پاکستان کی سات رن سے فتح | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پشاور میں ہونے والے پہلے ایک روزہ میچ میں پاکستان نے بھارت کو سات رن سے شکست دے دی ہے۔ پاکستان کی اننگز میں ابھی 47 اوور ہی ہوئے تھے جب کم روشنی کے باعث میچ ختم ہو گیا اور یوں رن بنانے کی بہتر شرح کی وجہ سے پاکستان نے میچ سات رن سے جیت لیا۔ بھارت نے پہلے کھیلتے ہوئے 328 رن بنائے تھے۔ جواب میں پاکستان نے 47 اوور میں تین سو گیارہ رن بنائے ہیں اور اس کے سات کھلاڑی آؤٹ ہوئے۔ انضمام میچ میں بڑے انوکھے انداز میں آؤٹ ہوئے۔ انضمام کریز سے نکلے اور ایک فیلڈر نے ان کی وکٹ کی طرف گیند پھینکا جو انضمام نے اپنے بلے سے روک لیا جس بنا پر امپائر نے انہیں آؤٹ قرار دیا۔ آؤٹ ہونے والے کھلاڑیوں میں کامران اکمل، سلمان بٹ، شعیب ملک، شاہد آفریدی، محمد یوسف، انضمام الحق اور عبدالرزاق شامل تھے۔ کامران اکمل نے پچیس رن بنائے جبکہ سلمان بٹ نے ایک سو ایک رن بنائے اور شعیب ملک نے نوے رن بنائے۔ کامران اکمل آؤٹ ہونے والے پہلے کھلاڑی تھے ان کی وکٹ بھارت کے نئے بالر سری ساتھ نے لی۔ شاہد آفریدی صرف سترہ رن بناکر کیف کے ہاتھوں رن آؤٹ ہو گئے۔ سلمان بٹ نے شاندار اننگز کھیلتے ہوئے پندرہ چوکوں کی مدد سے اپنی سنچری مکمل کی۔ انہوں نے اپنی سنچری ایک سودس گیندوں پر بنائی۔ کامران اکمل کی جگہ شعیب ملک کھیلنے آئے تھے ۔ انہوں نے ایک ذمہ دارانہ اننگز کھیلتے ہوئے اپنی ففٹی انچاس گیندوں پر بنائی۔ اس کے بعد انہوں نے ایک اوور میں لگاتار تین چوکے لگائے۔ بھارت کی ٹیم انچاس عشاریہ چار اوورز میں 328 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئی تھی۔ سچن تندولکر نے اس میچ میں اپنی انتالیسویں سنچری بنائی۔ سنچری بنانے کے فوراً بعد وہ ارشد خان کی گیند پر ایل بی ڈبلیو ہو گئے۔ انہوں نے ایک سو تیرہ گیندوں کا سامنا کیا۔ اس کے بعد جلد ہی راہول ڈراوڈ بھی ایل بی ڈبلیوقرار پائے۔ ان کی وکٹ رانا نوید نے حاصل کی۔ پاکستان نے ٹاس جیت کر پہلے خود فیلڈنگ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
پاکستان نے فاسٹ بولر شعیب اختر کی جگہ عمر گل کو ٹیم میں شامل کیا ہے۔ پاکستان کی طرف سے محمد آصف نے شاندار بالنگ کرتے ہوئے تیس رن دے کر تین وکٹیں حاصل کئیں۔ رانا نوید سب سے کامیاب رہے انہوں نے باسٹھ رن دے کر چار وکٹیں حاصل کئیں۔ عمر گل نے تین اوور کیئے اور انہوں نے تین اوور میں پینتیس رن دیئے۔ عبدالرزاق نے دس اوور میں ستر رن دے کر ایک کھلاڑی کو آؤٹ کیا۔ عرفان پٹھان، وریندر سہواگ کے جلد آؤٹ ہو جانے کے بعد دھواں دھار بیٹنگ کرتے ہوئے پینسٹھ رنز بنا کر آؤٹ ہو ئے۔ اسکے بعد دہونی نے بھی تیز رفتاری سے بیٹنگ کی۔ دہونی نے پینتالیس گیندوں میں اپنی ففٹی بنائی۔ اس کے بعد وہ تریپن گیندوں پر 68 رنز بنانے کے بعد آؤٹ ہو گئے۔انہوں نے دس چوکے اور ایک چھکا لگایا۔ دہونی کے آؤٹ ہونے کے بعد یوراج کھیلنے آئے ہیں اور وہ تیز رفتاری سے رن بنا رہے تھے جب عبدالرزاق کی گیند پر ارشد خان کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہو گئے۔ یوراج نے صرف اٹھائیس گیندوں پر انتالیس رن بنائے۔ سچن کے بعد بھارت کے کھلاڑیوں کے آؤٹ ہونے کا تانتا بندھ گیا۔ پاکستان کی طرف سے سہواگ کو پہلی گیند پر آؤٹ کرنے کے بعد دہونی کی وکٹ بھی محمد آصف نے حاصل کی۔ عرفان پٹھان کو رانا نوید نے آؤٹ کیا۔ ارباب نیاز اسٹیڈیم کی وکٹ کے بارے میں انضمام الحق کا کہنا ہے کہ اس وکٹ پر دوسواسی ایک فائٹنگ اسکور ثابت ہوسکتا ہے۔
انضمام الحق اپنی فٹنس سے مطمئن ہیں۔ منتخب میچوں میں کھیلنے کے بارے میں سوال پر ان کا کہنا ہے کہ یہ ممکن نہیں ہے کیونکہ ٹیم کے نقطۂ نظر سے تمام میچز اہم ہیں۔اگر پاکستانی ٹیم سیریز جیت لیتی ہے تو آخری میچ میں وہ آرام کرینگے۔ ارباب سٹیڈیم میں کی ایک تعداد میچ دیکھنے کے لیے آئی ہے۔ پاکستانی ٹیم بھارتی ٹیم |
اسی بارے میں کراچی ٹیسٹ اور سیریز کی جیت01 February, 2006 | کھیل مہنگے ٹکٹ بھی فوراً بک گئے 02 February, 2006 | کھیل ون ڈے ٹیم کا اعلان کردیا گیا02 February, 2006 | کھیل وریندر سہواگ سے خطرہ ہے : انضمام 04 February, 2006 | کھیل انضمام اور کامران بہترین کھلاڑی31 January, 2006 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||