BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 15 September, 2005, 16:06 GMT 21:06 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
برطانوی میڈیامعافی مانگے: وسیم

وسیم اکرم
ریورس سونگ کے دو بڑے ماہر وسیم اکرم اور وقار یونس
پاکستانی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان وسیم اکرم نے انگلینڈ کے میڈیا سے کہا ہے کہ وہ پاکستانی بولرز پر کیے جانے والے بال ٹمپرنگ کے الزام پر معافی مانگے۔

ان کا کہنا ہے کہ جب1992 کے دورہ انگلینڈ میں پاکستانی بولرز نے ریورس سوئنگ کا مظاہرہ کیا تو اسے بددیانتی کا نام دیا گیا اور اب جب انگریز بولرز ریورس سوئنگ کررہے ہیں تو یہ ان کے نزدیک آرٹ ہے۔

وسیم اکرم نے جوان دنوں سنگاپور میں ای ایس پی این اسٹار اسپورٹس پر پروگرام کی میزبانی کر رہے ہیں بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ریورس سوئنگ میں پاکستانی بولرز ہمیشہ یکتا رہے ہیں۔

عمران خان سے انہوں نے سیکھی وقار یونس اس فن میں ماہر ہوئے اور پھر دوسرے بولرز کو یہ فن منتقل ہوتا رہا۔ دنیا نے یہ فن پاکستانی بولرز سے ہی سیکھا ہے۔

وسیم اکرم کا کہنا ہے کہ انگریز بیس سال بعد ریورس سوئنگ کے فن سے آشنا ہوئے۔

اسوقت انگلش بولرز جو کچھ کر رہے ہیں وہ سب کچھ انہوں نے ہم سے سیکھا ہے اس کی بڑی مثال فلنٹوف ہیں جو ان کے ساتھ کاؤنٹی کرکٹ کھیلتے رہے ہیں۔

وسیم اکرم کے خیال میں پاکستان کے خلاف سیریز میں سائمن جونز اور فلنٹوف پاکستانی بیٹسمینوں کےلئے خطرہ ثابت ہونگے اور انہیں بہت احتیاط سے کھیلنا ہوگا تاہم سردیوں میں سیریز ہونے کی وجہ ریورس سوئنگ کم ہوگی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد