’لیگ سپنر کو ٹیم میں شامل کریں‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
رمیز راجہ کے مطابق بھارت نے میچ کے پہلے آدھے گھنٹے ہی میں پاکستان کو اس میچ سے باہر کر دیا تھا۔ رمیز راجہ نے کہا ہے کہ اگر دوسرے ون ڈے میچ میں پاکستان نے اپنی وکٹیں ضائع نہ کی ہوتیں تو وہ شاید 356 کا بڑا ٹارگٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتا۔ دوسرے ون ڈے میچ کے بعد بی بی سی کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے رمیز راجہ نے کہا وہ چاہتے تھے کہ پاکستان اتنے ٹارگٹ کے اتنا قریب آجاتا کہ اس کا مورال بہتر ہوتا۔ رمیز راجہ کے مطابق بھارت نے میچ کے پہلے آدھے گھنٹے ہی میں پاکستان کو اس میچ سے باہر کر دیا تھا۔ رمیز راجہ نے کہا وریندر سہواگ اور مہندر دھونی کھیل رہے تھے تو انضمام کے پاس بہت ہی کم آپشنز تھے۔ رمیز راجہ کے مطابق اگر ٹیم میں ایک لیگ سپنر شامل ہو تو اس بات کا امکان ہوتا ہے کہ تیز کھیلنے والے ٹاپ ایج کریں۔ انہوں نے کہا وریندر سہواگ تو ہمیشہ چانس لیتے ہیں۔ رمیز راجہ کے مطابق ان بیٹنگ وکٹوں پر رنز روکنے بہت مشکل ہوتے ہیں اور ہربھجن سنگھ جیسا منجھا ہوا سپنر بھی زیادہ اچھی کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کر پا رہا ہے۔ ٹیم کے ٹاس ہارنے کے بارے میں رمیز راجہ نے کہا کہ اس طرح کی سوچ منفی ہوتی ہے۔ انٹرنیشل کرکٹ میں یہ چیزیں معمولی ہوتی ہیں کہ ٹاس کس نے جیتا اور موسم کیسا تھا ایسی باتیں کرنے سے ٹیم کا موارل تباہ ہو جاتا ہے۔ شاہد آفریدی کے جلدی آؤٹ ہونے کے بارے میں رمیز راجہ نے کہا کہ آفریدی کے جلدی آؤٹ ہونے سے ٹیم پر کوئی پریشر نہیں پڑا تھا لیکن عبد الرزاق نے بہت اچھی بیٹنگ کی۔ رمیز راجہ نے کہا سلمان بٹ جیسے نوجوان کھلاڑیوں کو اپنی وکٹ کی حفاظت کرنی پڑے گی۔رمیز راجہ نے کہا کہ وہ چھتیس کے سکور پر ایک غیر ذمہ دارانہ شاٹ کھیل کر آؤٹ ہوئے۔ رمیز راجہ نے کہا کہ اگر وہ اسی غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے رہے تو وہ ٹیم میں اپنی پوزیشن برقرار نہیں رکھ سکیں گے۔ رمیز راجہ نے کہا کہ دانش کنیریا کی ٹیم میں جگہ بنتی ہے۔ انہوں نے کہا وہ بہت عرصے سے’ رو پیٹ‘ رہے ہیں کہ دانش کنیریا کو ٹیم میں شامل ہونا چاہیے‘ انہوں نے کہا کہ ایسی وکٹوں پر جہاں سچن تندولکر اور یوراج سنگھ کھیلنے مشکل ہو رہے ہیں وہاں دانش کنیریا موثر ثابت ہو سکتے ہیں اور ایسی صورتحال میں اگر انضمام الحق ٹاس جیت جائیں اور دانش کنیریا کو دوسری اننگز میں بولنگ کا موقع ملے تو ان کی افادیت زیادہ ہو سکتی ہے۔ رمیز راجہ کے خیال میں ٹیم میں ضرورت سے زیادہ آل راونڈر بھر ے ہوئے ہیں۔ اور عاصم کمال کو ٹیم میں شامل کیا جانا چاہیے کیونکہ وہ بائیں ہاتھ کے کھلاڑی ہیں اور تندولکر کی لیگ سپن کے سامنے موثر ثابت ہو سکتے ہیں۔ رمیز راجہ کے مطابق محمد حفیظ ، شعیب ملک کی ٹیم میں شمولیت پر غور کیا جانا چاہیے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||