ٹوئنٹی ٹوئنٹی: پاکستان فائنل میں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ورلڈ کپ 92 کے فاتح پاکستان نے پہلے ٹوئنٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے فائنل میں کھیلنے کا اعزاز حاصل کرلیا۔ ہفتے کو کیپ ٹاؤن کے نیولینڈز گراؤنڈ پر کھیلے گئے سیمی فائنل میں بھی عمدہ کارکردگی دکھاتے ہوئے پاکستانی ٹیم نے نیوزی لینڈ کو6 وکٹوں سے شکست دے دی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ورلڈ کپ 92 کے سیمی فائنل میں بھی پاکستان نے نیوزی لینڈ کو شکست دی تھی۔ نیولینڈز میں پاکستان کی اس جیت کا سہرا بولرز کے سر جاتا ہے جنہوں نے نظم وضبط سے بولنگ کرتے ہوئے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کرنے والی نیوزی لینڈ کی ٹیم کو مقررہ بیس اوورز میں 9 وکٹوں پر143 رنز سے آگے نہیں بڑھنے دیا۔ عمرگل نے اپنی تمام تر صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے ذہانت سے بولنگ کی اور صرف پندرہ رنز دے کر تین وکٹیں حاصل کیں۔ عمر گل کو مین آف دی میچ قرار دیا گیا۔ فواد عالم نے ٹورنامنٹ میں ملنے والے پہلے موقع سے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے دو وکٹیں حاصل کیں۔ جواب میں عمران نذیر کی جارحانہ بیٹنگ سے حوصلہ پاتے ہوئے پاکستان نے مطلوبہ اسکور 19 ویں اوور میں پورا کرلیا۔
عمران نذیر نے پٹھا کھچ جانے کے بعد رنر کی مدد سے بیٹنگ کی اور اپنے مخصوص انداز میں بیٹنگ کرتے ہوئے پانچ چھکوں اور تین چوکوں کی مدد سے59 رنز اسکور کیے۔ عمران نذیر اور محمد حفیظ نے پہلی وکٹ کی شراکت میں 60 رنز کا اضافہ کیا۔ اس سے قبل نیوزی لینڈ کی اننگز میں لو ونسنٹ اور برینڈن مک کیولم کی اوپننگ شراکت پچاس رنز کی رہی۔ ونسنٹ سلمان بٹ کی جگہ ٹیم میں شامل کیے جانے والے لیفٹ آرم اسپنر فواد عالم کی گیند پر انہی کو کیچ دے گئے۔ انہوں نے ایک چھکے اور ایک چوکے کی مدد سے28 رنز بنائے۔ شاہد آفریدی نے مک کیولم کو 26 رنز کے انفرادی اسکور پر ایل بی ڈبلیو کیا تو نیوزی لینڈ کا اسکور 74 رنز تھا۔ یہ اس ٹورنامنٹ میں شاہد آفریدی کی12 ویں وکٹ تھی۔ بھارت کے خلاف سیمی فائنل سے قبل آسٹریلیا کے اسٹورٹ کلارک کی وکٹوں کی تعداد بھی12 ہے۔
85 کے اسکور پر اسکاٹ اسٹائرس کی وکٹ بھی پاکستان کو مل گئی جو 18 رنز بناکر عمرگل کی گیند پر سہیل تنویر کے ہاتھوں کیچ ہوگئے۔ عمرگل نے اسی اوور میں پیٹر فولٹن کو بھی شعیب ملک کے ہاتھوں کیچ کرا کر پویلین کا راستہ دکھا دیا جو صرف 10 رنز بنا سکے۔ اس ٹورنامنٹ میں سب سے زیادہ13 چھکے لگانے والے خطرناک کریگ مک ملن کی قیمتی وکٹ پر پاکستانی کھلاڑیوں کی خوش دیکھنے لائق تھی۔ وہ ایک چوکے اور ایک چھکے کی مدد سے12 رنز بنا کر فواد عالم کی گیند پر یونس خان کے ہاتھوں کیچ ہوگئے۔ اس طرح نیوزی لینڈ کی آدھی ٹیم 104 رنز پر پویلین میں جاچکی تھی۔ عمرگل نے اپنی عمدہ بولنگ جاری رکھتے ہوئے جیکب اورم کو بھی صرف ایک رن پر کامران اکمل کے ہاتھوں کیچ کرا دیا۔ کپتان ڈینئل ویٹوری بغیر کوئی گیند کھیلے راس ٹیلر کے رن پر نان اسٹرائکر اینڈ پر آفریدی کی تھرو پر رن آؤٹ ہوگئے۔ شین بونڈ بھی4 رنز پر رن آؤٹ ہوئے۔ راس ٹیلر37رنز بنا کر ناٹ آؤٹ رہے۔ محمد آصف کے آخری اوور میں انہوں نے دو چوکوں اور ایک چھکے کی مدد سے17 رنز بنائے۔ آخری گیند پر کامران اکمل نے ان کا آسان کیچ ڈراپ کر دیا۔ |
اسی بارے میں پاکستان فیورٹ ہے: وسیم اکرم21 September, 2007 | کھیل بنگلہ دیش سری لنکا سے ہار گیا19 September, 2007 | کھیل تھکاوٹ کا شکار ہوگئے تھے، شعیب ملک20 September, 2007 | کھیل سیمی فائنل: انڈیا بمقابلہ آسٹریلیا 20 September, 2007 | کھیل یوراج، چھ چھکے، انڈیا کی جیت 19 September, 2007 | کھیل ٹوئنٹی ٹوئنٹی ٹرافی ہندوستان کی15 September, 2007 | کھیل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||