کھلاڑیوں کے ڈوپ ٹیسٹ کا فیصلہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کرکٹ بورڈ نے ٹوئنٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے تیس ممکنہ کھلاڑیوں کے ڈوپ ٹیسٹ کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔ پہلا ٹوئنٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ گیارہ سے چوبیس ستمبر تک جنوبی افریقہ میں ہو رہا ہے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے ڈائریکٹر کرکٹ آپریشنز ذاکر خان نے بی بی سی کو بتایا کہ ڈوپ ٹیسٹ کے بارے میں پاکستان کرکٹ بورڈ کی پالیسی واضح ہے اور وہ گزشتہ پانچ سال سے اس پر عمل کر رہا ہے تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ یہ ڈوپ ٹیسٹ لاہور میں جاری کیمپ کے دوران ہوں گے یا کراچی میں کیمپ کے تیسرے مرحلے کے موقع پر کھلاڑی اس عمل سے گزریں گے۔ ذاکر خان سے جب پوچھا گیا کہ کیا یہ ڈوپ ٹیسٹ بھی پاکستان کرکٹ بورڈ کے ڈوپنگ کے اپنے قواعد ضوابط کے تحت ہوں گے تو ان کا کہنا تھا کہ اس بارے میں بورڈ اپنے قانونی ماہرین سے صلاح مشورے میں مصروف ہے۔ واضح رہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ فاسٹ بولرز شعیب اختر اور محمد آصف کے خلاف ڈوپنگ کیس جیت چکا ہے۔ دونوں بولرز کا ڈوپ ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ نے انہیں آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی سے دستبردار کرالیا تھا اور ایک کمیشن تشکیل دے دیا تھا جس نے شعیب اختر کو دوسال اور محمد آصف کو ایک سال کی پابندی کی سزا سنائی تھی تاہم پاکستان کرکٹ بورڈ کی اپیل کمیٹی نے جس کے سربراہ جسٹس ( ریٹائرڈ) فخرالدین جی ابراہیم تھے دونوں بولرز کو بری کردیا تھا۔ ورلڈ اینٹی ڈوپنگ ایجنسی (واڈا) نے اس فیصلے کو کھیلوں کی عالمی ثالثی عدالت میں چیلنج کیا تھا لیکن فیصلہ دونوں بولرز کے حق میں سامنے آیا ہے۔ واڈا کے قوانین کے تحت کوئی بھی کرکٹر جس کا ڈوپ ٹیسٹ مثبت پایا گیا ہو اپیل کے عرصے میں کھیلنے کا اہل نہیں ہوتا لیکن چونکہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے شعیب اختر اور محمد آصف کے معاملے میں یہ موقف اختیار کیا تھا کہ اس کیس کا تعلق واڈا سے نہیں بلکہ اس کے اپنے قواعد ضوابط سے تھا لہذا دونوں بولرز جنوبی افریقہ کے خلاف سیریز میں ایکشن میں نظر آئے تھے۔ شعیب اختر اور محمد آصف کا ورلڈ کپ سکواڈ میں شامل کیے جانے کے بعد ٹیم کی ویسٹ انڈیز روانگی سے قبل اچانک ڈراپ کیا جانا بھی کرکٹ کے حلقوں میں حیرانگی کا سبب بنا تھا اور اس فیصلے کو دونوں بولرز کی فٹنس سے زیادہ ڈوپنگ کا اثر زیادہ سمجھا گیا تھا۔ کچھ حلقوں نے ان خیالات کا اظہار بھی کیا تھا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے ورلڈ کپ سے قبل خفیہ ڈوپ ٹیسٹ کرواکر یہ معلوم ہونے کے بعد کہ دونوں بولرز کے جسم میں بدستور ممنوعہ قوت بخش ادویات کا اثر موجود ہے انہیں ورلڈ کپ سکواڈ سے باہر کیا تھا تاہم پاکستان کرکٹ بورڈ نے ان قیاس آرائیوں کی تردید کی تھی۔ آئی سی سی کے تحت ہونے والے تمام بین الاقوامی کرکٹ ٹورنامنٹس میں ڈوپ ٹیسٹ لازمی ہے۔ |
اسی بارے میں بڑے ناموں کے بغیرٹوئنٹی 20 کپ24 February, 2006 | کھیل ٹوئنٹی ٹوئنٹی میچ، ایشیا الیون کی فتح05 June, 2007 | کھیل کرکٹ بھی ڈوپنگ تنازعات کی لپیٹ میں17 October, 2006 | کھیل سب کھلاڑیوں سے اچھے تعلقات ہیں: شعیب19 April, 2007 | کھیل جیتنے کیلیے بالر اہم ہیں: شعیب28 April, 2007 | کھیل شعیب کی پاکستانی ٹیم میں واپسی16 June, 2007 | کھیل شعیب، آصف: واڈا کی اپیل مسترد02 July, 2007 | کھیل فٹنس یا ڈوپنگ، حقیقت کیا ہے؟01 March, 2007 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||