نظم و ضبط کا فقدان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کہا جاتا ہے کہ پاکستانی بولنگ بھارت سے بہتر ہے لیکن یہاں یہ بات بڑی اہم ہے کہ اگر پاکستان کی بولنگ بھارت سے بہتر ہے تو ہم نے ملتان میں ایسی وکٹ ہی نہیں بنائی جس پر بولر وکٹ لے سکتے۔ اور پھر وکٹ لیتے بھی کیسے جب کہ پاکستانی بولرز وکٹوں سے پرے گیندیں کرتے ہیں اور لائن اور لینتھ پر گیندیں نہیں کرتے۔ مثال کے طور پر ملتان کے میچ میں شعیب نے کوئی وکٹ نہیں لی اور زیادہ تر وہ تیز گیند کرنے کی کوشش کرتے رہے۔ اس کے برعکس بھارت کی بولنگ خاص طور پر عرفان پٹھان اور انیل کمبلے کی بولنگ کو دیکھیں توانہوں نے تیز گیند کرنے کی کوشش نہیں کی۔ لائن اور لینتھ برقرار رکھی، سیدھا بیٹسمین کو کھلانے کی کوشش کی اور تینوں وکٹوں کی سیدھ میں رہ کر گیند کی۔ ان کی سب سے بڑی کامیابی یہی ہے کہ انہوں نے اپنی لی ہوئی فیلڈ کے مطابق گیند کی۔ ہمارے ساتھ اسوقت مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے پاس کسی ایک کلاڑی کا دوسرا متبادل موجود نہیں ہے۔ یعنی کوئی اتنا اچھا متبادل کھلاڑی موجود نہیں جو کسی موجودہ کھلاڑی کی جگہ لے سکے۔ دراصل ہوا یہ کہ ماضی میں عامر سہیل اور ٹیم کے دوسرے کرتا دھرتا لوگوں نے تیس کے قریب کھلاڑیوں کو مو قع دیا اور پھر نکال دیا۔ اتنے تجربے کئے کہ کسی کھلاڑی کی جگہ ٹیم میں مضبوط نہیں ہوئی۔ ایسے لگتا تھا کہ ایک کھلاڑی آیا اور چلاگیا اور اس کے بعد اس کا نام بھی سننے کو نہیں ملا۔ بات یہ ہے کہ اگر آپ اپنے کھلاڑیوں پر اعتماد نہیں کریں گے تو وہ ہمیشہ عدم اعتماد کا شکار رہیں گے۔ اور یہ سب وہی نتائج ہیں جو ہم پہلے ہی بھگتا چکے ہیں۔
پاکستانی ٹیم کو سمجھانا اور ان کی کارکردگی بہتر بنانا ٹیم کے کوچ کا کام ہے۔ نو بالز اور وائیڈ بالز کے لئے کوئی خاص کوچ نہیں رکھا جاتا۔ یہ تو کھلاڑیوں کو خود خیال کرنا چاہئے کہ جب وہ اپنے ملک کے لئے کھیلتے ہیں تو نو بالز اور وائیڈ بالز کرنا ٹیم کے لئے بہت نقصان دہ ہوتا ہے اور دوسری ٹیم کو اس سے بہت فائدہ ہو سکتا ہے۔ پاکستانی ٹیم کی بولنگ میں اور دوسری غلطیوں کی ذمہ داری کوچ پر عائد ہوتی ہے۔
ہم نے بھارت کی ٹیم کو زیادہ اہمیت ان کی اچھی فیلڈنگ کی وجہ سے دینا شروع کی ہے۔ پہلے بھارت کی جو ٹیمیں پاکستان کا دورہ کرتی تھیں، ان کی فیلڈنگ کمزور ہوا کرتی تھی۔ لیکن بولنگ اور بیٹنگ کافی مضبوط ہوا کرتی تھی۔ بھارت کی فتح میں ان کے ایک بولر عرفان پٹھان کا سب سےاہم کردار ہے۔ پہلے تین ایک روزہ میچوں میں عرفان نہیں کھیلے تھے لیکن ان کے ٹیم میں شامل ہوتے ہی بھارت چوتھا اور پانچواں میچ ان کی شاندار کارکردگی کی وجہ سے جیت گیا۔اس ٹیسٹ میچ میں بھی عرفان نے وہ کمال گیند کئے ہیں کہ جو بھارت کا کوئی بھی دوسرا تیز بولر ابھی تک کرنے میں ناکام رہا ہے۔ دونوں ٹیموں میں کوئی خاص فرق نہیں ہے۔ بس بھارت کی ٹیم میں نظم و ضبط زیادہ ہے اور وہ خاصی پختہ ہو چکی ہے۔ اس کے مقابلے میں پاکستانی بیٹنگ اور بولنگ دونوں ناتجربہ کار ہیں۔
کپتان اور کوچ کی ہدایات کی اہمیت اپنی جگہ ہے لیکن پاکستانی ٹیم ٹیسٹ کے دوسرے ہی دن دباؤ میں آ گئی تھی۔ وہ مقابلہ ہی نہیں کر سکی اور پاکستانی بیٹسمین سیدھی سیدھی گیندوں پر ایل بی ڈبلیو ہونے لگے۔ ایک جمے ہوئے بیٹسمین کے آؤٹ ہوتے ہی بعد میں آنے والے بیٹسمین یکے بعد دیگرے آؤٹ ہونے لگتے تھے۔ پاکستانی ٹیم نے بیٹنگ میں کسی نظم کا مظاہرہ نہیں کیا اور یہ ایک مکمل ٹیم لگ ہی نہیں رہی تھی۔ پاکستانی کھلاڑیوں کو اپنے سینیئر کھلاڑیوں سے سیکھنا چاہئے۔ سینیئر کھلاڑی جب بیٹنگ کرنے جاتے تھے اور ٹک جاتے تھے تو اس کے بعد آؤٹ نہیں ہوتے تھے بلکہ لمبا سکور کرتے تھے جیسا کہ انضمام نے کیا اور سو سو رنز سکور بنائے۔ اگر آپ دیکھیں تو بھارت کی بولنگ اتنی مضبوط نہیں جتنی کبھی ہوا کرتی تھی۔ یہ ٹھیک ہے کہ بھارت کی ٹیم میں میڈیم پیسرز کے آنے سے فرق پڑا ہے جو پہلے نہیں ہوا کرتے تھے۔ لیکن بھارت کا سپن اٹیک بہت بہتر ہوا کرتا تھا۔ جہاں تک پاکستانی ٹیم کی ناپختہ کاری کا تعلق ہے تو اس سلسلے میں کوچ کو انہیں سمجھانا چاہئے کہ وہ صرف پاکستان کے لئے ہی نہیں کھیل رہے بلکہ انہیں ٹیم میں اپنی جگہ بھی مضبوط بنانی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||