آسٹریلوی سکیورٹی ٹیم کی آمد | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کا دورہ کرنے والی غیرملکی ٹیمیں ماضی میں سکیورٹی کے خدشات کا اظہار کرتی رہی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے دوروں سے قبل ان ممالک کے سکیورٹی ماہرین کی پاکستان آمد اور سکیورٹی کے معاملات کا جائزہ لینا معمول بن گیا ہے۔ انٹرنیشنل ہاکی فیڈریشن کے دو رکنی سکیورٹی وفد نے گزشتہ دنوں پاکستان کا دورہ کیا۔ اس دورے کا تعلق دسمبر میں ہونے والی چیمپئنز ٹرافی سے تھا جبکہ آسٹریلوی جونیئر ٹیموں کے پاکستان آنے سے قبل ان کے سکیورٹی ماہرین کی چار رکنی ٹیم آئندہ ہفتے پاکستان آرہی ہے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ اور پاکستان ہاکی فیڈریشن کے اعلیٰ حکام ان دوروں کو معمول کے مطابق قرار دے رہے ہیں۔ پاکستان ہاکی فیڈریشن کے سیکریٹری خالد محمود نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ایف آئی ایچ کی یہ پالیسی ہے کہ جہاں بھی کوئی بڑا ٹورنامنٹ منعقد ہوتا ہے، وہاں اس کا وفد دورہ کرکے سکیورٹی اور دیگر سہولتوں کا جائزہ لیتا ہے۔ ایف آئی ایچ کا وفد پاکستان سے مطمئن ہو کر گیا ہے اور اس نے سکیورٹی کے سلسلے میں کسی قسم کی تشویش ظاہر نہیں کی ہے۔ آسٹریلوی ہاکی ٹیم کی چیمپئنز ٹرافی میں عدم شرکت کے بارے میں خالد محمود نے کہا کہ ایف آئی ایچ نے ابھی تک چیمپئنز ٹرافی میں ٹیموں کی شرکت کے بارے میں ڈیڈ لائن مقرر نہیں کی ہے لہذا اس مرحلے پر جو بھی باتیں ہورہی ہیں، وہ محض قیاس آرائیاں ہیں۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کی ایڈہاک کمیٹی کے سربراہ ڈاکٹر نسیم اشرف بھی مطمئن ہیں کہ نئے کرکٹ سیزن کو سکیورٹی کے ضمن میں کوئی خطرہ لاحق نہیں ہے۔ وہ آسٹریلوی سکیورٹی ماہرین کے دورۂ پاکستان کو معمول کا حصہ سمجھتے ہیں۔ آسٹریلوی سکیورٹی ماہرین کی ایک ٹیم آئندہ ہفتے پاکستان پہنچ رہی ہے۔ اس کے اس دورے کا مقصد ستمبر اور اکتوبر میں پاکستان کے دورے پر آنے والی آسٹریلوی اے اور انڈر19 کرکٹ ٹیموں کے لیے کیے جانے والے حفاظتی انتظامات اور دیگر سہولتوں کا جائزہ لینا ہے۔ آسٹریلوی انڈر19 کرکٹ ٹیم پاکستان کے دورے میں عالمی جونیئر چیمپئن پاکستانی ٹیم کے خلاف پانچ ون ڈے میچز کھیلے گی۔ اس سے قبل یہ ٹیم ملائیشیا میں دو وارم اپ میچ کھیلے گی۔ ملائیشیا آئندہ سال فروری میں جونیئر ورلڈ کپ کی میزبانی کرنے والا ہے۔ پاکستان آنے والے سکیورٹی وفد میں سکیورٹی ماہر ریگ ڈ کسن کے علاوہ آسٹریلین کرکٹ بورڈ اور پلیئرز ایسوسی ایشن کے حکام بھی شامل ہیں۔ واضح رہے کہ آسٹریلیا کی سینئر کرکٹ ٹیم نے بھی آئندہ سال مارچ اپریل میں پاکستان کا دورہ کرنا ہے۔ آسٹریلوی کرکٹ ٹیم آخری بار1998 میں پاکستان کے دورے پر آئی تھی۔ اسے2002 میں بھی پاکستان آنا تھا لیکن سکیورٹی کے خدشات کے پیش نظر اس نے پاکستان کا دورہ کرنے سے انکار کردیا تھا اور پاکستان کو تین ٹیسٹ میچوں کی سیریز کولمبو اور شارجہ میں کھیلنی پڑی تھی۔ | اسی بارے میں سنوکر اور سکیورٹی کے خدشات20 November, 2004 | کھیل سکیورٹی ماہرین نیشنل اسٹیڈیم میں28 June, 2005 | کھیل سخت سکیورٹی میں تیسرا ون ڈے15 December, 2005 | کھیل کراچی میچ کے لیے سخت سکیورٹی 15 December, 2005 | کھیل بھارتی سکیورٹی وفد پاکستان میں25 December, 2005 | کھیل سکیورٹی انتظامات: شدید دشواریاں 19 August, 2006 | کھیل آسٹریلیا کے ’سکیورٹی خدشات‘19 January, 2007 | کھیل سنوکر: ’سکیورٹی کے خدشات نہیں‘ 23 May, 2007 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||