بوپارا نے آگے کا راستہ دکھایا ہے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایسا نظر نہیں آتا کہ انگلینڈ یہ ورلڈ کپ جیت سکے گا لیکن روی بوپارا کی شکل میں انہیں ایک ایسا کرکٹر ملا ہے جو چار سال بعد اچھی کارکردگی کی نوید دے سکتا ہے۔ ایسیکس کے رہنے والے اکیس سالہ بوپارا کو، جو میڈیم پیس گیند بھی کرتے ہیں، بدھ کے روز ایک مشکل ذمہ داری سونپی گئی تھی۔ انگلینڈ کے پہلے چھ بیٹسمینوں کی ناکامی کے بعد بوپارا اور نکسن نے سری لنکا کو ہرانے کے لیے 16 اوورز میں 102 رنز بنانے تھے۔ اگر سری لنکا کے بولنگ اٹیک کو سامنے رکھا جائے تو انگلینڈ اپنے حریف کے سکور کے نزدیک بھی نہیں پہنچ سکتا تھا۔ لیکن وہ تجربہ کار نکسن کے تیز رنز کی بدولت اس کے نزدیک پہنچ گیا اور آخر میں بوپارا کی بیٹنگ اسے فائنل اوور میں لے آئی۔ فرنینڈو کی گیند پر ایک چوکا اور اس کے بعد دو رنز کی وجہ سے انگلینڈ کو آخری تین گیندو ں پر صرف پانچ رنز درکار تھے۔ لیکن اسے انگلینڈ کی بدقسمتی کہیں یا بوپارا کی وہ آخری گیند پر بولڈ ہو گئے اور جیت کے لیے درکار دو رنز نہ بنا سکے۔ لیکن پھر بھی انہیں ان کی شاندار کارکردگی کی بنا پر مین آف دی میچ کا ایوارڈ دیا گیا۔ انگلینڈ کے کپتان مائیکل وان کا کہنا ہے کہ بوپارا کا ’اس کھیل میں روشن مستقبل ہے‘۔ بوپارا نے کہا ہے کہ انگلینڈ کے لیے مشکل وقت میں بھی وہ پرسکون تھے۔ ’میں ان حالات میں زیادہ جزباتی نہیں ہوا تھا۔ میں صرف وہاں (گراؤنڈ) میں گیا اور نارمل کھیلنا شروع کر دیا۔ مجھے دکھ ہے کہ ہم آخر تک نہیں پہنچ سکے۔‘ |
اسی بارے میں ’میچ کا سہرا بالروں کے سر‘05 April, 2007 | کھیل سری لنکا آخری بال پر جیت گیا04 April, 2007 | کھیل وان خوش، انگلینڈ 48 رنزسےجیت گیا30 March, 2007 | کھیل انگلینڈ نے کینیا کو آسانی سے ہرا دیا24 March, 2007 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||