فیصل آباد کا ’اقبال بلند ہونا چاہیئے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان اور انڈیا کے درمیان دوسرے ٹیسٹ میچ کا وینیو فیصل آباد اپنا سر فخر سے بلند کر سکتا ہے اور اسے شرمندہ ہونے کی کوئی ضرورت نہیں۔ وجہ۔ دونوں ٹیمیں لاہور سے آ رہی ہیں۔ لاہور کی وکٹ نے کرکٹ کے ساتھ وہ کیا کہ تماشائی سو گئے اور پاکستان سے آنے والی اطلاعات کے مطابق اب تک سوئے ہوئے ہیں۔ یعنی محلوں کی گلیوں میں کرکٹ کا تذکرہ کالا باغ ڈیم سے بھی کچھ کم ہی رہا ہے۔ اگر لاہور کے بعد فیصل آباد کے قذافی سٹیڈیم میں بھی اگر یہی کچھ ہو تو شاید لوگوں کو اتنا دھچکہ نہ پہنچے جتنا لاہور کے چوکوں اور چھکوں سے پہنچا تھا۔ وہ چاہے آفریدی کے تھے یا سہواگ کے۔ اگر اس وکٹ کے ریکارڈ کو دیکھا جائے تو فیصل آباد کی یہ وکٹ بیٹسمینوں کا ساتھ دینے اور بڑے سکور کے لیے مشہور ہے۔ اسے بالروں کے لیے جہنم بھی کہا گیا ہے اور آسٹریلوی فاسٹ بولر ڈینس للی نے تو یہاں تک کہہ دیا تھا کہ یہاں میری قبر بنا دی جائے۔
اس گراؤنڈ میں پاکستان اور انڈیا کی درمیان ٹیسٹ میچ کی ایک اننگز کا سب سے زیادہ ٹوٹل 674 رنز ہے جو کہ انیس سو چوراسی پچاسی کی ٹیسٹ سیریز میں پاکستان نے انڈیا کے پہلی اننگز کے ٹوٹل 500 رنز کے جواب میں بنایا تھا۔ پاکستان کی طرف سے مدثر نذر نے 199، قاسم عمر نے 210 اور سلیم ملک نے 102 ناٹ آؤٹ سکور کیا۔ پاکستان کے کل چھ وکٹ گرے تھے اور صرف ایک ایک اننگز کھیلی گئی تھی۔ دوسری مرتبہ انیس سو بیاسی تراسی میں بھی پاکستان نے انڈیا کے پہلی اننگز کے 372 رنز کے جواب میں 652 رنز بنائے اور دوسری اننگز میں انڈیا کو 286 رنز پر آؤٹ کر دیا۔ پاکستان یہ میچ دس وکٹ سے جیت گیا تھا۔ اس میچ کی خاص بات پاکستان کے چار بیٹسمینوں جاوید میانداد (126)، ظہیر عباس(168)، سلیم ملک (107)، اور عمران خان (117) کی سنچریاں تھیں۔ فیصل آباد میں اب تک تیئس میچ ہو چکے ہیں اور ان میں سے بارہ ڈرا جبکہ چھ پاکستان نے جیتے اور پانچ ہارے ہیں۔
لاہور کے ہائی سکورنگ ٹیسٹ کے بعد کرکٹ کے شائقین کا خیال ہے کہ فیصل آباد بھی اس سے کچھ مختلف نہیں ہو گا۔ وکٹ کو باؤنسی اور تیز بنانے کی باتیں وکٹ کے اندر کی مٹی کو نہیں بدل سکتیں اور نہ ہی اسے بدلنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ وکٹ کی جیسی بھی سوئل یا مٹی ہے اسے بدلنے کی بجائے اسی کو بہتر طریقے سے بنایا جائے۔ کیا پاکستانیوں کو عرفان پٹھان سے ڈر ہے یا شعیب اختر پر اعتماد میں کمی ہے۔ اگر عرفان کی ان سوئنگ یوسف اور یونس کے لیے خطرہ ہے تو شعیب، رزاق اور نوید بھی کسی بھی بلے باز کو دبانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ فیصل آباد کے اس خوبصورت سٹیڈیم سے پہلے ہی بڑے تنازعات (مائیک گیٹنگ۔ شکور رانا) جڑے ہوئے ہیں جو کہ تلخ یادوں کے ساتھ کرکٹ کے چاہنے والوں کے ذہنوں میں موجود ہیں۔ بے نتیجہ اور بے جان میچ شاید شائقین کو کرکٹ سے اور دور کر سکتا ہے اور ہو سکتا ہے وہ یہ جملہ پھر دہرانا شروع کر دیں کہ ’کہا تھا نا کہ یہی ہو گا‘۔ |
اسی بارے میں پچ لاہور سے بہتر ہے: انضمام، ڈراوڈ20 January, 2006 | کھیل ریکارڈ نہ بن سکا، میچ ڈرا17 January, 2006 | کھیل فیصل آباد: وہی ٹیم کھیلے گی 16 January, 2006 | کھیل لاہور کی پِچ پر شدید تنقید15 January, 2006 | کھیل آفریدی،اکمل کی دھواں دھار بیٹنگ14 January, 2006 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||