فائنل میچ: اعصاب کی جنگ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لاہور کا میچ دونوں ٹیموں کے لئے سخت ہوگا۔ یہ ایک ایسا میچ ہوگا جن میں دونوں ٹیموں کو اپنے اعصاب پر قابو رکھنا پڑے گا۔ بھارت نے پچھلا میچ بڑے واضح برتری سے جیتا ہے۔ اس نے پانچ چھ وکٹوں کے خسارے کے باوجود بڑی سہولت سے میچ جیت لیا۔ بھارت کی بیٹنگ بڑی مضبوط ہے اور رنز کا تعاقب کرنے میں اسے بڑی مہارت ہے۔ پچھلے میچ میں بھارت نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ اس کے لئے تین سو کا ٹارگٹ بھی کوئی بڑا ٹارگٹ نہیں۔ آخری میچ کے لئے وکٹ پچھلے میچ جیسی ہو گی۔ موسم تھوڑا سا ابر آلود لگ رہا ہے لیکن بادل اتنے زیادہ بھی نہیں ہیں۔ مجموعی طور پر موسم ٹھیک ہے ٹاس پر کبھی بھی کوئی کپتان اتنا بھروسا نہیں کرتا۔ ٹاس ہارنے کا مطلب میچ ہارنا نہیں ہوتا۔ ٹاس ہارنے والے کو یہ پتہ ہوتا ہے کہ ٹاس ہارنے کی صورت میں اس کی حکمتِ عملی کیا ہو گی۔ اور اس حکمتِ عملی کی روشنی میں ٹیم میچ کی منصوبہ بندی کرتی ہے۔ میرے خیال میں پاکستان کو ٹاس جیتنے کی صورت میں بھارت کو بیٹنگ کرانی چاہیے تاکہ بعد میں کھیلتے ہوئے بھارت کی کمزور بولنگ کے خلاف پاکستان بھی رنز بنا سکے۔ پاکستانی ٹیم چند بڑے مسائل کا شکار ہے۔ پچھلے میچ میں پاکستان نےجیتاہوا میچ ہار دیا۔ لہذا اب پاکستانی بولر بہت دباؤ میں آ جائیں گے۔ اس کے علاوہ پاکستانی بیٹسینوں کے ذہن میں یہ بات ہونی چاہئے کہ انہیں جیتنے کے لئے اس دفعہ دو سو ترانوے سے بھی زیادہ رنز بنانے پڑیں گے۔ اس وقت پاکستانی بیٹنگ انضمام الحق اور یاسر حمید پر انحصار کر رہی ہے۔ اگلے میچ میں اگر انضمام سکور نہ کر پائے تو پاکستانی ٹیم بہت دباؤ میں آجائے گی۔ جہاں تک بولنگ میں ہمیں بھارت پر برتری حاصل ہونے کے دعوی کا تعلق ہے تو برتری تو جب ہو جب آپ لائن اور لینتھ کو برقرار رکھتے ہوئے بولنگ کریں۔ نو بال اور وائیڈ بال نہ کریں۔ جب آپ اتنی نو بال اور وائیڈ بال کریں گے تو اسطرح آپ اچھے بیٹسمین کو کھیلنے کے دو مواقع دے دیتے ہیں۔ جب آپ بڑے بیٹسمین کو کھیلنے کے دو مواقع دیتے ہیں تو وہ لازماّ وہ بڑا سکور کرے گا۔ اگر کوئی ملک کے لئے کھیلتا ہے اور نو بال اور وائیڈ بال کرتا ہے تو وہ نہ صرف اپنے آپ سے بلکہ ٹیم کے ساتھ بھی دشمنی کرتا ہے۔ اگر آپ دوسری ٹیم کو تین چار اوورز زیادہ کراتے ہیں تو عین ممکن ہے کہ آخری تین چار اوورز میں کوئی تیز کھیل کر پچاس یا ساٹھ رنز بنا لے اور ٹیم کے لئے نقصان کا باعث بن جائے۔ آپ ایک کمزور بولنگ کے خلاف دوسو ترانوے رنز کر سکتے ہیں۔ بھارت کی بولنگ پاکستان کے مقابلے میں کمزور ہے۔ صرف عرفان پٹھان نے کچھ اچھی گیندیں کی ہیں۔ باقی بولنگ کوئی اعلی معیار کی نہیں۔ بھارت کو آؤٹ کرنے کے لئے پاکستان کو غیر معمولی طور پر اچھی بولنگ کرنی پڑے گی۔صرف تیز گیندیں اور نو بال اور وائیڈ بال کرانے سے بات نہیں بنتی۔ اچھی بولنگ کے لئے آپ کو لائن اور لینتھ صحیح رکھی ہو گی اور نئ گیند کا اچھا استعمال ضروری ہو گا۔ اگر آپ شروع کے دو تین بیٹسمین جلدی آؤٹ کر دیں تو دوسری ٹیم پر دباؤ پڑ جاتا ہے۔ اگر شرو ع ہی سے کوئی بولر لائن اور لینتھ نہ رکھے اور اسکو چوکے چھکے پڑنے شروع ہو جائیں تو کپتان کے لئے بہت مسئلہ ہو جاتا ہے۔ پاکستان کے دونوں اوپننگ تیز بولرز ٹیم کی بولنگ کے لئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اگر یہ بولرز کو پہلے پانچ چھ اوورز میں ستر اسی رنز دے دیں تو کپتان کے لئے پریشانی تو ہوتی ہی ہے۔ میرے خیال میں جب آپ پاکستان کی طرف سے میچ کھیلتےہیں تو آپ کو ہمیشہ پیشہ ورانہ انداز میں کھیلنا چاہیے اور ہر طرح کے نامسائد حالات کے لئے تیار رہنا چاہئے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||