پاکستان کے کھلاڑی اور کلے کورٹ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ٹینس کی تاریخ میں پاکستان پہلی مرتبہ ڈیوس کپ کے ورلڈ گروپ کوالیفائنگ راؤنڈ میں پہنچا ہے۔ تو کیا اب ڈیوس کپ کے ورلڈ گروپ میں پہنچنے کا اس کا خواب شرمندہء تعبیر ہو سکتا ہے؟ انٹرنیشنل ٹینس فیڈریشن کے ڈراز کے مطابق ورلڈ گروپ کے کوالیفائنگ راؤنڈ میں پاکستان کا مقابلہ چلی کے ساتھ ہو گا۔ دونوں ہی ملکوں کے لیے یہ اہم ٹائی ستمبر میں چلی کے شہر سینتی آگو میں کھیلی جائے گی۔ ڈیوس کپ کے قوائد و ضوابط کے تحت جس ملک میں ٹائی کھیلی جاتی ہے اس کی فیڈریشن کو یہ حق ہوتا ہے کہ وہ اپنی مرضی کے کورٹ پر یہ مقابلہ کروائے۔ پاکستان میں کلے کورٹس کی تعداد بہت کم ہے اور پاکستان کے سٹار ٹینس کھلاڑی اعصام الحق کلے کورٹ پر کھیلنے کا بہت کم تجربہ رکھتے ہیں۔ یہی دونوں کھلاڑی پاکستان کی ٹینس میں قوت ہیں۔یہی وجہ ہے کہ پاکستان نے تھائی لینڈ اور چائنیز تائپے کو گزشتہ دو معرکوں میں گراس کورٹ پر کھلوایا اور اسی لیے پاکستان ڈیوس کپ کے ورلڈ گروپ کے کوالیفائنگ راؤنڈ میں پہنچ سکا۔ نہ صرف یہ کہ پاکستان کو چلی کے خلاف ہوم گراؤنڈ اور ہوم کراؤڈ کا تجربہ حاصل نہیں ہوگا بلکہ ان کے مد مقابل کھلاڑي بھی خاصے زبردست ہوں گے۔ پاکستان کے سٹار ٹینس کھلاڑی اعصام کا کہنا ہے کہ یہ دونوں کھلاڑی ماسو اور گنزالس بہت سخت حریف ہیں اور ان سے ہمارا مقابلہ سرخ کلے کورٹ پر ہو گا اور ہمارے ملک میں ایسے کورٹس نہ ہونے کے برابر ہیں۔ اعصام نے کہا کہ انہیں بین الاقوامی ٹورنامنٹس میں مصروفیت کے سبب کلے کورٹ پر پریکٹس کرنے کا موقع نہیں ملے گا۔ انہوں نے کہا کہ ’فیڈریشن کو چاہیے کہ ہمیں چلی ٹائی سے دس دن پہلے بھیجے تاکہ ہم وہاں کے موسم اور کورٹ سے آشنا ہو سکیں‘۔ انہوں نے کہا کا یہ ٹائی جیتنا ایک بہت مشکل بلکہ نا ممکن کام لگتا ہے۔ پاکستان کہ نمبر دو عقیل خان کا کہنا تھا کہ چلی کے کھلاڑي بہترین ہیں اور یہ ہمارے لیے اور ہماری ٹیم کے دوسرے کھلاڑیوں کے لیے بہت سود مند تجربہ رہے گا اور جہاں تک جیتنے کا تعلق ہے یہ جوئے شیر لانے کے مترادف ہو گا۔ عقیل خان نے کہا کہ ہماری کوشش ہو گی کہ یہ ٹائی یک طرفہ نہ رہے اور ہم چلی کے کھلاڑیوں کو سخت مقابلہ دیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||