کیا سورو کپتان رہیں گے؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان سے کرکٹ سیریز ہار کر کپتانی سے ہاتھ دھونے کی روایت ہندوستان میں پرانی ہے۔ بشن سنگھ بیدی ، کرشنماچاری سری کانت کا نام اس سلسلے میں فوراً ذہن میں آتا ہے۔ اور اب لگتا ہے کہ ’پرنس آف کلکتہ اور شیرِ بنگال‘ سورو گنگولی کا نام جلدی ہی اس فہرست میں شامل ہو جائے گا یا کم از کم کرکٹ کے ماہر صحافی تو یہی چاہتے ہیں۔ لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ ہندوستان نہ تو سیریز ہارا ہے اور نہ ہی کسی مرحلے پر ایسا لگا کہ پاکستان اس پر پوری طرح حاوی ہوا ہو۔ اگر اب تک کے پندرہ دنوں کے کھیل کا جائزہ لیا جائے تو صرف بنگلور میں آخری دن ایسا لگا کہ ہندوستانی ٹیم بکھر سی رہی ہے۔ باقی وقت نہ تو سورو کی کپتانی میں کوئی کمی تھی، نہ ہندوستانی ٹیم کےکھیل میں۔ تو پھر ہندوستانی اخبارات سورو گنگولی کو کیوں نشانہ بنا رہے ہیں، اور کیوں پوری شدت سے انہیں نہ صرف کپتانی سے ہٹانےبلکہ ٹیم سے نکالنے کا مطالبہ ہو رہا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ سورو بیٹنگ میں پوری طرح ناکام رہے ہیں۔ پانچ اننگز میں مجموعی طور پر وہ پچاس رن پورے نہیں کر سکے۔ اور جب بنگلور ٹیسٹ میں ٹیم کو ان کی سخت ضرورت تھی، تو وہ شاہد آفریدی کی گیند پر نہ صرف بولڈ ہوگئے، بلکہ انہیں اس کی خبر تک نہ ہوئی۔ آج ہر اخبار نے سورو کے بارے میں کچھ نہ کچھ لکھا ہے۔ مثال کے طور پر انڈین ایکسپریس کا کہنا ہے کہ گنگولی کو باہر کیا جائے اور ان کی جگہ ڈریوڈ کو کپتانی سونپی جائے۔ مڈل آرڈر میں سورو کی جگہ محمد کیف یا یوراج سنگھ کو دی جا سکتی ہے۔ ٹائمز آف انڈیا کے مطابق سورو نے بنگلور ٹیسٹ کے آخری دن ضرورت سے زیادہ دفاعی حکمت عملی اختیار کی جس کا خمیازہ ٹیم کو ہار کی شکل میں بھگتنا پڑا۔ باقی سبھی اخبارات نے بھی اسی طرز پر ان کی نکتہ چینی کی ہے۔ اگر سورو جاتے ہیں تو کپتانی کس کے ہاتھ لگے گی؟ ٹیم میں تین سابق کپتان موجود ہیں۔ سچن تندولکر، جو باقاعدہ کپتان تھے، اور کمبلے اور ڈریوڈ ، جنہوں نے سورو کے فٹ نہ ہونے کی صورت میں عارضی طور پر کپتانی کے فرائض انجام دیے۔ کپتان کی حیثیت سے سچن کا تجربہ بہت تلخ رہا اور وہ اس دور میں بیٹنگ میں بالکل فلاپ ہوگئے تھے وہ بھی ایسے وقت میں جب ایک بیٹسمین کی حیثیت سے وہ اپنے عروج پر تھے۔ لہذا اس بات کا امکان کم ہے کہ کپتانی سنبھالنے میں ان کی کوئی خاص دلچسپی ہوگی۔ کمبلے کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان کے پاس ایک اچھا ’کرکٹنگ برین’ ہے لیکن ساڑھے چار سو وکٹیں لینے کے باوجود انہیں ٹیم میں کبھی وہ مرتبہ نہیں ملا جس کے شاید وہ مستحق ہیں۔ لہذا بات ’مسٹر کول’ راہول دریوڈ پر آکر رکتی ہے۔ اگر گنگولی جاتے ہیں تو کپتانی انہیں کے ہاتھ لگنے کا زیادہ امکان ہے۔ جہاں تک میری رائے کا سوال ہے، میرے خیال میں راہول ڈریوڈ کو ابھی انتظار کرنا ہوگا کیونکہ کہتے ہیں کہ فارم عارضی ہوتا ہے، اور کلاس پرماننٹ۔ ( یعنی فارم خراب اچھا ہوتا رہتا ہے، لیکن معیاری کھلاڑی ہمیشہ معیاری ہی رہتا ہے)۔ ایک روزہ میچ ابھی ہونے باقی ہیں، اور سورو کے مستقبل کا فیصلے ان چھ میچوں میں ہو جائے گا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||