BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 08 November, 2005, 07:29 GMT 12:29 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اسپنرز پرانحصار نہیں: انضمام

انضمام الحق
انضمام الحق کا کہنا ہے کہ پاکستان کی پیس بیٹری بھی کسی سے کم نہیں ہے
پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان انضمام الحق یہ ماننے کے لیے تیار نہیں کہ وہ انگلینڈ کے خلاف ہوم سیریز میں کامیابی کے لیے اسپنرز پر انحصار کیے ہوئے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ٹرننگ وکٹیں بنانے کے بار ے میں پایا جانے والا تاثر درست نہیں۔

پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان تین ٹیسٹ میچوں کی سیریز کا پہلا ٹیسٹ ہفتے سے ملتان میں شروع ہونے والا ہے اور عام تاثر یہ ہے کہ پاکستانی ٹیم اسپن کے ذریعے انگلش بیٹسمینوں کو قابو کرنے کی حکمت عملی بنارہی ہے۔ سیریز میں ایسی وکٹیں بنائی جارہی ہیں جو اسپنرز کو غیرمعمولی مدد دیں گی۔

انضمام الحق نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی پیس بیٹری بھی کسی سے کم نہیں ہے۔

مشتاق احمد کی ٹیم میں شمولیت کے بار ے سوال پر پاکستانی کپتان کا کہنا ہے کہ اگر زیادہ اسپنرز کی ضرورت پڑتی ہے تو زیادہ بہتر یہ ہوگا کہ کسی نئے کے بجائے تجربہ کار بالر کو موقع دیا جائے۔ مشتاق احمد کو اسی سوچ کے تحت ممکنہ کھلاڑیوں میں رکھا گیا ہے لیکن ملتان کرکٹ اسٹیڈیم کی وکٹ دیکھنے کے بعد ہی بالنگ اٹیک کو حتمی شکل دے جاسکے گی۔

 انضمام کا کہنا ہے کہ وہ بھارت اور ویسٹ انڈیز جیسی کارکردگی انگلینڈ کے خلاف بھی دوہرانے کی کوشش کریں گے۔

102ٹیسٹ میچوں میں7621 رنز بنانے والے انضمام الحق اس بات کا برملا اعتراف کرتے ہیں کہ پاکستانی ٹیم ویسٹ انڈیز کے دورے کے بعد سے بین الاقوامی کرکٹ نہیں کھیلی جو پریشان کن ہے۔ تاہم کھلاڑیوں نے آف سیزن میں فزیکل ٹریننگ جاری رکھی ہے اور انہیں امید ہے کہ کھلاڑی اس چیلنج سے عہدہ برا ہونے کے لیے تیار ہیں۔

انضمام الحق کا اپنی بیٹنگ کے بار ے میں کہنا ہے کہ وہ بھی کافی دنوں سے کرکٹ نہیں کھیلے۔ انہیں اس بات کا بھی بخوبی اندازہ ہے کہ شائقین ان سے بہت زیادہ توقعات وابستہ کرتے ہیں وہ بھارت اور ویسٹ انڈیز جیسی کارکردگی انگلینڈ کے خلاف بھی دوہرانے کی کوشش کریں گے۔

انضمام کی سوچ یہ ہے کہ کارکردگی بھی اسی وقت بہتر ہوتی ہے جب مقابل حریف مضبوط ہو۔

انضمام الحق کے لیے اپنے آبائی شہر ملتان میں کھیلے جانے والے ٹیسٹ میچ ہمیشہ خوش بختی کی علامت رہے ہیں تین ٹیسٹ میچوں میں وہ دو سنچریاں اور ایک نصف سنچری بناچکے ہیں۔ وہ اس کارکردگی کو برقرار رکھنے کے لیے پرعزم ہیں۔

بحیثیت کپتان 14 ٹیسٹ میچوں میں5 جیت اور6 شکست کا ریکارڈ رکھنے والے انضمام الحق کہتے ہیں کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہوم سیریز میں پاکستانی ٹیم کا حالیہ ریکارڈ متاثر کن نہیں ہے لیکن موجودہ پاکستانی ٹیم اچھے نتائج دینے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔

انضمام الحق کا کہنا ہے کہ انگلینڈ کی ٹیم کی ایشیز کی حالیہ جیت کو بھی بالائے طاق رکھ دیا جائے تب بھی اس کی گزشتہ چند برسوں کی کامیابیاں اسے ایک مضبوط ٹیم ثابت کرچکی ہیں۔

موجودہ انگلش ٹیم پانچ سال قبل پاکستان کے دورے پر آنے والی ٹیم سے بہت مختلف اور متوازن ہے جسے شکست دینے کے لیے غیرمعمولی پرفارمنس دینی ہوگی۔

اس سوال پر کہ کوئی خاص بیٹسمین ہدف پر ہوگا توانضمام الحق نے بتایا کہ تمام ہی بیٹسمین تجربہ کار ہیں البتہ اسٹراس اور فلنٹوف خطرناک ثابت ہوسکتے ہیں۔

 مائیکل وان کی قیادت میں انگلینڈ کی ٹیم کی کارکردگی سب کے سامنے ہے یقینا ان کی غیرمومودگی سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کی جائے گی لیکن وان کے بغیر بھی انگلینڈ کی ٹیم کمزور نہیں ہوگی۔

انضمام الحق کے خیال میں اگر پاکستانی بولرز صبح کے سیشن میں انگلش وکٹیں جلد حاصل کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں تو پھر دباؤ مہمان ٹیم پر ہوگا۔

مائیکل وان کی غیر موجودگی سے پاکستانی ٹیم کو کتنا فائدہ ہوسکتا ہےاس بارے میں انضمام الحق کا کہنا ہے کہ مائیکل وان کی قیادت میں انگلینڈ کی ٹیم کی کارکردگی سب کے سامنے ہے یقینًا ان کی غیرموجودگی سے وہ فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں گے لیکن وان کے بغیر بھی انگلینڈ کی ٹیم کمزور نہیں ہوگی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد