وسیم، وقاراورعاقب سے کام لیں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کرکٹ بورڈ نے چار فاسٹ بولرز کو بھارت کی ایم آر ایف اکیڈمی میں بھیجا ہے جہاں مشہور آسٹریلوی فاسٹ بولر ڈینس للی ٹریننگ دیتے ہیں لیکن پاکستانی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور اپنے دور کے عظیم فاسٹ بولر عمران خان اس فیصلے سے خوش نہیں ہیں۔ عمران خان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ پاکستانی بولرز کو بھارتی اکیڈمی بھیجنے کے پاکستان کرکٹ بورڈ کے اس فیصلے کو’گھر کی مرغی دال برابر‘ والی بات سمجھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بلاشبہ ڈینس للی ایک عظیم بولر ہیں لیکن پاکستان میں وسیم اکرم، وقاریونس اور عاقب جاوید جیسے بولرز موجود ہیں جن کے وسیع تجربے سے پاکستان کرکٹ بورڈ استفادہ کرسکتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اگر کرکٹ بورڈ کے پاس بہت پیسہ آگیا ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ اسے لٹایا جائے۔’ایک ایک پیسے کا حساب ہونا چاہیے لیکن یہ اسی وقت ہوسکے گا جب کرکٹ بورڈ سے ایڈہاک ازم ختم ہوگا اور اس کے معاملات جمہوری انداز سے چلائے جائیں گے۔‘ عمران خان ٹیسٹ کرکٹ کی طرح ایک روزہ مقابلے میں بھی دو غیر جانبدار امپائرز کی تجویز سے خوش ہیں لیکن ان کا کہنا ہے کہ آئی سی سی اسے باقاعدہ اپنے قوانین کا حصہ بنائے اور اس کو کرکٹ بورڈ کی صوابدید پر نہ چھوڑا جائے۔ عمران خان نے سب سے پہلے امپائرنگ کے تنازعات کے خاتمے کے لیے غیرجانبدار امپائرز کی تقرری کی تجویز پیش کی تھی جس کے نتیجے میں1986ء میں پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان ہونے والی سیریز میں بھارتی امپائرز نے امپائرنگ کی تھی۔ عمران خان کا خیال ہے کہ نئے قوانین سے ایک روزہ کرکٹ کی خوبصورتی میں اضافہ ہوگا۔ ان کا کہنا ہے کہ نئے تجربات کا مقصد کھیل کی دلچسپی میں اضافہ کرنا ہوتا ہے۔ عمران خان کہتے ہیں کہ ان قوانین سے ذہین کپتان فائدہ اٹھائیں گے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||