BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 01 May, 2005, 13:11 GMT 18:11 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
عالمی کوالیفائنگ راؤنڈ میں

News image
پاکستانی کھلاڑی اعصام الحق
پاکستان کی ٹینس کی تاریخ میں اتوار کو ایک نئے باب کا اضافہ ہوا جب پاکستان کی ٹینس ٹیم نے ڈیوس کپ کے ورلڈ گروپ کے کوالیفائنگ راؤنڈ کھیلنے کے لیے کوالیفائی کر لیا۔

اس سے پہلے کبھی پاکستان کی کوئی ٹینس ٹیم یہ اعزاز حاصل نہ کر سکی تھی۔
چائنیز تائپے کے خلاف ڈیفنس کلب لاہور میں ہونے والے ایشیاء اوشینا گروپ ون کی اس اہم ٹائی میں پاکستان نے پانچ میں سے چار میچز میں فتح حاصل کی اور یوں پاکستان نے ورلڈ گروپ کے پلے آف کے لیے کوالیفائی کر لیا۔

تیس اپریل کا ڈبلز مقابلہ جیتنے کے بعد جب پاکستانی سٹار ٹینس کھلاڑی اعصام الحق آج کورٹ میں اترے تو انتہائی پر اعتماد تھے۔

اعصام نے چائنیز تائپے کے نمبر ایک کھلاڑی لو ین کو تین سٹریٹ سیٹس سے ہرایا۔

اعصام نے پہلا سیٹ 3/6 سے جیتا۔دوسرے سیٹ میں 4/6 سے فتح حاصل کی اور تیسرے سیٹ میں بھی بڑی آسانی سے لو ین کو 3/6 کے واضح فرق سے ہرایا۔
اعصام الحق کی اس جیت سے پاکستان ٹائی جیت گیا۔

اعصام اپنی اس کامیابی پر بے انتہا خوش تھے ان کا کہنا تھا کہ ان کے پاس الفاظ نہیں کہ وہ اپنے احساسات بیان کر سکیں۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے لیے یہ اچھا موقع ہے کہ وہ ورلڈ گروپ کا کوالیفائنگ راؤنڈ جیت کو ورلڈ گروپ میں جائے اس کے لیے فیڈریشن کو ہماری ٹینس ٹیم کو زیادہ سے زیادہ بین الاقوامی تجربہ دینا چاہیے اور ہماری فٹ نس کا خیال رکھنا چاھیے۔

پاکستان کے عقیل خان نے چائنیز تائپے کے نمبر تین کھلاڑی چنٹی سے ٹائی کا آخری میچ ایک کے مقابلے دو سیٹ سے جیت لیا۔

عقیل خان نے کہا کہ یہ ان کی زندگی کا سب سے خوشگوار لمحہ ہے اور یہ بڑی خوشی کی بات ہے کہ جب بھی کبھی ورلڈ گروپ کے پلے آف کے لیے کوالیفائی کرنے کا ذکر ہو گا تو ہماری موجودہ ٹیم ہی کا نام لیا جائے گا۔

انہوں نے اس کامیابی کا حقدار اعصام الحق کو ٹھہرایا جبکہ اعصام اس کامیابی میں عقیل کو برابر کا حقدار سمجھتے ہیں۔

دونوں کھلاڑیوں کا مطالبہ تھا کہ ٹینس فیڈریشن کو چاھیے کہ ٹیم کے جونئر کھلاڑیوں کو بھی بین القوامی تجربہ دیں تاکہ مستقبل میں اگر صرف ان دونوں پر ہی انحصار نہ کیا جائے۔

ان دونوں کھلاڑیوں کی وجہ سے پاکستان نے سعودی عرب میں ہونے والی پہلی اسلامک گیمز میں بھی تین گولڈ میڈل حاصل کیے تھے اور چون ممالک کی ان کھیلوں میں گیارویں پوزیشن حاصل کی تھی تاہم ان دونوں کھلاڑیوں کی ابھی تک تو سرکاری سطح پر کوئی پذیرائی نہیں ہوئی اور نہ ہی کسی بڑے انعام کا اعلان کیا گیا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد