BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 24 February, 2006, 00:09 GMT 05:09 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بڑے ناموں کے بغیرٹوئنٹی 20 کپ

ٹوئنٹی 20 ٹورنامنٹ: فائل فوٹو
پہلے ٹوئنٹی 20 ٹورنامنٹ کو بڑی پذیرائی ملی تھی
پاکستانی کرکٹ کی تاریخ کا دوسرا ٹوئنٹی20 کپ جمعہ سے کراچی میں شروع ہو رہا ہے۔ گویا ایک بار پھر رنگ برنگ پیرہن اور دلچسپ ناموں والی ٹیمیں اگلے دس روز تک تماشائیوں کو تیز رفتار کرکٹ کے حصار میں لینے کے لیے تیار ہیں۔

گزشتہ سال پاکستانی کرکٹ کی تاریخ کا پہلا ٹوئنٹی 20 کپ لاہور میں کھیلا گیا تھا جسے بے پناہ مقبولیت ملی تھی۔ وہ ٹورنامنٹ فیصل آباد کی ٹیم نے جیتا تھا جس نے بعد میں لیسٹرانگلینڈ میں ہونے والے انٹرنیشنل ٹوئنٹی 20 کپ میں بھی کامیابی حاصل کی۔

دوسرے ٹوئنٹی 20 کپ میں تیرہ ٹیمیں شریک ہیں لیکن اس ٹورنامنٹ میں شعیب اختر، شاہد آفریدی اور انضمام الحق جیسے بڑے نام نہیں کھیل رہے۔ یہ تینوں کھلاڑی فٹنس کے مسائل میں الجھے ہوئے ہیں۔ ان کے علاوہ فاسٹ بولر عمرگل بھی ٹورنامنٹ سے باہر رہیں گے۔

ٹوئنٹی20 کپ کا انعقاد ایک ایسے وقت ہورہا ہے جب پاکستانی ٹیم بھارت کے ہاتھوں ون ڈے سیریز ہارچکی ہے جبکہ دوسری جانب پاکستان کرکٹ بورڈ نے بھارتی کرکٹ بورڈ کے ساتھ ہم آواز ہوکر ٹوئنٹی 20 کپ کے عالمی مقابلے میں شرکت سے انکار کردیا ہے۔

کیا یہ تضاد نہیں کہ ایک جانب قومی سطح پر پاکستان کرکٹ بورڈ ٹوئنٹی20 کپ منعقد کررہا ہے جبکہ دوسری جانب وہ بین الاقوامی سطح پر اس کرکٹ میں حصہ لینے کے لیے تیار نہیں؟ پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین شہریارخان یہ ماننے کے لئے تیار نہیں کہ یہ تضاد ہے۔

شہریارخان کا کہنا ہے کہ دوسرے ممالک میں ٹوئنٹی ٹوئنٹی کپ کافی عرصے سے جاری ہے جبکہ ہمارے یہاں ابھی اس کی ابتدا ہے جب تک ہم اس معیار پر نہیں آجاتے جہاں دوسرے ممالک ہیں پاکستان بین الاقوامی مقابلوں میں حصہ نہیں لے سکتا۔

شہریارخان کا کہنا ہے کہ انگلینڈ آسٹریلیا وغیرہ میں ٹوئنٹی ٹوئنٹی کپ کا مقابلہ دوسرے کھیلوں سے ہے لہذا اسے تماشائیوں کی توجہ حاصل کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے جبکہ پاکستان میں کرکٹ ہی سب سے زیادہ مقبول کھیل ہے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے چئرمین کے مطابق اس مختصر دورانیئے کی کرکٹ کا فائدہ صرف فیلڈنگ اور وکٹوں کے درمیان رننگ بہتر کرنے کے لیے ہے۔ ’اس ٹائپ کی کرکٹ بیٹنگ تیکنیک کو بہتر نہیں کرسکتی‘۔

دنیا کے متعدد ممالک میں ٹوئنٹی ٹوئنٹی کپ کو زبردست پذیرائی ملی ہے لیکن بعض تجزیہ نگار اسے کرکٹ کی فاسٹ فوڈ شکل قرار دیتے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد