BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 06 March, 2004, 09:07 GMT 14:07 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ون ڈے میچ بلے بازوں کا ہوتا ہے

سورو گنگولی اور انضمام الحق
مجموعی طور پر بھارتی ٹیم کا پلہ بھاری نظر آتا ہے
اگر پاکستان اور بھارت کی ٹیموں کا موازنہ کیا جائے تو پاکستان کی ٹیم بھارت کے مقابلے میں زیادہ نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ بیٹنگ کے شعبے میں بھارت کو ایک واضح برتری حاصل ہے اور اس کا ثبوت بھارتی کرکٹ ٹیم کی پچھلے دو سال میں اس شعبے میں اچھی کارکردگی ہے۔

تین کھلاڑیوں کو چھوڑ کر پاکستان کی ٹیم نوجوان اور ناتجربہ کار کھلاڑیوں پر مشتمل ہے۔ لیکن موجودہ حالات میں یہ بہترین ٹیم ہے اور تمام کھلاڑیوں کا چناؤ ان کی کارکردگی کی بنیاد پر ہوا ہے۔

بھارتی کپتان سورو گنگولی خوش قسمت ہیں کیونکہ ایک مضبوط بیٹنگ لائن اپ کے ساتھ ان کے پاس اچھے تیز بولر بھی ہیں جن میں ظہیر خان اور عرفان پٹھان شامل ہیں۔ لیکن ہربجن سنگھ اور انیل کمبلے کے نہ آنے سے بھارت کے بولنگ اٹیک پر منفی اثر پڑےگا۔ اس بات کا امکان ہے کہ انیل کمبلے کو ٹیسٹ میچوں کے لئے بلایا جائے لیکن کمبلے ایک روزہ میچوں میں بھی بہت مفید ثابت ہو سکتے ہیں۔

گنگولی خوش قسمت ہیں
بھارتی کپتان سورو گنگولی خوش قسمت ہیں کیونکہ ایک مضبوط بیٹنگ لائن اپ کے ساتھ ان کے پاس اچھے تیز بولر بھی ہیں جن میں ظہیر خان اور عرفان پٹھان شامل ہیں۔ لیکن ھربجن سنگھ اور انیل کمبلے کے نہ آنے سے بھارت کی بولنگ اٹیک پر منفی اثر پڑےگا۔

ایک روزہ میچوں میں اصل مقابلہ بلے بازوں میں ہوگا کیونکہ ایسے میچوں میں ہر بولر نےصرف دس اورز کرانے ہوتے ہیں اور ان دس اوورز میں جب بھی کسی بولر کو مار پڑتی ہے تو اسے بدلا بھی جا سکتا ہے۔ لہذا وکٹیں بھی بلے بازوں کے لئے ہی بنائی جاتی ہیں۔ اس لئے ایک روزہ میچوں کا دارومدار بڑی حد تک بلے بازوں پر ہو گا۔

وکٹوں کا جیت میں کردار تو ہوتا ہے لیکن پاکستان میں اسپنرز کے لئے سازگار وکٹوں کے بناۓ جانے کے امکانات بہت کم ہیں۔ شروع کے میچوں میں بھارتی اسپنرز کی کارکردگی کا بغور جائزہ لیا جائے گا جس کی رو شنی میں اسپنرز کے لئے سازگار وکٹوں کے بناۓ جانے کا فیصلہ کیا جائے گا۔

یاسر حمید
پاکستان کی ٹیم میں زیادہ تر کھلاڑی نوجوان ہیں

پاکستانی کے پاس ثقلین مشتاق اور شعیب ملک دونوں آف سپنرز ہیں لیکن دونوں کے بولنگ کے انداز میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ ثقلین ایک ورلڈ کلاس سپنر ہیں لیکن شعیب بولنگ سے زیادہ اچھی بیٹنگ کرتے ہیں اور ایک روزہ کرکٹ میں انہوں نے بہت رنز بھی بنائے ہیں۔ وہ فیلڈر بھی زیادہ اچھے ہیں اس لیئے ان کو زیادہ چانس ملنے کی امید ہے۔ اسپنرز کے لئے سازگار وکٹ کی صورت میں ثقلین کی ٹیم میں شمولیت کا امکان ہے ورنہ شعیب ملک ہی ٹیم میں شامل ہوں گے۔ ان کے علاوہ عبدالرزاق کی کارکردگی بولنگ اور بیٹنگ کے دونوں شعبوں میں بہت اچھی جا رہی ہے۔

بیٹنگ کے شعبے میں پاکستان کے کپتان انضمام الحق اور یوسف یوحنا کے علاوہ دوسرے بلے باز نسبتاً نوجوان اور ناتجربہ کار ہیں۔ دونوں اوپنرز بھی نوجوان ہیں۔ پاکستان کو ایک روزہ میچوں میں زیادہ سے زیادہ آل راؤنڈرز کھلانے چاہئیں اور اس مقصد کے لئے شعیب ملک، شاہد آفریدی، عبدالرزاق اور رانا نوید حسن اچھا چناؤ ثابت ہو سکتے ہیں۔ رانا نوید میڈیم فاسٹ گیند کے ساتھ اچھی بیٹنگ بھی کر لیتے ہیں۔

پہلا میچ ہر کسی کا ہوتا ہے
ہر کھلاڑی پہلی مرتبہ ضرور کھیلتا ہے، ہر کسی کا پہلا میچ ہوتا اور نوجوان کھلاڑی کو اس میں ثابت کرنا ہوتا ہے کہ وہ کیسی کارکردگی دکھا سکتا ہے۔ میں جب انیس سو اکہتر میں جب دورے پر گیا تھا تو میں بھی ’ینگسٹر‘ تھا۔ میں نے 274 رنز بنائے تھے۔ اس لیئے جب بھی نوجوانوں کو کوئی موقعہ ملے وہ اچھی کارکردگی دکھا کر اس کا فائدہ ضرور اٹھائیں۔

شاہد آفریدی کو بھی شاید نمبر تین پر کھیلنے کا چانس مل جائے۔ وہ آل راؤنڈر ہیں۔ میں یہ نہیں کہوں گا کہ وہ بہت اچھے بولر ہیں لیکن وہ بولنگ کے ساتھ ساتھ اچھی بیٹنگ اور فیلڈنگ بھی کر سکتے ہیں۔

اگر فیلڈنگ کے شعبے میں دونوں ٹیموں کا موازنہ کیا جائے تو بھارت کی ٹیم کا پلہ بھاری نظر آتا ہے۔ لیکن اصل دارومدار میچ کے دن کے کھیل پر ہوتا ہے۔ جو اس دن اچھی کارکردگی دکھا گیا جیت اسی کی ہوتی ہے۔

سینئر کھلاڑی زیادہ سے زیادہ نوجوان کھلاڑیوں کو کچھ تکنیکی گر بتا سکتے یا ان کا حوصلہ بڑھا سکتے ہیں۔ لیکن گراؤنڈ میں اصل مقابلہ کھلاڑیوں کو خود کرنا ہے۔ اسلئے کھلاڑیوں کو چاہیے کہ وہ تہیہ کر لیں کہ پاکستان کو جتانا ہے۔ اگر پا کستانی کھلاڑی موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کر سکیں تو نتائج پاکستان کے حق میں بہتر ہو سکتے ہیں۔

ہر کھلاڑی پہلی مرتبہ ضرور کھیلتا ہے، ہر کسی کا پہلا میچ ہوتا اور نوجوان کھلاڑی کو اس میں ثابت کرنا ہوتا ہے کہ وہ کیسی کارکردگی دکھا سکتا ہے۔ میں جب انیس سو اکہتر میں دورے پر گیا تھا تو میں بھی ’ینگسٹر‘ تھا۔ میں نے 274 رنز بنائے تھے۔ اس لیئے جب بھی نوجوانوں کو کوئی موقعہ ملے وہ اچھی کارکردگی دکھا کر اس کا فائدہ ضرور اٹھائیں۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد