’بچپن کے دوست نہیں بھولا‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی کرکٹ ٹیم کے نوجوان وکٹ کیپر کامران اکمل کہتے ہیں کہ شہرت نے ان کے مزاج میں کوئی تبدیلی پیدا نہیں کی ہے اوروہ اب بھی ہر ایک سے انکساری سے ملتے ہیں۔ رہی بات دوستوں کی تو انہیں بھلا وہ کیسے بھول سکتے ہیں۔ کامران اکمل کا کہنا ہے کہ انٹرنیشنل کرکٹ کی وجہ سے گھر سے دور رہنا پڑتا ہے ایسے میں گھر والوں کی یاد بہت ستاتی ہے۔ ہر اچھی کارکردگی پر یہ خواہش دل میں جاگتی ہے کہ کاش وہ اس موقع پر ان کے ساتھ ہوتے۔ اسی طرح بچپن کے دوستوں سے بھی ملاقات میں وقفہ آجاتا ہے لیکن ان سے فون پر رابطہ رہتا ہے۔ جب بھی وہ سنچری بناتے ہیں یا وکٹ کیپنگ میں اچھی پرفارمنس دیتے ہیں ان کے دوست مبارک باد کا فون ضرور کرتے ہیں۔ جب وہ اپنے شہر میں ہوتے ہیں تو دوستوں کے ساتھ بیٹھک ضرور ہوتی ہے۔ کامران اکمل کہتے ہیں کہ ان کے دوست ان کی کامیابی پر بہت خوش ہوتے ہیں انہیں ان کی دعاؤں کی اشد ضرورت ہے۔ کامران اپنی موجودہ شاندار کارکردگی کو کپتان کوچ اور سینئر کھلاڑیوں کا مرہون منت قرار دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ہر سیریز اور ہر دورے کے بعد وہ اپنی کارکردگی کا بغور جائزہ لیتے ہیں اور کیمپ میں غلطیوں کو دور کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس سوال پر کہ بیٹنگ میں شاندار کارکردگی کے بعد کہیں وکٹ کیپنگ تو پس منظر میں نہیں چلی جائے گی؟ کامران اکمل کا جواب تھا کہ وکٹ کیپنگ ان کی پہلی ترجیح اور مرکزی ذمہ داری ہے جس پر وہ بھرپور توجہ دیتے ہیں۔ آج کے دور میں وہی وکٹ کیپر کامیاب ہے جو بیٹنگ بھی اچھی کرے لہذا وہ بیٹنگ کو بھی نظرانداز نہیں کرتے۔ اس سلسلے میں ساتھی کھلاڑی ان کی رہنمائی کررہے ہیں جس سے ان کی کارکردگی میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ | اسی بارے میں انضمام اور کامران بہترین کھلاڑی31 January, 2006 | کھیل اکمل اور رزاق میچ چھین کر لے گئے01 February, 2006 | کھیل انیس سال بعد سیریز کی جیت01 February, 2006 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||