BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 27 April, 2007, 21:14 GMT 02:14 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ویوین رچرڈز کی آل اسٹار الیون

ووین رچرڈز
گیارہ سال قبل عالمی کپ سری لنکا نے اٹھایا تھا
ویسٹ انڈیز کے شہرۂ آفاق کھلاڑی سر ویوین رچرڈز نے موجودہ عالمی کپ میں اپنے گیارہ انمول کھلاڑی منتخب کیے ہیں اور انہیں آل اسٹار ٹیم کا نام دیا ہے۔

یہ تمام کھلاڑی ایک ملین ڈالرز کی شراکت داری کے علاوہ مین آف دی میچ ایوارڈ سے نوازے جائیں گے۔ یہ انعامی رقم جانی واکر وہسکی بنانے والی کمپنی کی طرف سے دی جائے گی جو ورلڈ کپ کے اسپانسرز میں شامل ہے۔

سر ویوین رچرڈز نے جن گیارہ کھلاڑیوں کا انتخاب کیا ہے ان میں چار آسٹریلوی میتھیو ہیڈن، رکی پونٹنگ، شان ٹیٹ اور میک گرا، تین سری لنکن مرلی دھرن، مہیلا جے وردھنے اور کمار سنگاکارا، ایک جنوبی افریقی ہرشل گبز، دو نیوزی لینڈ کے اسکاٹ اسٹائرس اور شین بونڈ اور انگلینڈ کے کیون پیٹرسن شامل ہیں۔
ویوین رچرڈز کا کہنا ہے کہ انہوں نے ان کھلاڑیوں کو سیمی فائنل تک کی غیرمعمولی کارکردگی کی بنیاد پر منتخب کیا ہے۔

رچرڈز ایک اور سبق کھلاڑی گرینج کے ساتھ
رچرڈز کہتے ہیں کہ ان کے لیے تاریخی لمحہ وہ تھا جب انہوں نے ہرشل گبز کو ایک اوور میں چھ چھکے لگا کر نئی تاریخ رقم کرتے دیکھا۔

میتھیو ہیڈن کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں رچرڈز کا کہنا ہے کہ ہیڈن اس وقت آسٹریلیا کی ویسی ہی رن مشین ہیں جیسی ماضی میں پاکستان کے ظہیرعباس تھے۔

ہیڈن نے اس ورلڈ کپ میں چھ سو سے زائد رن بناتے ہوئے چھیاسٹھ چوکے اور سترہ چھکے لگائے ہیں جو ان کے نزدیک انتہائی شاندار کارکردگی ہے۔

سری لنکا کے کمار سنگاکارا کے بارے میں ویوین رچرڈز کا کہنا ہے کہ انہوں نے میچ کے کلائمیکس میں جس کمال مہارت سے برائن لارا کو اسٹمپ کیا وہ ناقابل یقین تھا جسے وہ کبھی نہیں بھول سکتے۔وہ تیز بولنگ پر بھی پرسکون انداز میں کیپنگ کرتا ہے۔

پاکستان اور بھارت کے عالمی کپ سے جلد باہر ہوجانے کے بارے میں ویوین رچرڈز کا کہنا ہے کہ اس کی ایک وجہ تو خود سپر ایٹ سسٹم ہے جس نے نہ صرف دونوں کو باہر کیا بلکہ آسٹریلیا کو بھی تمام سے کھیلنے سے محروم رکھا، لیکن اس میں پاکستان اور بھارت کی غیرذمہ دارانہ کارکردگی کو بھی دوش جاتا ہے کیونکہ یہ کاؤنٹی یا ڈسٹرکٹ میچ نہ تھا ورلڈ کپ تھا۔

جب میں نے سر ویوین سے امپائرنگ کے بارے میں پوچھا تو انہو ں نے کہا کہ وہ ٹیکنا لوجی کی مدد کے حق میں ہیں۔ جب ہم فٹبال میں یہی کرسکتے ہیں تو کرکٹ میں کیوں نہیں؟ متعدد ایسے فیصلے کیے گئے جنہوں نے میچ کا رخ ہی بدل دیا اب ہمیں ٹیکنالوجی کو بلانا ہی پڑے گا اور وہ خود اس بارے میں آئی سی سی کے اعلیٰ حکام تک پہنچنے کی جستجو میں ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد