’میچ کا سہرا بالروں کے سر‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بدھ کو عالمی کپ کے اینٹیگا میں میچ میں انگلستان کو ایک سنسنی خیز مقابلے کے بعد دو رن سے ہرانے والی سری لنکا کی ٹیم کے کپتان مہیلا جے وردھنے نے فتح کا سہرا اپنے بالروں کے سر باندھا ہے جبکہ انگلستان کے کپتان مائیکل وان نے شکست کے باوجود میچ کو ٹیم کے لیے بہت مفید قرار دیا ہے۔ میچ کے بعد پریس کانفرنس میں سری لنکا کے کپتان مہیلا جے وردھنے کا میچ کے اتار چڑھاؤ پر کہنا تھا کہ انہیں احساس تھا کہ میچ ہاتھ سے نکل رہا ہے لیکن مرلی نے انچاسواں اوور بہت اچھا کیا اور چار پانچ رن دے کر ایک وکٹ بھی لی جس سے فتح کی راہ ہموار ہوئی۔ ان کا کہنا تھا کہ مرلی دھرن اور دلہارا نے بہت اچھی بالنگ کرائی۔ سری لنکا نے اب تک بہت اچھی کرکٹ کھیلی ہے اور نیوزی لینڈ کے خلاف اس کے میچ کی غلطیاں نہیں دہرائی جائیں گی۔ سری لنکا کے کپتان مہیلا جے وردھنے کا یہ بھی کہنا تھا کہ انگلستان کے چھ کھلاڑی آوٹ کرنے کے بعد ان کو فتح سامنے دکھائی دے رہی تھی لیکن بوپارہ اور نکسن نے جس طرح بیٹنگ کی اس پر ان کو شاباش دی جانی چاہیے۔ انگلستان کے کپتان مائیکل وان نے شکست پر افسوس ظاہر کیا لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ سری لنکا کے خلاف میچ سے بہت سے فوائد بھی ہوں گے۔
اننگ کے بیچ میں کئی وکٹیں کھونے کے بعد میچ بچانے کی امید تھی یا نہیں، اس کے جواب میں مائیکل وان کا کہنا تھا کہ یقیناً اس وقت فتح بہت دور کی کوڑی لگ رہی تھی لیکن جس طرح بوپارہ اور پول نکسن نے بیٹنگ کی اس سے واقعی امید پیدا ہوگئی تھی اور لگ رہا تھا کہ آخری آخری گیندوں میں انگلستان میچ جیت سکتا ہے۔ تاہم انہوں نے فرنینڈو دلہارا کی بھی تعریف کی کہ ان کو بھی پورا کریڈٹ جاتا ہے کہ آخری دو گیندوں پر اپنے حواس برقرار رکھے اور اپنی ٹیم کو جتایا۔ مائیکل وان کا یہ بھی کہنا تھا کہ گو ان کی ٹیم میچ بہت اچھا کھیلی لیکن جیت نہ سکی۔ انہوں نے اپنی ٹیم کی بالنگ اور فیلڈنگ کی تعریف کی اور کہا کہ شکست کے باوجود آج کے میچ سے ٹیم کو بڑے فوائد ہوں گے۔ مین آف میچ کا اعزاز پانے والے روی بوپارہ نے دوران میچ تماشائیوں کے بارے میں کہا کہ آج تماشائیوں کا رویہ زبردست تھا اور انہوں نے بہت حوصلہ افزائی جس سے انہیں اور نکسن کو آگے بڑھنے کا سہارا بھی ملا۔ میچ کی ایک خاص بات یہ بھی رہی کہ جے سوریا اس میں شرکت کے ذریعے تین سو پچاسی میچوں کے ساتھ سب سے زیادہ ایک روزہ میچ کھیلنے والے کھلاڑی بن گئے ہیں۔ انہوں نے سچن ٹنڈولکر کا تین سو چوراسی میچوں کا ریکارڈ توڑا ہے۔ اس میچ میں فتح سے سری لنکا کے پچھلے راؤنڈ کےدوبونس پوائنٹس کے ساتھ تین میچوں میں چھ پوائنٹس ہوگئے ہیں جبکہ انہیں ابھی آئرلینڈ، نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا سے میچ کھیلنے ہیں۔ دوسری جانب انگلستان کے سپر ایٹ مرحلے میں دو میچوں کے بعد صرف دو پوائنٹس ہیں اور ان کو ابھی آئندہ اتوار کو عالمی چیمپئین آسٹریلیا کے بعد بنگلہ دیش، جنوبی افریقہ اور ویسٹ انڈیز سے میچ کھیلنا باقی ہیں۔ | اسی بارے میں جنوبی افریقہ نے آئر لینڈ کو ہرا دیا03 April, 2007 | کھیل سری لنکا آخری بال پر جیت گیا04 April, 2007 | کھیل چیپل اور کھلاڑیوں میں رسہ کشی04 April, 2007 | کھیل گریگ چیپل مستعفی ہو گئے04 April, 2007 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||