BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 28 April, 2007, 13:51 GMT 18:51 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
آسٹریلیا چوتھی مرتبہ چیمپئن
یہ آسٹریلیا کی مسلسل تیسری فتح ہے
باربیڈوس میں کرکٹ کے نویں عالمی کپ کے فائنل میچ آسٹریلیا نے سری لنکا کو 53 رنز سے ہرا کر چوتھی مرتبہ عالمی کپ جیت لیا ہے۔ اس طرح آسٹریلیا نے لگاتار کپ جیتنے کی ہیٹ ٹرک بھی مکمل کر لی ہے۔

آسٹریلوی جیت میں اہم کردار ایڈم گلکرسٹ کی شاندار سینچری نے ادا کیا جو شاید ایک روزہ میچوں کی بھی سب سے خوبصورت سینچریوں میں سے ایک تھی۔ انہیں مین آف دی میچ کا اعزاز دیا گیا اور مین آف دی ٹورنامنٹ کا اعزاز بین الاقوامی کرکٹ سے ریٹائر ہونے والے گلین میکگرا کو ملا۔

پونٹنگ کی خوشی کی کوئی انتہا نہیں کیونکہ ویسٹ انڈیز کے کلائیو لائیڈز کے بعد پونٹنگ نے لگاتار دوسری مرتبہ ورلڈ کپ اٹھایا

گلکرسٹ نے 104 گیندوں پر 149 رنز بنائے، جس میں آٹھ چھکے اور 13 چوکے شامل تھے۔ وہ انفرادی طور پر ورلڈ کپ کے کسی بھی فائنل میں آج تک بنایا جانے والا سب سے زیادہ سکور تھا۔ اسی طرح گلکرسٹ کی سینچری بھی کسی بھی ورلڈ کپ فائنل میں بنائی جانے والی تیز ترین سینچری تھی۔ ان کی سینچری کی بدولت آسٹریلیا نے مقررہ اوورز میں چار وکٹوں کے نقصان پر 281 رنز بنائے اور سری لنکا کو 7.42 کے حساب سے میچ جیتنے کے لیے 282 رنز کا ٹارگٹ دیا جو خراب روشنی کی وجہ سے 36 اوورز میں 269 کر دیا گیا۔ بارش اور خراب روشنی میچ کو بار بار روکتی رہی۔ ٹاس ایک گھنٹہ لیٹ ہوا اور پھر اس کے بعد میچ شروع ہونے میں بھی تقریباً ڈھائی گھنٹے کی تاخیر ہوئی۔ اس کی وجہ سے اوورز کم کر دیے گئے اور میچ کا فورمیٹ کچھ اس طرح سے بنا کہ تین بولر آٹھ آٹھ اوورز کروا سکیں گے جبکہ دو کو سات سات کروانے پڑیں گے۔

بارش کی وجہ سے تاخیر کے باعث اوورز کو 50 سے کم کر کے 38 کر دیا گیا۔ یہ عالمی کرکٹ کپ کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ فائنل کے اوورز کو کم کیا گیا ہو۔

پاور پلے بھی متاثر ہوا اور تین کی بجائے پاور پلیز کی بجائے پہلے دس اوورز میں ایک اور پھر پانچ اوورز کا ایک رکھا گیا۔

سری لنکا کی اننگز کے آخر میں جب ایمپائر علیم ڈار نے خراب روشنی کے باعث میچ کو ختم کرنے کا اشارہ دیا تو آسٹریلوی ٹیم اور سری لنکن کھلاڑی یہی سمجھے کہ آسٹریلیا میچ جیت گیا ہے۔ میڈیا نے بھی آسٹریلیا کی جیت کی خبریں نشر کر دیں۔ لیکن اسی دوران یہ کہا گیا کہ ابھی تین اوور رہتے ہیں جو آج کی بجائے اگلے روز ہوں۔ پھر دونوں کپتانوں کی مشاورت سے میچ کو انتہائی خراب روشنی میں جاری رکھا گیا۔

