آئی سی سی: وسیم باری سے معذرت | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے پاکستانی چیف سلیکٹر وسیم باری سےچیف ایگزیکٹیو میلکم اسپیڈ کے بیان سے ہونے والی ذہنی کوفت پر ایک خط کے ذریعے افسوس ظاہر کیا ہے۔ وسیم باری نےہالینڈ میں ہونے والے سہ فریقی ٹورنامنٹ میں انضمام الحق اور یوسف یوحنا کو آؤٹ قرار دینے کے لیے امپائر ڈیوڈ شیپرڈ کے دو فیصلوں پر تنقید کی تھی، جسے پاکستان کرکٹ بورڈ نے خموش رہتے ہوئے، وسیم باری کے ذاتی خیالات قرار دیا تھا لیکن اس بارے میں آئی سی سی کے چیف ایگزیکٹیو میلکم اسپیڈ کا شدید ردعمل سامنے آیا تھا۔ آئی سی سی نے میلکم اسپیڈ کے وسیم باری کو سرزنش کیے جانے کے خط کے میڈیا میں آنے پر افسوس ظاہر کیا ہے کیونکہ اس کی وجہ سے باری کو شدید ذہنی اذیت کا سامنا کرنا پڑا۔ وسیم باری کو بھیجے گئے آئی سی سی کے تازہ ترین خط میں اگرچہ معافی کا لفظ موجود نہیں لیکن آئی سی سی نے یہ اعتراف کیا ہے کہ جو کچھ ہوا وہ نہیں ہونا چاہیے تھا کیونکہ بقول آئی سی سی وسیم باری سلیکٹر ہونے کے ناطے آئی سی سی کے ضابطہ اخلاق کے دائرے میں نہیں آتے۔ وسیم باری نے آئی سی سی کی یہ معذرت قبول کرلی ہے۔
ممتاز مبصر عمر قریشی کا کہنا ہے کہ آئی سی سی نے مناسب انداز میں وسیم باری سے معافی نہیں مانگی لیکن خط کے مندرجات یہی کہتے ہیں کہ یہ معافی ہی ہے۔ عمر قریشی کو اس بات پر افسوس ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے اس تمام معاملے میں خاموش تماشائی کا کردار ادا کیا۔ سابق کپتان عمران خان نے اس معاملے میں پاکستان کرکٹ بورڈ کے خموشی اور معذرت خواہانہ رویے پر تنقید کی تھی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||