BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 18 March, 2004, 21:04 GMT 02:04 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سیریز کا اہم ترین میچ

کرکٹ ایکشن
’اس پچ پر دو سو اسی سکورکافی رہے گا‘
پاکستان اور بھارت کے درمیان میچوں کی موجودہ سیریز میں پشاور میں کھیلا جانے والا آج کا میچ اہم ترین ہے کیونکہ جو ٹیم ہارے گی سخت دباؤ میں آ جائے گی تاہم پاکستان بہتر بولنگ کی وجہ سے اچھی پوزیشن میں ہے۔

جو ٹیم جیتے گی اس کا سکور دو ایک ہو جائے گا اور دوسری ٹیم پر دباؤ بہت بڑھ جائے گا اس لئے ہر کوئی سبقت لینا چاہے گا۔

پشاور کی پچ ڈیڈ سے بھی زیادہ ڈیڈ ہے۔ اس پر بال نیچے رہتا ہے اس لئے دوسری باری لینے والی ٹیم نقصان میں رہے گی۔

اس پچ پر دو سو اسی سکور کافی رہے گا اور پہلے باری لینے والی ٹیم فائدہ میں رہے گی۔

اس وقت بھارت کی ٹیم بہترین بلے بازی کرنے والی ٹیم ہے لیکن اس کی بولنگ بہت زیادہ کمزور ہے جبکہ پاکستان کی بولنگ سائیڈ بہتر ہے۔

جس طرح کے میچ ہو رہے ہیں ایسے میچ دنیا میں کہیں نہیں ہوئے۔ تین سو سے زیادہ سکور ہو رہا ہے اور پاکستانی ٹیم ہدف تک بھی پہنچ رہی ہے۔ ایسا کبھی نہیں ہوا۔ آپ اس سے اندازہ لگا لیں کہ بھارت کی بولنگ کمزور ہے جبکہ پاکستان کی بولنگ قدرے بہتر ہے اور اس کے بولروں نے پچھلے میچ میں خاصی درست لائن اور لینتھ سے گیندیں کی ہیں۔ وائیڈ اور نو بال بھی بہت کم کئے ہیں۔ یہ اچھی بات دیکھنے میں آئی ہے۔

پاکستانی کھلاڑی آخری اوورز میں میچ کو آسان لے لیتے ہیں۔ راولپنڈی میں ایسا لگ رہا تھا کہ انڈیا سکور کے قریب پہنچ گیا اور میچ کلوز ہو گیا جبکہ اس کی ضرورت نہیں تھی۔ یہ میچ تو ایسے ہوتے ہیں کہ آخری گیند پڑنے تک آپ کچھ نہیں کہہ سکتے۔

میرے خیال میں پاکستان کی ٹیم کوئی تبدیلی نہیں کرے گی کیونکہ اس کے دونوں اوپنر اچھا کھیلے ہیں اور انھوں نے اسی اسی سکور کیا ہے۔ یہ وننگ کومبینیشن ہے۔ توفیق عمر کو اعتماد دینے کے لئے سولہ کھلاڑیوں میں شامل کیا گیا ہے تاہم اسے ٹیم میں شامل نہیں کیا جائے گا۔

یہ خوش آئند بات ہے کہ پاکستان کے نوجوان کھلاڑی اچھے کھیل کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ یاسر اچھا کھیلا ہے توفیق عمر ٹھیک ہے اس سے پاکستانی کرکٹ کو فائدہ ہو گا۔

بھارتی نوجوان کھلاڑی بھی اچھا کھیل دکھا رہے ہیں۔ اشیش نہرا اور بالاجی کی کارکردگی اچھی ہے۔

میرا نوجوان کھلاڑیوں کو مشورہ ہے کہ وہ کھیل کے ہر شعبہ میں مہارت پیدا کریں کیونکہ کرکٹ اب بہت تبدیل ہو گئی ہے۔ وہ دور نہیں رہا جب کھیل بولر اور بیٹسمین کے درمیان ہوتا تھا۔ نوجوان کھلاڑیوں کو چاہئے کہ وہ بولنگ اور بیٹنگ کے ساتھ ساتھ فیلڈنگ میں بھی مہارت پیدا کریں۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد