عراقی باکسرزاور امریکی کوچ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
تیسرے اولمپک باکسنگ کوالیفائنگ ٹورنامنٹ میں جو جمعرات سے کراچی میں شروع ہورہا ہے حصہ لینے والے 32 ممالک میں سب سے زیادہ توجہ کا مرکز عراق ہے جہاں اس وقت اتحادی فوجوں کے خلاف مزاحمت شدت کے ساتھ جاری ہے۔ لیکن ایک ایسے ملک میں جہاں امریکہ نفرت کی علامت ہے اس کے باکسرز اولمپکس کی تیاری کے لئے امریکی کوچ کے تجربے سے استفادہ کررہے ہیں ۔ اولمپک باکسنگ کوالیفائنگ ٹورنامنٹ میں حصہ لینے کے لئے عراق کے آٹھ باکسرز امریکی کوچ مورس لن واٹکنز کے ساتھ کراچی پہنچے ہیں ۔ ان باکسرز میں نجاہ ایس علی، جلال فادل ، سراکا مہدی ، آرایف عجلان ،علی طالب ، زہیر جابر ، جمال علی اوراحمد ناصر شامل ہیں۔ امریکی کوچ واٹکنز خود پروفیشنل باکسر ہیں وہ انیس سو اسی میں جونیئر ویلٹر ویٹ باکسنگ کی ٹائٹل فائٹ لڑے تھے جس میں انہیں شکست ہوئی تھی۔ عراق میں اسپورٹس مشیر کی ذمہ داری نبھانے والے واٹکنز کا کہنا ہے کہ وہ عراقی باکسرز کی تربیت وہ چیلنج سمجھ کر کررہے ہیں یہ چیلنج کسی اور کا نہیں بلکہ ان کی بیوی نے دیا کہ وہ موجودہ صورتحال میں عراقی باکسرز کی کامیاب ٹریننگ میں کامیاب نہیں ہوسکیں گے لیکن انہیں یقین ہے کہ وہ عراق میں باکسنگ کو مقبول کھیل بنانے میں کامیاب ہوجائیں گے ان کا کہنا ہے کہ کراچی کے ٹورنامنٹ سے کم ازکم دو باکسرز ایتھنز اولمپکس کے لئے کوالیفائی کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔ 1960 کے روم اولمپکس کے بعد سے عراق باکسنگ میں تمغہ جیتنے میں ناکام رہا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||