عالمی کوالیفائنگ راؤنڈ میں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کی ٹینس کی تاریخ میں اتوار کو ایک نئے باب کا اضافہ ہوا جب پاکستان کی ٹینس ٹیم نے ڈیوس کپ کے ورلڈ گروپ کے کوالیفائنگ راؤنڈ کھیلنے کے لیے کوالیفائی کر لیا۔ اس سے پہلے کبھی پاکستان کی کوئی ٹینس ٹیم یہ اعزاز حاصل نہ کر سکی تھی۔ تیس اپریل کا ڈبلز مقابلہ جیتنے کے بعد جب پاکستانی سٹار ٹینس کھلاڑی اعصام الحق آج کورٹ میں اترے تو انتہائی پر اعتماد تھے۔ اعصام نے چائنیز تائپے کے نمبر ایک کھلاڑی لو ین کو تین سٹریٹ سیٹس سے ہرایا۔ اعصام نے پہلا سیٹ 3/6 سے جیتا۔دوسرے سیٹ میں 4/6 سے فتح حاصل کی اور تیسرے سیٹ میں بھی بڑی آسانی سے لو ین کو 3/6 کے واضح فرق سے ہرایا۔ اعصام اپنی اس کامیابی پر بے انتہا خوش تھے ان کا کہنا تھا کہ ان کے پاس الفاظ نہیں کہ وہ اپنے احساسات بیان کر سکیں۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے لیے یہ اچھا موقع ہے کہ وہ ورلڈ گروپ کا کوالیفائنگ راؤنڈ جیت کو ورلڈ گروپ میں جائے اس کے لیے فیڈریشن کو ہماری ٹینس ٹیم کو زیادہ سے زیادہ بین الاقوامی تجربہ دینا چاہیے اور ہماری فٹ نس کا خیال رکھنا چاھیے۔ پاکستان کے عقیل خان نے چائنیز تائپے کے نمبر تین کھلاڑی چنٹی سے ٹائی کا آخری میچ ایک کے مقابلے دو سیٹ سے جیت لیا۔ عقیل خان نے کہا کہ یہ ان کی زندگی کا سب سے خوشگوار لمحہ ہے اور یہ بڑی خوشی کی بات ہے کہ جب بھی کبھی ورلڈ گروپ کے پلے آف کے لیے کوالیفائی کرنے کا ذکر ہو گا تو ہماری موجودہ ٹیم ہی کا نام لیا جائے گا۔ انہوں نے اس کامیابی کا حقدار اعصام الحق کو ٹھہرایا جبکہ اعصام اس کامیابی میں عقیل کو برابر کا حقدار سمجھتے ہیں۔ دونوں کھلاڑیوں کا مطالبہ تھا کہ ٹینس فیڈریشن کو چاھیے کہ ٹیم کے جونئر کھلاڑیوں کو بھی بین القوامی تجربہ دیں تاکہ مستقبل میں اگر صرف ان دونوں پر ہی انحصار نہ کیا جائے۔ ان دونوں کھلاڑیوں کی وجہ سے پاکستان نے سعودی عرب میں ہونے والی پہلی اسلامک گیمز میں بھی تین گولڈ میڈل حاصل کیے تھے اور چون ممالک کی ان کھیلوں میں گیارویں پوزیشن حاصل کی تھی تاہم ان دونوں کھلاڑیوں کی ابھی تک تو سرکاری سطح پر کوئی پذیرائی نہیں ہوئی اور نہ ہی کسی بڑے انعام کا اعلان کیا گیا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||