BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 12 August, 2007, 12:14 GMT 17:14 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بہتر ٹینس کےلیے بہترنظام ضروری

اعصام الحق
اعصام سنگلز میں 154 نمبر پر آ گئے ہیں
پاکستان میں ٹینس کے سٹار کھلاڑی اعصام الحق کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ٹینس کی ترقی کے لیے نظام کو بہترکرنا ضروری ہے۔جس کے لیےکھلاڑیوں کو سہولتیں اور انعام دیے جائیں جن کے سبب وہ محنت کریں۔ دوسری صورت میں ٹینس کا معیار مزید گر سکتا ہے۔

اس سال ومبلڈن اوپن میں شرکت کے بعد اعصام الحق متعدد ٹورنامنٹس کھیل کر چند دن کے لیے پاکستان آئے تھے اور ہفتے کے روز یو ایس اوپن کا کوالیفائنگ راؤنڈ کھیلنے کے لیے امریکہ روانہ ہو گئے۔

روانگی سے پہلے بی بی سی کے ساتھ ایک خصوصی بات چیت میں اعصام الحق نے بتایا کہ ومبلڈن کے لیے کوالیفائی کرنا ان کی زندگی کا ناقابل فراموش لمحہ تھا اور اس خوشی کو وہ لفظوں میں بیان نہیں کر سکتے۔

انہوں نے کہا کہ انہیں آٹھ سال لگے ومبلڈن کے مین راؤنڈ کے لیے کوالیفائی کرنے میں۔ ان کی یہ بہت بڑی خواہش تھی اور آخر یہ خواہش پوری ہوئی۔

ومبلڈن کے لیے کوالیفائی راؤنڈ کھیلنے سے پہلے اعصام کی سنگلز میں عالمی رینکنگ 315 تھی اور ومبلڈن کے لیے کوالیفائی کرنے کے بعد ان کی رینکنگ 200 ہوگئی۔

اس کے بعد انہوں نے لگاتار تین اے ٹی پی چیلنجرز ٹورنامنٹ کھیلے جن میں انہوں نے اپنے بھارتی ساتھی روہن بھوپانہ کے ساتھ مل کر ڈبلز مقابلے جیتے۔

 اعصام الحق کا کہنا ہے کہ انہیں امید ہے کہ اس سال کے آخر تک وہ عالمی رینکنگ میں پہلے سو کھلاڑیوں میں آنے کا اپنا ہدف حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے

اعصام الحق نے بتایا کہ یوایس میں انہوں نے ہال آف فیم نامی ٹورنامنٹ کے لیے کوالیفائی کیا اور علمی نمبر 25 مارڈی فش کو شکست دی جو بہت بڑی کامیابی تھی۔

اعصام الحق نے بتایا کہ ان سب ٹورنامنٹس کو جیتنے کے بعد ان کی عالمی رینکنگ مزید بہتر ہوئی اور وہ سنگلز میں 154 نمبر پر آ گئے۔

اعصام الحق کا کہنا ہے کہ انہیں امید ہے کہ اس سال کے آخر تک وہ عالمی رینکنگ میں پہلے سو کھلاڑیوں میں آنے کا اپنا ہدف حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔

ایک طرف اعصام الحق ٹینس کے پیشہ ور سرکٹ میں کامیابیاں حاصل کر رہے ہیں اور دوسری جانب پاکستان میں مجموعی طور پر ٹینس کا گراف گر رہا ہے پاکستان نے دو سال پہلے ڈیوس کپ مقابلوں میں ورلڈ گروپ کے لیے کوالیفائی کر لیا تھا اب حالات یہ ہیں کہ کمزور ٹیم پیسفک اوشیانہ سے ہار کر تیسرے گروپ میں چلا گیا۔

اعصام الحق کا کہنا ہے کہ یہ کافی افسوسناک صورتحال ہے۔انہوں نے کہا کہ وہ گزشتہ دو ڈیوس کپ ٹائی نہیں کھیل سکے ایک میں ان کی ذاتی مصروفیات تھیں اور دوسری مرتبہ انہوں نے محسوس کیا کہ پاکستان ٹینس فیڈریشن والے انہیں مناسب عزت نہیں دے رہے جو ایک کھلاری کو ملنی چاہیے۔

اعصام
’ہمیشہ صرف ایک کھلاڑی پر انحصار نہیں کیا جا سکتا‘

انہوں نے کہا کہ ٹینس فیڈریشن کا خیال تھا کہ پیسفک اوشینا کی ٹیم بہت کمزور ہے اور وہ اعصام کے بغیر ہی یہ ٹائی جیت جائیں گے لیکن پاکستانی ٹیم یہ ٹائی بھی نہ جیت سکی جس کے سبب پاکستان کافی عرصے کے بعد تیسرے گروپ میں چلا گیا۔

انہوں نے کہا کہ ہمیشہ صرف ایک کھلاڑی پر انحصار تو نہیں کیا جا سکتا۔
اعصام الحق نے کہا کہ کہ وہ کافی عرصے سے ٹینس فیڈریشن کو کہہ رہے ہیں کہ جونیئر کھلاڑیوں کی تربیت کریں اورانہیں سہولتیں دیں تاکہ ٹیلنٹ کا صحیح استعمال ہو سکے۔

اعصام الحق نے کہا کہ وہ تو ملک کی خدمت کر رہے ہیں اوران کی خواہش ہے کہ جیسے کرکٹ کے بڑے کھلاڑیوں کے سبب بچے کرکٹ کی طرف آتے ہیں اسی طرح وہ بچوں کے لیے رول ماڈل بنیں اور وہ ٹینس کی طرف بھی آئیں۔

اعصام نے کہا کہ وہ تو ملک کا نام روشن کرنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن کچھ لوگ ان کو بدنام کر رہے ہیں کہ اعصام نے پیسے کی وجہ سے ملک کے لیے ڈیوس کپ میں شرکت نہیں کی جو کہ ایک الزام ہے۔

اسی بارے میں
ڈیوس کپ: پاکستان کی فتح
27 September, 2004 | کھیل
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد