انگلینڈ کی سنسنی خیز فتح | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
باربیڈوس میں سپر ایٹ مرحلے کے آخری میچ میں انگلینڈ نے ویسٹ انڈیز کو سنسنی خیز مقابلے کے بعد ایک وکٹ سے شکست دے دی ہے۔ ویسٹ انڈیز نے انگلینڈ کو فتح کے 301 رنز کا ہدف فراہم کیا تھا جو اس نے نو وکٹ کے نقصان پر آخری اوور میں حاصل کیا۔ انگلینڈ کی جانب سے جیمز اینڈرسن اور سٹورٹ براڈ ناٹ آؤٹ رہے۔ میچ کا فیصلہ آخری اوور کی پانچویں گیند پر ہوا اور انگلینڈ کی فتح کا سہرا کیون پیٹرسن اور وکٹ کیپر نکسن کے سر رہا۔ جہاں پیٹرسن نے شاندار سنچری سکور کی وہیں نکسن نے مشکل حالات میں اڑتیس رنز کی ذمہ دارانہ اننگز کھیلی۔ نکسن انگلینڈ کے آؤٹ ہونے والے آخری کھلاڑی تھے۔ ان سے قبل لیئم پلنکٹ دو رن پر جبکہ کیون پیٹرسن سنچری مکمل کرنے کے بعد آؤٹ ہوئے۔ انگلینڈ کی جانب سے مائیکل وان اور اینڈریو سٹراس نے اننگز کا آغاز کیا تھا اور تیسرے ہی اوور میں کولیمور کی گیند پر سٹراس کیچ آؤٹ ہو کر پویلین واپس لوٹ گئے تھے۔ اس وقت مجموعی سکور صرف گیارہ تھا۔
آغاز ہی میں نقصان کے بعد بوپارا کو کریز پر بھیجا گیا جنہوں نے مائیکل وان کا ساتھ دیا اور دونوں کھلاڑیوں کے درمیان نوے رنز کی پارٹنر شپ ہوئی جس کے بعد بوپارا 26 کے انفرادی سکور پر رن آؤٹ ہوگئے۔ مائیکل وان نے 79 رنز کی اننگ کھیلی وہ بھی رن آؤٹ ہوئے۔ پال کالنگ وڈ اس میچ میں ناکام رہے اور صرف 6 رن بنا کر براوو کی گیند پر بولڈ ہوگئے۔ انگلینڈ کے آؤٹ ہونے والے پانچویں کھلاڑی فلنٹاف تھے جو 15 رن بنا کر سروان کی گیند پر کیچ ہوئے۔ ڈیرلمپل ویسٹ انڈین کھلاڑیوں کی عمدہ فیلڈنگ کا شکار ہوئے۔ انہوں نے صرف ایک رن بنایا۔ مائیکل وان نے ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ویسٹ انڈیز کی جانب سے کرس گیل اور ڈی سمتھ نے ویسٹ انڈیز کی اننگز کا عمدہ آغاز کیا اور دونوں نے مل کر 131 رنز کی شراکت بنائی۔ کرس گیل نے جارحانہ انداز میں بیٹنگ کرتے ہوئے صرف 58 گیندوں پر دس چوکوں اور تین چھکوں کی مدد سے 79 رنز بنائے اور پھر فلنٹاف کی گیند پر کیچ آؤٹ ہو گئے۔ ڈی سمتھ 61 رنز بنا کر فلنٹاف کی ہی گیند پر کولنگووڈ کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہوئے۔ برائن لارا صرف اٹھارہ رنز بنا کر رن آوٹ ہوئے۔یہ برائن لارا کے سترہ سالہ شاندار کیریئر کا آخری میچ تھا اور بحیثیت کوچ یہ انگلینڈ کے ڈنکن فلیچر کا بھی آخری میچ ہے۔ رمیش ساروان تین رنز بنا کر کیچ آؤٹ ہوئے۔ اس موقع پر سمیولز کا ساتھ دینے کے لیے چندرپال کریز پر آئے اور دونوں نے صرف 9.3 اوورز میں 77 رنز کی شراکت بنائی۔ سمیولز 51 رنز بنا کر انگلینڈ کے کپتان مائیکل وان کی گیند پر کولنگووڈ کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہوئے۔ براوو اور ٹیلر کی وکٹیں بھی مائیکل وان نے حاصل کیں۔ چندرپال نے 34 رنز بنائے اور کیچ آؤٹ ہوئے۔ کولیمور اور پاول دونوں کو فلنٹاف نے رن آؤٹ کیا۔
اس ٹورنامنٹ میں مایوس کن کارکردگی کے بعد دونوں ٹیمیں پہلے ہی سیمی فائنل میں پہنچنے کی دوڑ سے باہر ہو چکی ہیں۔ اس سے قبل ویسٹ انڈیز اور انگلینڈ کی ٹیموں کے درمیان 71 میچ ہوئے ہیں جن میں سے انگلینڈ نے 30 جیتے اور 37 میں انہیں ہار کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ان دونوں ٹیموں نے ایک دوسرے کے خلاف اپنا آخری میچ 2006 میں انڈیا میں ہونے والی چیمپیئنز ٹرافی میں کھیلا تھا جو انگلینڈ نے کیون پیٹرسن کے شاندار نوے رنز کی بدولت تین وکٹوں سے جیت لیا تھا۔ ویسٹ انڈیز کی ٹیم: انگلینڈ کی ٹیم: |
اسی بارے میں آسٹریلیا کی 103 رنز سے جیت27 March, 2007 | کھیل ریکارڈ ساز، سحر انگیز برائن لارا20 April, 2007 | کھیل انگلینڈ عالمی کرکٹ کپ سے باہر17 April, 2007 | کھیل دلچسپ میچ، انگلینڈ جیت گیا11 April, 2007 | کھیل اینٹیگا: آسٹریلیا کی آسان جیت08 April, 2007 | کھیل ویسٹ انڈیز کی ہار، تیسری بار 01 April, 2007 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||