ایڈم گلکرسٹ
ایڈم گلکرسٹ نے ورلڈ کپ کے فائنلز کی تاریخ میں سب سے تیز سینچری بنائی
سری لنکا کی اننگز کے دوران بارش اور خراب روشنی کے باعث میچ کو کئی مرتبہ روکنا پڑا اور اوورز اور سکور کو کم کر دیا گیا۔ سری لنکا کی طرف سے اوورز کم کر کے 36 کیے گئے اور ٹارگٹ 281 سے 269 کر دیا گیا۔ لیکن سری لنکا کی ٹیم مقررہ اوررز میں آٹھ وکٹوں کے نقصان پر صرف 215 رنز بنا پائی اور اس طرح ڈک ورتھ لوئس میتھڈ کے باعث سری لنکا یہ میچ 53 رنز سے ہار گیا۔ اس ہار کے ساتھ سری لنکا کا گیارہ برس بعد ایک مرتبہ پھر کرکٹ کا عالمی چیمپئن کا خواب خواب ہی رہ گیا۔

سری لنکا کی طرف سے جے سوریا اور اپل تھارنگا نے اننگز کا آغاز کیا اور سات کے سکور پر ہی سری لنکا کی پہلی وکٹ گر گئی۔ آؤٹ ہونے والے کھلاڑی تھارنگا تھے جو چھ رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔ وہ نیتھن بریکن کی گیند پر وکٹ کیپر گلکرسٹ کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہوئے۔

آغاز ہی میں نقصان کے بعد جے سوریا اور کمارا سنگاکارا نے ذمہ داری سے بیٹنگ کرتے ہوئے سو رنز کی پارٹنر شپ مکمل کی۔

کمارا سنگاکارا اپنی نصف سنچری مکمل کرنے کے فوراً بعد بریڈ ہاگ کی گیند پر رکی پونٹنگ کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہوئے۔ اس سے کچھ ہی دیر بعد جے سوریا کو مائیکل کلارک نے بولڈ کر دیا۔ جے سوریا نے نو چوکوں کی مدد سے 63 رنز بنائے۔ اس وقت مجموعی سکور 145 تھا۔ مجموعی سکور میں صرف گیارہ رنز کے اضافے کے بعد کپتان مہیلا جے وردھنے ایل بی ڈبلیو ہوگئے۔

جے سوریا
جے سوریا نے سری لنکا کو کچھ امید دلائی لیکن وہ اس سے آگے نہ جا سکی

آسٹریلیا کی اننگز میں صرف چار وکٹ گرے۔ آؤٹ ہونے والے آخری کھلاڑی شین واٹسن تھے جو ملنگا کی گیند پر بولڈ ہوئے۔ اس سے قبل کپتان رکی پونٹنگ 37 رنز بنانے کے بعد رن آؤٹ ہو گئے تھے۔

ایڈم گلکرسٹ دھواں دھار بیٹنگ کے بعد 31 ویں اوور میں آٹھ چھکے اور تیرہ چوکے لگانے کے بعد فرنینڈو کی گیند پر سلوا کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہوئے۔

آؤٹ ہونے والے پہلے کھلاڑی ہیڈن تھے جنہیں ملنگا نے آؤٹ کیا۔ ان کا کیچ جے ورددھنے نے پکڑا۔ ہیڈن 38 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔

ہیڈن اور گلکرسٹ کی 172 رنز کی اوپننگ پارٹنرشپ عالمی کپ کی تاریخ میں پہلی وکٹ کی سب سے بڑی پارٹنرشپ ہے۔

سری لنکا کی ٹیم: مہیلا جے وردھنے، سنتھ جے سوریا، اپل تھارنگا، کمارا سنگاکارا، سی سیلوا، ٹی دلشن، رسل آرنلڈ، چمندا واس، فرویز مہاروف، لیستھ ملنگا، میتھویا مرلی دھرن، دلہارا فرنینڈو۔

آسٹریلیا کی ٹیم: ایڈم گلکرسٹ، میتھیو ہیڈن، رکی پونٹنگ، مائیکل کلارک، اینڈی سمنڈز، مائیکل ہسی، شین واٹسن، بریڈ ہاگ، شان ٹیٹ، گلین مکگراتھ، نیتھن بریکن۔

سیٹو بکنر فائنل کے امپائرز
سٹیو بکنر کا پانچواں، علیم ڈار کا پہلا فائنل
مرلی تھرنپہلا سیمی فائنل
نیوزی لینڈ اور سری لنکا کے درمیان میچ
مہیلا جے وردھنےسیمی فائنل میں 115
جے وردھنے کی یادگار سنچری
اسی بارے میں
فائنل سے پہلے فائنل
25 April, 2007 | کھیل
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد