٹمپ ہو گیا۔‘

انضمام نے کہا کہ شین وارن اور کورٹنی والش ان کے کیریئر میں سب سے زیادہ خطرناک بالر تھے تاہم بریٹ لی اور شان پولاک کو کھیلنا بھی آسان نہیں تھا۔

انہوں نے کہا کہ ’ٹوئنٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں پاکستان کی کارکردگی دیکھ کر میں نے ریٹائرمنٹ کا فیصلہ کیا اور اس فیصلے پر نظر ثانی نہیں کریں گے۔‘ انہوں نے کہا کہ وہ اب ملتان میں اپنے ہسپتال بختاور میموریل ہسپتال کو زیادہ وقت دیں گے۔

انہوں نے کہا کہ شعیب ملک باصلاحیت کپتان ہیں اور ان کی قیادت میں پاکستان کی ٹیم اچھی کارکردگی دکھائے گی۔

انضمام الحق’حوصلے بلند ہیں‘
آخری ورلڈ کپ کو یادگار بنانا چاہتا ہوں
انضمام الحقاختتام عمران جیسا !
انضمام اپنا آخری ورلڈ کپ جیتنا چاہتے ہیں
کپتان انضمام الحق
اچھے نتائج کا کریڈِٹ، شکست کی واحد وجہ؟
 انضمام الحقالزامات بے بنیاد ہیں
تحقیقاتی کمیٹی کے سامنے انضمام الحق کی تردید
’میڈیا ذمہ دار‘
وولمر کی موت، ابہام اور پاکستانی ٹیم کی رائے
پاکستان کی شکست
انضمام نہیں، بورڈ ذمہ دار: سابق ٹیسٹ کرکٹرز
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد