BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 17 October, 2007, 17:42 GMT 22:42 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’شکست سے بہت کچھ سیکھا‘

ٹیسٹ شکست سے بہت کچھ سیکھا: شعیب
پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان شعیب ملک کا کہنا ہے کہ وہ ایک روزہ سیریز کو جیتنے کا دعویٰ تو نہیں کر سکتے لیکن ان کی ٹیم میدان میں پوری توانائی خرچ کرے گی اور جیتنے کی کوشش کرے گی۔

پاکستان اور جنوبی افریقہ کے درمیان پانچ ایک روزہ سیریز کے آغاز سے قبل بدھ کے روز ایک پریس کانفرنس میں شعیب ملک نے کہا کہ ان کی ٹیم نے ٹیسٹ سیریز میں شکست سے بہت کچھ سیکھا ہے اور ون ڈے سیریز میں ہم ان غلطیوں سے بچنے کی کوشش کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ ٹیسٹ سیریز کے دوسرے میچ میں ہماری کارکردگی بہتر رہی ہے اور کھلاڑی فارم میں واپس آ رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ’اگرچہ پاکستان کی ٹیم کچھ عرصے سے ون ڈے کرکٹ سے دور ہے لیکن ہم باقائدگی سے کرکٹ کھیل رہے ہیں جس میں ٹوئنٹی ٹوئنٹی کرکٹ اور ٹیسٹ کرکٹ شامل ہے اور اس کا ہمیں فائدہ ہوگا اور ہماری کوشش ہو گی کہ ہم اچھی کارکردگی دکھائیں۔‘ انہوں نے کہا کہ سیریز میں اچھی فیلڈنگ بھی کافی کردار ادا کرے گی۔

محمد آصف پہلے ایک روزہ میچ میں کھیلنے کے لیے فٹ ہیں یا نہیں اس کا فیصلہ سلیکشن کمیٹی کرے گی تاہم شعیب ملک کے مطابق ان کے پاس متبادل بالر سکواڈ میں موجود ہے۔

انہوں نے کہا کہ ٹیسٹ سیریز ہارنے سے کھلاڑیوں کے مورال پر کوئی فرق نہیں پڑا کیونکہ تمام کھلاڑی پیشہ ور ہیں اور انہیں معلوم ہے کہ سپر سٹار بننے کے لیے محنت ضروری ہے۔

جنوبی افریقہ کی ٹیم کے کپتان گریم سمتھ کا کہنا ہے کہ ان کی ٹیم گزشتہ ڈیڑھ سال سے ایک روزہ کرکٹ میں اچھی کارکردگی دکھا رہی ہے اور ’گزشتہ سال ہم ون ڈے رینکنگ میں نمبر ایک بھی رہے اس لیے ہم اس سیریز کو جیتنے کے لیے بہت پر اعتماد ہیں۔‘

انہوں نے اپنی ٹیم کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ان کی ’ٹیم ون ڈے کرکٹ کی ایک اچھی ٹیم ہے اور تمام کھلاڑی با صلاحیت ہیں اور ہمیں اپنی قابلیت پر اعتماد ہے اور اسی اعتماد کے بل بوتے پر ہم میدان میں اتریں گے۔‘

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی ٹیم ٹیسٹ سیریز کے بعد کم بیک کرنے کی کوشش کرے گی اور انہیں ہوم گراؤنڈ اور ہوم کراؤڈ کا فائدہ بھی ہوگا اور ٹوئنٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں کارکردگی کے سبب بھی پاکستان کی ٹیم کا اعتماد بڑھا ہوگا۔

’اس کے علاوہ پاکستان کی ٹیم میں کافی اچھے کھلاڑی ہیں اور ہم انہیں آسان نہیں سمجھیں گے اور شروع ہی سے کوشش کریں گے کہ آغازہی میں ان کو دباؤ میں لے آئیں۔ ہماری ٹیم نے تیاری کر رکھی ہے اور ہم اعتماد سے میدان میں داخل ہوں گے۔‘

سمتھ کے مطابق ون ڈے سیریز میں میچوں کے درمیان وقفہ کم ہونے کے سبب آرام کا موقع نہیں ملے گا جس کا اثر پڑ سکتا ہے۔ گریم سمتھ نے کہا کہ ون ڈے میں 34 اوورز کے بعد نیا بال ملنے کے قانون کی بابت وہ کچھ نہیں کہہ سکتے جب وہ اس قانون کے ساتھ کھیلیں گے تو ہی کچھ کہہ سکیں گے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد