پشاور: ’میچز کروائے جائیں‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پشاور کے کرکٹ شائقین کا مطالبہ ہے کہ جب بھی کوئی ٹیم پاکستان کھیلنے آئے تو دوسرے شہروں کی طرح پشاور میں نہ صرف ایک روزہ میچ ہو بلکہ ٹیسٹ میچ بھی کروائے جائیں۔ اربا ب نیاز سٹیڈیم میں بھارتی کھلاڑیوں کے ہر شارٹ کو سراہنے والے کرکٹ شائقین کہتے ہیں ہمارا کرکٹ کا شوق دیکھو ہماری مہمان نوازی پر کچھ دھیان دو، مہمان ٹیم کو ہماری جانب سے ملنے والی داد پر نگاہ ڈالو اور بتاؤ کہ آخر ہم میں کیا کمی ہے کہ تم ہمارے شہر میں کھیلنے نہیں آتے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ ان ٹیموں کی سراسر ناانصافی ہے جو یہاں آنے سے انکار کرتی ہیں۔ اپنے بیوی اور بچوں کے ہمراہ میچ دیکھنے کے لیے آئے ہوئے ڈاکٹر عبداللہ کا کہنا تھا کہ وہ بھارتی ٹیم کو اس لیے پسند کرتے ہیں کہ انہوں نے گزشتہ دورے میں بھی پشاور میں میچ کھیلا اور اس بار بھی وہ ہمارے شہر میں آئے ہم ان کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ذرا سٹیڈیم میں موجود تماشائیوں کا جوش و خروش دیکھیے کیا ہم کہیں سے بھی دہشت گرد لگتے ہیں تو آخر کیوں انگلینڈ اور باقی ٹیمیں یہاں کھیلنے نہیں آتیں۔ ایک شائق شہر یار کا کہنا تھا کہ بھارتی ٹیم کے آنے سے ہمیں سٹیڈیم میں بیٹھ کر معیاری کرکٹ دیکھنے کا موقع مل رہا ہے اور مجھے اس سے کوئی غرض نہیں کہ کون جیتتا ہے میں تو دونوں ٹیموں کو سپورٹ کرتا ہوں۔ رفیع اللہ خان کا کہنا تھا کہ کراچی اور دوسرے پاکستان کے شہروں کی طرح پشاور میں تو دہشت گردی کے واقعات نہیں ہوتے پھر آخر ہمارے شہرمیں ٹیمیں کیوں نہیں آتیں انہوں نے کہا کہ وہ بھارتی کرکٹ ٹیم کے ممنون ہیں کہ اس نے ہمارے شہر کے ساتھ دوسری ٹیموں جیسا سلوک نہیں کیا۔ مسز فرزانہ جاوید کا بھی یہی کہنا تھا کہ ہم تو بہت مہمان نواز قوم ہیں ہمیں بھارتی ٹیم کے آنے کی بے پناہ خوشی ہے بھارتی ٹیم کے کھلاڑیوں نےآج بہت اچھی بٹنگ کی خاص طور پر تندولکر نے اور ہم نے بہت لطف اٹھایا اور انہیں خوب داد دی۔
محسن نے کہا کہ اسامہ تو افغانستان میں ہے اس کی سزا ہمیں کیوں دی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب ہمارے شہر میں میچ نہیں ہوتا تو افسوس ہوتا ہے لیکن اب بھارتی ٹیم کے آنے سے سب شکوے دورکیونکہ اصل مزا تو پاکستان اور انڈیا کی ٹیم کے میچ کا ہی ہوتا ہے۔ ایک اور شائق تیمور کے مطابق جب کوئی ٹیم ہمارے شہر میں کھیلنے سے انکار کرتی ہے تو ہمیں دکھ ہوتا ہے اور اب جبکہ بھارتی ٹیم آئی ہے تو ہمیں بہت خوشی ہوئی ہے۔ تیمور نے کچھ فاصلے پر بیٹھے چند سکھ کرکٹ شائقین کی طرف دیکھتے ہوئے کہا کہ ہم بھارت سے آئے مہمانوں اور بھارتی ٹیم کو خوش آمدید کہتے ہیں۔ |
اسی بارے میں ون ڈے سیریز کا چیلنج، تیاری مکمل05 February, 2006 | کھیل ’بچپن کے دوست نہیں بھولا‘06 February, 2006 | کھیل پاکستان کی سات رن سے فتح06 February, 2006 | کھیل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||