آسٹریلیا چوتھی مرتبہ چیمپئن | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
باربیڈوس میں کرکٹ کے نویں عالمی کپ کے فائنل میچ آسٹریلیا نے سری لنکا کو 53 رنز سے ہرا کر چوتھی مرتبہ عالمی کپ جیت لیا ہے۔ اس طرح آسٹریلیا نے لگاتار کپ جیتنے کی ہیٹ ٹرک بھی مکمل کر لی ہے۔ آسٹریلوی جیت میں اہم کردار ایڈم گلکرسٹ کی شاندار سینچری نے ادا کیا جو شاید ایک روزہ میچوں کی بھی سب سے خوبصورت سینچریوں میں سے ایک تھی۔ انہیں مین آف دی میچ کا اعزاز دیا گیا اور مین آف دی ٹورنامنٹ کا اعزاز بین الاقوامی کرکٹ سے ریٹائر ہونے والے گلین میکگرا کو ملا۔
گلکرسٹ نے 104 گیندوں پر 149 رنز بنائے، جس میں آٹھ چھکے اور 13 چوکے شامل تھے۔ وہ انفرادی طور پر ورلڈ کپ کے کسی بھی فائنل میں آج تک بنایا جانے والا سب سے زیادہ سکور تھا۔ اسی طرح گلکرسٹ کی سینچری بھی کسی بھی ورلڈ کپ فائنل میں بنائی جانے والی تیز ترین سینچری تھی۔ ان کی سینچری کی بدولت آسٹریلیا نے مقررہ اوورز میں چار وکٹوں کے نقصان پر 281 رنز بنائے اور سری لنکا کو 7.42 کے حساب سے میچ جیتنے کے لیے 282 رنز کا ٹارگٹ دیا جو خراب روشنی کی وجہ سے 36 اوورز میں 269 کر دیا گیا۔ بارش اور خراب روشنی میچ کو بار بار روکتی رہی۔ ٹاس ایک گھنٹہ لیٹ ہوا اور پھر اس کے بعد میچ شروع ہونے میں بھی تقریباً ڈھائی گھنٹے کی تاخیر ہوئی۔ اس کی وجہ سے اوورز کم کر دیے گئے اور میچ کا فورمیٹ کچھ اس طرح سے بنا کہ تین بولر آٹھ آٹھ اوورز کروا سکیں گے جبکہ دو کو سات سات کروانے پڑیں گے۔ بارش کی وجہ سے تاخیر کے باعث اوورز کو 50 سے کم کر کے 38 کر دیا گیا۔ یہ عالمی کرکٹ کپ کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ فائنل کے اوورز کو کم کیا گیا ہو۔ پاور پلے بھی متاثر ہوا اور تین کی بجائے پاور پلیز کی بجائے پہلے دس اوورز میں ایک اور پھر پانچ اوورز کا ایک رکھا گیا۔ سری لنکا کی اننگز کے آخر میں جب ایمپائر علیم ڈار نے خراب روشنی کے باعث میچ کو ختم کرنے کا اشارہ دیا تو آسٹریلوی ٹیم اور سری لنکن کھلاڑی یہی سمجھے کہ آسٹریلیا میچ جیت گیا ہے۔ میڈیا نے بھی آسٹریلیا کی جیت کی خبریں نشر کر دیں۔ لیکن اسی دوران یہ کہا گیا کہ ابھی تین اوور رہتے ہیں جو آج کی بجائے اگلے روز ہوں۔ پھر دونوں کپتانوں کی مشاورت سے میچ کو انتہائی خراب روشنی میں جاری رکھا گیا۔
سری لنکا کی طرف سے جے سوریا اور اپل تھارنگا نے اننگز کا آغاز کیا اور سات کے سکور پر ہی سری لنکا کی پہلی وکٹ گر گئی۔ آؤٹ ہونے والے کھلاڑی تھارنگا تھے جو چھ رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔ وہ نیتھن بریکن کی گیند پر وکٹ کیپر گلکرسٹ کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہوئے۔ آغاز ہی میں نقصان کے بعد جے سوریا اور کمارا سنگاکارا نے ذمہ داری سے بیٹنگ کرتے ہوئے سو رنز کی پارٹنر شپ مکمل کی۔ کمارا سنگاکارا اپنی نصف سنچری مکمل کرنے کے فوراً بعد بریڈ ہاگ کی گیند پر رکی پونٹنگ کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہوئے۔ اس سے کچھ ہی دیر بعد جے سوریا کو مائیکل کلارک نے بولڈ کر دیا۔ جے سوریا نے نو چوکوں کی مدد سے 63 رنز بنائے۔ اس وقت مجموعی سکور 145 تھا۔ مجموعی سکور میں صرف گیارہ رنز کے اضافے کے بعد کپتان مہیلا جے وردھنے ایل بی ڈبلیو ہوگئے۔
آسٹریلیا کی اننگز میں صرف چار وکٹ گرے۔ آؤٹ ہونے والے آخری کھلاڑی شین واٹسن تھے جو ملنگا کی گیند پر بولڈ ہوئے۔ اس سے قبل کپتان رکی پونٹنگ 37 رنز بنانے کے بعد رن آؤٹ ہو گئے تھے۔ ایڈم گلکرسٹ دھواں دھار بیٹنگ کے بعد 31 ویں اوور میں آٹھ چھکے اور تیرہ چوکے لگانے کے بعد فرنینڈو کی گیند پر سلوا کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہوئے۔ آؤٹ ہونے والے پہلے کھلاڑی ہیڈن تھے جنہیں ملنگا نے آؤٹ کیا۔ ان کا کیچ جے ورددھنے نے پکڑا۔ ہیڈن 38 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔ ہیڈن اور گلکرسٹ کی 172 رنز کی اوپننگ پارٹنرشپ عالمی کپ کی تاریخ میں پہلی وکٹ کی سب سے بڑی پارٹنرشپ ہے۔ سری لنکا کی ٹیم: مہیلا جے وردھنے، سنتھ جے سوریا، اپل تھارنگا، کمارا سنگاکارا، سی سیلوا، ٹی دلشن، رسل آرنلڈ، چمندا واس، فرویز مہاروف، لیستھ ملنگا، میتھویا مرلی دھرن، دلہارا فرنینڈو۔ آسٹریلیا کی ٹیم: ایڈم گلکرسٹ، میتھیو ہیڈن، رکی پونٹنگ، مائیکل کلارک، اینڈی سمنڈز، مائیکل ہسی، شین واٹسن، بریڈ ہاگ، شان ٹیٹ، گلین مکگراتھ، نیتھن بریکن۔ |
اسی بارے میں ویوین رچرڈز کی آل اسٹار الیون27 April, 2007 | کھیل ہمیں سری لنکا کا خوف نہیں: پونٹنگ26 April, 2007 | کھیل فائنل سے پہلے فائنل25 April, 2007 | کھیل لنکا کے ساتھ کون کھیلے گا، فیصلہ آج25 April, 2007 | کھیل آسٹریلیا عالمی کپ کے فائنل میں 25 April, 2007 | کھیل ورلڈ کپ کا پہلا سیمی فائنل24 April, 2007 | کھیل سری لنکا ورلڈ کپ کے فائنل میں24 April, 2007 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||