BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 31 January, 2005, 17:45 GMT 22:45 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
دلی اور کانپور میں میچ مشکوک

News image
دلی کے فیروز شاہ کوٹلہ گراؤنڈ کی پچ اھی تیار کی جا رہی ہے اور خیال کیا جاتا ہے کہ میچ تک یہ پچ تایر نہیں ہو سکے گی
پاکستانی کرکٹ بورڈ کے حکام نے کانپور کے گرین اسٹیڈیم کی حالت پر تشویش ظاہر کی ہے۔ اس نے کہا ہے کہ مقامی انتظامیہ کو چاہیے کہ وہاں میچ صحیح طریقے سےکرانے کے لیے اپنی ذمہ داری پوری کرے۔

منصوبے کے مطابق ہندوستان اور پاکستان کے درمیان آئندہ سیریز کا ایک ون ڈے میچ کانپور گراؤنڈ پر بھی کھیلا جائیگا۔

اتوار کو پی سی بی کے جنرل مینیجر آپریشنز، ذاکر خان اور اسپیشل سپریٹنڈینٹ آف پولیس سہیل خان نے کانپور کے گراؤنڈ کا معائنہ کرنے کے بعد کہا ہے کہ اسٹیڈیم کی اسٹوڈنٹ اور پبلک گیلری اور چہار دیواری بوسیدہ حالت میں ہے۔

ذاکر خان کا کہنا تھا کہ یہ مقامی انتظامیہ کی ذمہ داری ہے کہ کھیل کے دوران کوئی ناخوشگوار واقعہ رونما نہ ہو۔ اگر کچھ ہوا تو لوگ زخمی ہوسکتے ہیں یا پھر دورسرے حادثات کا بھی اندیشہ ہے۔

بعض اطلاعات کے مطابق گرین پارک اسٹیڈیم کا ڈریسنگ روم بھی اس حالت میں نہیں ہے کہ کھلاڑیوں کے لیے اطمینان بخش ہو۔

ادھر پاکستانی وفد نے آج دلی کے فیروز شاہ کوٹلہ گراؤنڈ کا معائنہ کیا ہے۔ یہ گراؤنڈ بھی ابھی تیار نہیں ہے۔ پاکستان وفد نے اس سلسلے میں بھارت کے حکام سے بات کی ہے اور کہا ہے کہ ایسی نا مکمل پچوں پر تو کھیل ممکن نہیں ہے۔ ہندوستان میں کرکٹ بورڈ کے ارکان نے یقین دلایا ہے کہ کھیل ہونے تک پچ مکمل طور پر تیار ہو جائے گی۔

پچ تیار کرنے کی ذمہ داری چیتن چوہان پر ہے اور انہوں نے بھی بی بی سی کو بتایا ہے کہ کھیل کے وقت تک پچ تیار کرلی جائے گی۔ لیکن بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ اتنی جلدی پچ تیار کرنا مشکل ہوگا۔ ایسی صورت میں کانپور کے گرین پارک اسٹیڈیم اور دلی کے فیروزشاہ کوٹلہ گراؤنڈ پر کھیلنا مشکوک ہے۔

پاکستانی کرکٹ بورڈ کا دو رکنی وفد آئندہ سیریز کے سلسلے میں کھیلوں کی جگہوں اور سکیورٹی کا جائزہ لینے کے لیے ہندوستان کے دورے پر ہے۔ اب تک اس وفد نے بیشتر مقامات کا دورہ کرلیا ہے۔ سب سے زیادہ فکر احمدآباد کے متعلق تھی جہاں دونوں ٹیموں کے درمیان ایک ٹیسٹ کی تجویز ہے۔

احمدآباد میں سن دو ہزار دو میں فرقہ وارانہ فسادات کے سبب حالات اب بھی کشیدہ بتائے جاتے ہیں۔ لیکن اطلاعات کے مطابق پاکستانی وفد نے وہاں سکیورٹی انتظامات پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔

شعیب اخترشعیب کہاں گئے؟
نائٹ کلب یاریسٹورنٹ، بورڈ تحقیق کرےگا
سرخ اور سفید گیندسرخ اور سفید
کیا سرخ گیند سفید گیند سے مختلف ہے؟
پوپائےعبدالرزاق اور پالک
عبدالرزاق کے دوست انہیں’پوپائے‘ کہتے ہیں
بھارتناقابل تسخیر کون
بھارتی کرکٹ ٹیم پر روہت برجناتھ کا کالم
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد