مالی مشکلات: باکسر ناک آؤٹ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی باکسروں کو آئندہ دو ماہ کے دوران ورلڈ کیڈٹ اور ورلڈ سینئر باکسنگ چیمپئن شپ میں حصہ لینا ہے لیکن مالی مشکلات کےسبب دونوں عالمی مقابلوں میں ان باکسروں کی شرکت خطرے سے دوچار دکھائی دیتی ہے۔ ورلڈ کیڈٹ چیمپئن شپ نو سے انیس اکتوبر تک لیورپول میں ہوگی جبکہ ورلڈ باکسنگ چیمپئن شپ کا انعقاد نومبر میں چین میں ہونا ہے۔ پاکستان باکسنگ فیڈریشن کے سربراہ پروفیسر انور چوہدری کا کہنا ہے کہ وہ پاکستان اسپورٹس بورڈ کو باکسرز کی تربیت اور مقابلوں میں شرکت کے لیے درکار گرانٹ کی فراہمی کے لیے خطوط لکھ لکھ کر تھک چکے ہیں۔ صدر پرویز مشرف نے باکسنگ کے لیے جس گرانٹ کا اعلان کیا تھا وہ پوری نہیں مل سکی ہے۔ پروفیسرانورچوہدری کا کہنا ہے کہ اگر تین باکسر بھی ورلڈ کیڈٹ چیمپئن شپ میں حصہ لینے میں کامیاب ہوجاتے ہیں تو یہ بڑی بات ہوگی۔ پاکستان باکسنگ فیڈریشن نے ورلڈ باکسنگ چیمپئن شپ کی تیاری کے لیے سات باکسروں کو تین ہفتے کے تربیتی پروگرم کے تحت قزقستان بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے جس کے لیے تقریبا بارہ لاکھ روپے درکار ہوں گے اس بارے میں بھی فیڈریشن پریشانی سے دوچار ہے۔ باکسنگ رنگ میں پاکستانی باکسروں نے ہمیشہ غیرمعمولی کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے لیکن اس کھیل کو وہ مقام نہیں مل سکا جس کا وہ مستحق ہے۔ سینے پر تمغے سجانے والے پاکستانی باکسر ہمیشہ اپنے حریف باکسروں سے |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||