BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 03 July, 2006, 08:13 GMT 13:13 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جیت کا سہرا ڈراوڈ کے سر
راہول ڈراوڈ
ڈراوڈ کو مین آف دی میچ قرار دیا گیا
بھارتی کپتان راہول ڈرواڈ کا قد یقیناً اونچا ہو گیا ہے کیونکہ وہ ویسٹ انڈیز میں ٹیسٹ سیریز جیتنے والے دوسرے بھارتی کپتان بن گئے ہیں۔ یہ اعزاز انہیں پینتیس سال کے وقفے کے بعد ملا ہے۔

بھارت نے ویسٹ انڈیز کو چوتھے ٹیسٹ میچ میں اننچاس رنز سے شکست دے کر سیریز ایک صفر سے جیت لی۔

اس موقع پر ڈراوڈ نے کہا کہ ’ہم نے ہمیشہ انیس سو اکہتر کی سیریز کا سنتے تھے اور اس وقت (ہم میں سے) صرف انیل (کمبلے) پیدا ہوئے تھے‘۔

اگرچہ بھارت کو ایک روزہ میچوں کی سیریز میں چار ایک سے شکست ہوئی تھی تاہم ٹیسٹ سیریز جیتنا ان کا اصل مقصد تھا۔ یہ جیت اس لیئے بھی اہم تھی کیونکہ یہ بھارت کی برصغیر سے باہر بیس سال میں پہلی فتح ہے۔

ڈراوڈ کا کہنا تھا کہ ’اس ٹیم کے لیئے یہ بہت اچھا ہے کیونکہ اس نے یہ کام کیا ہے اور اسے ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ ہمیں اس کے لیئے بہت محنت کرنا پڑی اس لیئے میرے خیال میں ہم اس کے حقدار تھے‘۔

سری سانتھ
مجھے ناچنے کا شوق ہے اور آج اس کا دن ہے: سری سانتھ

انہیں اس تین دن جاری رہنے والے میچ کا مین آف دی میچ قرار دیا گیا۔ انہوں نے دونوں اننگز میں بالترتیب اکاسی اور اڑسٹھ رنز بنائے۔ ڈراوڈ نے اس میچ میں اپنے نو ہزار رنز بھی مکمل کیئے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ’ میری یہ دونوں اننگز میرے لیئے بہت اطمینان بخش ہیں ا س لیئے کہ ان سے نہ صرف ہم نے سیریز جیتی ہے بلکہ یہ میچ بھی بہت ’کلوز‘ تھا‘۔

میچ کے آخری دن سری سانتھ اور کمبلے نے ویسٹ انڈیز کی ٹیم کو آؤٹ کر دیا۔ سری سانتھ نے تین جبکہ کمبلے نے اٹھہتر رنز کے عوض چھ وکٹیں حاصل کیں۔

اس طرح کمبلے نے تینتیسویں مرتبہ ٹیسٹ میچ کی ایک اننگز میں پانچ یا پانچ سے زیادہ وکٹیں حاصل کر لیں۔ اس میچ میں انہوں نے دو ہزار دو کے دورے کا بھی بدلہ لے لیا جب انٹیگا کی شاٹ ان کے منہ پر لگی تھی اور انہیں ٹوٹے ہوئے جبڑے کے ساتھ وطن واپس آنا پڑا تھا۔

انہوں نے اپنی کارکردگی کے بارے میں کہا کہ ’یہ میرا ویسٹ انڈیز کا تیسرا دورہ تھا اور میں چاہتا تھا کہ میں بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کروں۔ ٹیم کا سینیئر کھلاڑی ہونے کے ناتے مجھ پر اچھی کارکردگی کی ذمہ داری تھی‘۔

برازیل ہار میں ذمہ دار
کوچ نے ٹیم کی شکست کی ذمہ داری لے لی
شادیشادی خانہ آبادی
ورلڈ کپ سے پریشان جوڑے کو جگہ مل گئی
محمد علینئے حریف سے مقابلہ
باکسر محمد علی اب موٹاپے کے خلاف سرگرم
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد