ظہیر عباس اور بھارتی سپنرز | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے مایہ ناز بیٹسمین ظہیر عباس کو بھارت کے سپن بالرز کبھی نہیں بھلا سکیں گے۔ انہوں نے اپنی سحر انگیز بلے بازی سے بھارت کے تاریخی سپنرز بشن بیدی، بھگوت چندر شیکھر، اراپلی پراسنا اور دلیپ دوشی جیسے تجربہ کار بالرز کے کرکٹ کیریئر ختم کر دیے۔ انیس سو پچپن میں پہلی بار بھارت کی ٹیم پاکستان کے دورے پر آئی تھی لیکن سیاسی وجوہات اور جنگ کی وجہ سے پاکستان اور بھارت کے درمیان 61-1960 کے بعد ٹیسٹ سیریز 1978 میں پاکستان میں ہوئی جب بشن بیدی کی قیادت میں بھارت کی ٹیم سترہ سال بعد پاکستان کے دورے پر آئی۔ بھارتی ٹیم یہ سیریز بری طرح ہار گئی۔ فیصل آباد کا ٹیسٹ تو ڈرا ہو گیا لیکن لاہور اور کراچی میں بھارت کو پاکستان کے ہاتھوں آٹھ آٹھ وکٹوں سے شکست ہوئی۔ ظہیر عباس کا اس وقت طوطی بولتا تھا اور وہ انگلینڈ کی کاؤنٹی گلوسٹر شائر کی جانب سے کھیلتے تھے اور انہوں نے کاؤنٹی کے اگلے پچھلے تمام ریکارڈ توڑ دیے تھے۔ بھارت کے بالروں کے خلاف بھی وہ اسی طرح چھائے رہے۔ فیصل آباد کے پہلے ٹیسٹ میں ظہیر نے پہلی اننگز میں 176 رن بنائے جس میں چوبیس چوکے اور دو چھکے شامل تھے۔ اس میچ میں جاوید میانداد نے 154 رن اور آصف اقبال نے 104 رن بنائے۔ بھارت کی طرف سے سنیل گواسکر نے 89 رن اور گنڈاپا وشواناتھ نے 145 رن بنائے۔ بیدی، پراسنا اور چندر شیکھر کی اتنی پٹائی ہوئی کہ بیدی نے میچ میں 164 رن دے کر صرف دو وکٹیں لیں۔ پراسنا نے 157 رن دے کر تین اور چندر شیکھر نے 179 رن دے کر چار وکٹیں حاصل کیں۔ کراچی کے آخری ٹیسٹ میں ظہیر عباس نے 42 رن بنائے لیکن جاوید میانداد نے 100 رن بنائے۔ بیدی اور چندر شیکھر ایک بار پھر بلے بازوں کی زد میں آ گئے۔ بیدی نے 132 رن دے کر صرف ایک وکٹ حاصل کی۔ اس سیریز میں ظہیر عباس نے 33ء194 کی اوسط سے 583 رن بنائے اس کے بعد 83-1982 میں بھارت کی ٹیم سنیل گواسکر کی قیادت میں پاکستان آئی تو پاکستان نے پانچ میچوں کی یہ سیریز 0-3 سے جیت لی۔ لاہور کے پہلے ٹیسٹ میں ظہیر عباس نے 215 رن بنائے جس میں انہوں نے 23 چوکے اور دو چھکے لگائے۔ یہ ان کی سویں فرسٹ کلاس سنچری تھی۔ جیف بائیکاٹ کے بعد وہ دوسرے بیٹسمین ہیں جنہوں نے ٹیسٹ میں کھیلتے ہوئے یہ اعزاز حاصل کیا۔ کراچی کے دوسرے ٹیسٹ میں پاکستان کی ایک اننگز اور 86 رن کی فتح میں ظہیر نےایک بار پھر ایسی ہی فارم دکھائی۔ انہوں نے 186 رن بنائے اور پہلے ٹیسٹ کی طرح سپنرز کی لمبی پٹائی کی۔ دلیپ دوشی اور روی شاستری ان کی دھواں دار بلے بازی کا نشانہ بنے۔ فیصل آباد کے تیسرے ٹیسٹ میں کھیلتے ہوئے انہوں نے168 رن بنائے اور لگاتار تین ٹیسٹ میچوں میں سنچریاں بنانے والے پاکستان کے پہلے بیٹسمین بن گئے۔ انہوں نے اس سیریز میں 130 کی اوسط سے 650 رن بنائے۔ اس طرح ظہیر عباس نے بہت سے بھارتی سپنرز کا کیریئر ختم کر دیا۔ وہ پاکستان کے پہلے بیٹسمین تھے جنہوں نے 5000 رن بنانے کا اعزاز حاصل کیا۔ اس کے علاوہ وہ ایشیا کے واحد کھلاڑی ہیں جنہوں نے فرسٹ کلاس میں سو سے زیادہ سنچریاں بنائی ہیں۔ ظہیر عباس کے دو ریکارڈ ایسے ہیں جن کا اعزاز ڈان بریڈمین کے پاس بھی نہیں ہے۔ آٹھ فرسٹ کلاس میچوں میں انہوں نے ہر اننگز میں سنچری بنائی اور تین فرسٹ کلاس میچوں میں ایک اننگز میں ڈبل سنچری اور دوسری اننگز میں سنچری بنائی اور ہر اننگز میں وہ آؤٹ بھی نہیں ہوئے۔ ظہیر عباس کو اپنے کھیلنے کے زمانے میں ایشین بریڈمین کہا جاتا تھا۔ انہوں نے 78 ٹیسٹ میچوں میں 79ء44 کی اوسط سے 5062 رن بنائے جن میں بارہ سنچریاں شامل تھیں۔ فرسٹ کلاس کرکٹ میں انہوں نے 108 سنچریاں بنائیں۔ |
اسی بارے میں نظم و ضبط کا فقدان01 April, 2004 | کھیل فائنل میچ: اعصاب کی جنگ 23 March, 2004 | کھیل بھارت: سیریز بچانے کا آخری موقع20 March, 2004 | کھیل ون ڈے میچ بلے بازوں کا ہوتا ہے06 March, 2004 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||