نئے قوانین کپتانوں کے لیے چیلنج | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کپتان انضمام الحق کہتے ہیں کہ آئی سی سی کی جانب سے متعارف کرائے جانے والے نئے قوانین بظاہر دلچسپ معلوم ہوتے ہیں لیکن درحقیقت یہ کپتانوں کی صلاحیتوں کا امتحان ہیں۔ آئی سی سی نے اپنے حالیہ اجلاس میں دو نئے قوانین آزمائشی طور پر متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔ پہلے قانون کے تحت ایک روزہ میچ کے دوران اگر کسی بھی مرحلے پر کپتان محسوس کرتا ہے کہ اس کا کوئی کھلاڑی مؤثر ثابت نہیں ہورہا ہے تو وہ اسے کسی دوسرے کھلاڑی سے تبدیل کرسکے گا اور نیا آنے والا کھلاڑی باقی ماندہ میچ میں کھیلے گا جبکہ تبدیل کیا گیا کھلاڑی میچ کا حصہ نہیں رہےگا۔ دوسرے قانون کے تحت فیلڈنگ کے دوران دائرے میں کھلاڑیوں کی لازمی موجودگی کی شرط میں ردوبدل کیا گیا ہے۔ نئے قوانین کے تحت فیلڈرز کے لیے پہلے پندرہ کی بجائے دس اووروں تک دائرے میں رہنا لازمی ہوگا اور اس کے بعد دو بار پانچ پانچ اوور تک ایسا ہوگا لیکن یہ کس اووروں میں ہوگا اس بات کا فیصلہ فیلڈنگ کرنے والی ٹیم کے کپتان کا ہوگا۔ انضمام الحق کا کہنا ہے کہ دونوں قوانین کو موثر طور پر استعمال کرنا کسی بھی کپتان کے لیے آسان نہ ہوگا درحقیقت یہ اس کی صلاحیتوں کا امتحان ہوگا۔ پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کپتان کہتے ہیں کہ جب میچوں کے دوران ان قوانین کا استعمال ہوگا اسی وقت ان کے بارے میں حتمی رائے قائم کی جاسکےگی بظاہر یہ دلچسپ معلوم ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ انضمام الحق آئندہ سال انگلینڈ کے دورے میں چار ٹیسٹ میچ کرائے جانے کے فیصلے پر بھی خوشی کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ پاکستانی ٹیم نے2001 میں اپنے آخری دورۂ انگلینڈ میں دو ٹیسٹ میچ کھیلے تھے۔ان دنوں بھی وہ زیادہ تر دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز ہی کھیلتی رہی ہے جن میں جنوبی افریقہ اور سری لنکا کے خلاف ہوم سیریز کے علاوہ نیوزی لینڈ اور ویسٹ انڈیز کے دورے شامل ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||