BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 01 April, 2005, 09:08 GMT 14:08 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
شعیب کی ٹیم میں شمولیت کا امکان

 شعیب
لیسٹر شائر سے ہونے والے میچ میں شعیب کی کارکردگی کا بغور جائزہ لیا جائے گا۔
فاسٹ بالر شعیب اختر کی پاک بھارت سیریز میں شمولیت کے امکانات ایک بار پھر روشن ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔

یکم اپریل کو قذافی سٹیڈیم لاہور میں پی سی بی الیون اور لیسٹر شائر کاؤنٹی کے درمیان ہونے والے بیس اوورز کے میچ کے لیےشعیب اختر اور شبیر احمد کو پی سی بی الیون کی ٹیم میں شامل کیا گیا ہے۔

اس میچ کو پاکستان کرکٹ بورڈ کی نیشنل سلیکشن کمیٹی کے رکن احتشام الدین بھی دیکھیں گے۔

کیا اس میچ میں شعیب اور شبیر کی فٹنس کا جائزہ لے کر انہیں بھارت کے خلاف ایک روزہ میچز میں کھلایا جائے گا اس ضمن میں سلیکشن کمیٹی میں متضاد رائے پائی جاتی ہے۔

احتشام الدین کے مطابق شبیر احمد کی فٹنس کی رپورٹ کے مطابق وہ پاک بھارت سیریز نہیں کھیل سکتے البتہ ویسٹ انڈیز کے خلاف انہیں کھلانے کے لیے ان کی فٹنس کا جائزہ لیا جائے گا۔

سلیکشن کمیٹی کے رکن کا کہنا تھا کہ شعیب اختر کا معاملہ مختلف ہے وہ چونکہ آسٹریلیا میں بھی کھیلے تھے اس لیے ان کی فٹنس کا جائزہ پاک بھارت سیریز کے لیے بھی لیا جا رہا ہے۔

تبدیلی ہو سکتی ہے
 اگرچہ بھارت کے خلاف پاکستان کی ایک روزہ ٹیم کا اعلان کر دیا گیا ہے تاہم یہ حرف آخر نہیں۔ ٹیم میں تبدیلی ابھی بھی کی جا سکتی ہے
احتشام الدین

احتشام الدین کے مطابق وہ شعیب اختر کے ٹرینر گرانٹ کامپٹن سے بھی شعیب کی فٹنس کی بابت معلوم کریں گے اور کل لیسٹر شائر سے ہونے والے بیس بیس اوورز کے میچ میں شعیب کی کارکردگی کا بغور جائزہ لیا جائے گا۔

احتشام الدین نے مزید کہا کہ اگرچہ بھارت کے خلاف پاکستان کی ایک روزہ ٹیم کا اعلان کر دیا گیا ہے تاہم یہ حرف آخر نہیں۔ ٹیم میں تبدیلی ابھی بھی کی جا سکتی ہے اور اگر شعیب نے اپنی سو فیصد فٹنس ثابت کردی تو ہو سکتا ہے کہ بھارت کے خلاف پہلا ایک روزہ میچ تو وہ نہ کھیل سکیں لیکن بقیہ سیریز کے لیے ٹیم میں شامل کر لیے جائیں۔

ادھر سلیکشن کمیٹی کے چیئرمین وسیم باری کا مؤقف کچھ مختلف ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بیس اوورز کے اس میچ میں ایک بالر صرف چار اوور پھینک سکتا ہے اور چار اوورز میں کسی بالر کی فٹ نس کا جائزہ نہیں لیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ یہ میچ فٹنس کے عمل کا ایک حصہ ہے اور اس میچ کے بعد شعیب اختر کو اور میچز بھی کھیلنے ہوں گے تب ہی وہ انٹرنیشنل کرکٹ کے لیے اپنی مکمل فٹ نس ثابت کر سکیں گے۔

ٹیم میں شعیب کی شمولیت کے امکان کی بابت وسیم باری کا مؤقف کمیٹی کے رکن احتشام الدین سے قدرے مختلف ہی تھا ان کا کہنا تھا کہ بھارت کے خلاف تو ٹیم کا فیصلہ ہو چکا ہے اب اگر کوئی کھلاڑی ان فٹ ہو جا‏ئے یا ٹیم مینجمنٹ درخواست کرے تو ہی تبدیلی کی جا سکتی ہے۔

شبیر احمد جنہوں نے لیسٹر شائر کاؤنٹی کے خلاف شیخوپورہ میں ہونے والے ایک روزہ میچ میں کپتانی کی اور نو اوورز کروائے اور ایک وکٹ حاصل کی، کی بابت وسیم باری کا کہنا تھا کہ ان کا میچز میں بالنگ کروانا خوش آئند بات ہے تاہم انہیں بھی مزید میچز کھیلنے ہوں گے۔

شبیر احمد کا خود یہی کہنا ہے کہ وہ پیٹرنز ٹرافی کے کچھ میچز اور کھیلیں گے تاکہ مزید میچ فٹنس حاصل کر سکیں تاہم وہ پر امید ہیں کہ وہ بھارت کے خلاف آخری تین ایک روزہ میچز کھیل سکیں گے۔

کچھ مبصرین کے مطابق امکان ہے کہ شعیب اختر اور شبیر احمد بھارت کے خلاف آخری تین ایک روزہ میچز میں ٹیم میں شامل کر لیے جائیں گے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد