برطانوی میڈیامعافی مانگے: وسیم | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان وسیم اکرم نے انگلینڈ کے میڈیا سے کہا ہے کہ وہ پاکستانی بولرز پر کیے جانے والے بال ٹمپرنگ کے الزام پر معافی مانگے۔ ان کا کہنا ہے کہ جب1992 کے دورہ انگلینڈ میں پاکستانی بولرز نے ریورس سوئنگ کا مظاہرہ کیا تو اسے بددیانتی کا نام دیا گیا اور اب جب انگریز بولرز ریورس سوئنگ کررہے ہیں تو یہ ان کے نزدیک آرٹ ہے۔ وسیم اکرم نے جوان دنوں سنگاپور میں ای ایس پی این اسٹار اسپورٹس پر پروگرام کی میزبانی کر رہے ہیں بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ریورس سوئنگ میں پاکستانی بولرز ہمیشہ یکتا رہے ہیں۔ عمران خان سے انہوں نے سیکھی وقار یونس اس فن میں ماہر ہوئے اور پھر دوسرے بولرز کو یہ فن منتقل ہوتا رہا۔ دنیا نے یہ فن پاکستانی بولرز سے ہی سیکھا ہے۔ وسیم اکرم کا کہنا ہے کہ انگریز بیس سال بعد ریورس سوئنگ کے فن سے آشنا ہوئے۔ اسوقت انگلش بولرز جو کچھ کر رہے ہیں وہ سب کچھ انہوں نے ہم سے سیکھا ہے اس کی بڑی مثال فلنٹوف ہیں جو ان کے ساتھ کاؤنٹی کرکٹ کھیلتے رہے ہیں۔ وسیم اکرم کے خیال میں پاکستان کے خلاف سیریز میں سائمن جونز اور فلنٹوف پاکستانی بیٹسمینوں کےلئے خطرہ ثابت ہونگے اور انہیں بہت احتیاط سے کھیلنا ہوگا تاہم سردیوں میں سیریز ہونے کی وجہ ریورس سوئنگ کم ہوگی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||