بھارت کی کرکٹ کو کیا کرنا چاہیے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
آسٹریلوی ٹیم دنیا کرکٹ کی ناقابلِ تسخیر ٹیم بن گئی ہے جبکہ کرکٹ آسٹریلیا کا قومی کھیل بھی نہیں ہے۔ کھیلوں پر لکھنے والے بھارت کے مشہور کالم نویس روہت برجناتھ لکھتے ہیں کہ بھارت کی کرکٹ ٹیم کو آسٹریلوی کرکٹ ٹیم سے کیا کچھ سیکھنا چاہئے۔ انضام الحق نے اپنی ٹیم کے ساتھ آسٹریلیا کی سرزمین پر قدم رکھ چکے ہیں اور وہ لوگ بھی جن کا پاکستان سے تعلق نہیں ہے دعا گو ہیں کہ پاکستان آسٹریلیا میں اپنا کچھ تاثر چھوڑنے میں کامیاب ہوسکے۔یہ دعائیں کرنے والوں میں شاید کچھ آسٹریلیوی بھی شامل ہوں۔ آسٹریلیا نے اپنی سرزمین پر انیس سو ترانے چورانے سے کوئی سیریز نہیں ہاری اور اس دوران آسٹریلیا میں بیس کے قریب سیریز کھیلی جا چکی ہیں۔ ابھی حال ہی میں نیوزی لینڈ کی ٹیم کو آسٹریلیانے بری شکست سے دوچار کیا۔ ہیرلڈ پنٹر نے انیس سو اڑتالیس میں لارڈز کرکٹ ٹیسٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا تھا کہ آسٹریلیوی کھلاڑی آٹھ فٹ کے ہیں اور ان کے مد مقابل ٹیموں نے ان کا قد اور بھی بڑھا دیا ہے۔
اسٹیووا کی کپتانی کے دنوں سے اب تک آسٹریلیوں کھلاڑیوں نے آسٹریلیا سے باہر صرف دو سیریز ہاری ہیں ان میں ایک سری لنکا اور ایک بھارت میں لیکن ان دونوں ملکوں کے ساتھ بھی حساب برابر کر دیا گیا ہے۔ اور یہ ایک ایسی قوم کی ٹیم کر رہی ہے جس میں باقی کھیل کرکٹ سے کہیں زیادہ مقبول ہیں۔ آسٹریلیا کی مسلسل جیت کے بارے میں کبھی کبھار تو یہاں تک کہا جانے لگتا ہے کہ اس کی مسلسل کامیابیاں کھیل پر منفی اثرات مرتب کر رہی ہیں۔ جو کہ بالکل لغو اور لایعنی دلیل ہو گی۔ بے شک کے جن کھیلوں میں مقابلہ کانٹے کا ہوتا ہے اور جن کے نتائج کے بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا وہ زیادہ مقبول ہوتے ہیں۔ لیکن کرکٹ میں پائے جانے والے اس عدم توازن کا ذمہ دار آسٹریلیا کو نہیں ٹھرایا جا سکتا۔ یہ بات یقیناً لغو ہو گی کہ کرکٹ میں آسٹریلوی ٹیم کی مہارت پر ان کو موردِ الزام ٹھرایا جائے اور ان کے نظم اور ان کے جوش کو ان کی خرابیاں قرار دے دیا جائے۔ جیتنا کبھی بھی آسان نہیں ہوتا۔
بھارت حال ہی میں ٹیسٹ کرکٹ کھیلنے والوں کی فہرست میں اوپر گیا ہے لیکن یہ ٹیم تعطل کا شکار ہو گئی ہے۔ عالمی کرکٹ کپ کے بعد سے آج تک بھارت نے اکتالیس میچ کھیلے ہیں جن میں سے اس نے صرف اٹھارہ میں کامیابی حاصل کی ہے اور ان میں سے بھی نو میچ اس نے زمبابوے، بنگلہ دیش اور کینیا کے خلاف جیتے ہیں۔ کرکٹ کھیلنے والی قوم ہونے کے ناطے وہ بدقسمتی سے اس انداز میں آگے نہیں بڑھ رہی جیسے کے اسے بڑہنا چاہیے۔ یہ دنیا اب سکٹر کر گلوبل ولیج بن گئی ہے اور اب کسی دوسرے ملک کی کامیابی کا راز جانا کوئی مشکل کام نہیں رہا۔ کرکٹ میں آسٹریلیا اس وقت سر فہرست ہے۔ گو کہ مختلف ملکوں کی تقافت مختلف ہوتی ہے اور سب کچھ اپنایا نہیں جاسکتا لیکن بعض قوموں کو دوسری قوموں سے سیکھنے سے اس حد تک شرم آتی ہے کہ اس کو بیان نہیں کیا جا سکتا۔
بھارت کے پاس اس وقت دنیا میں کرکٹ کے ٹیلنٹ کا سب سے بڑا ذخیرہ ہے۔ کرکٹ کھیلنے والے ملکوں میں اس کی آبادی بھی سب سے زیادہ ہے اور بھارت میں کوئی دوسرا کھیل اتنا مقبول بھی نہیں۔ لیکن اس کے باوجود اس کی انتظامیہ اعزازی افسران کے ہاتھوں میں ہے جو کہ عدالت میں جائے بغیرمیچوں کو نشر کرنے کے حقوق تک تقویض نہیں کر سکتے۔ چھوٹی چھوٹی چیزیں بھی معنی رکھتی ہیں۔ ممبئی میں پیچ پر بارش کے کوؤر بھی وقت پر نہیں لائے جا سکتے۔ ممبئی اور کانپور میں ایسی پچیں تیار کی گئیں جن پر گڑھے پڑ گئے۔ ایک ٹیسٹ کے لیے تو ہوٹل کی بکنگ تک نہیں کرائی گئی۔ آسٹریلیوی کوچ کا کہنا ہے کہ آسٹریلیا میں کھلاڑیوں کے درمیان امتیاز کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیلکٹرز صرف کارکردگی نہیں دیکھتے بلکے کھلاڑی کے مزاج کو بھی مدنظر رکھتے ہیں۔ جان بیوکنن نے کہا جس کی وجہ سے مائیکل کلارک جیسے کھلاڑی کو بھی جس کی فرسٹ کلاس میں رن بنانے کی اوسط صرف تیس رننز فی اننگز ہے اوپر آنے کا موقع مل گیا۔ بھارت اور بعض دوسرے ملکوں میں کھلاڑی کی اوسط ہی چناؤ کے معیار کا واحد طریقہ ہے۔ بھارت میں زونز کے اعتبار سے بھی کھلاڑیوں کو چنا جاتا ہے۔ کپتان سور گنگولی بعض اوقات ان اصولوں کی پرواہ نہ کرتے ہوئے خود بھی کھلاڑیوں کو چناؤ کرتے ہیں اور پھر ان کی حمایت بھی کرتے ہیں۔ لیکن ان کی کارکردگی خراب ہوتے ہی ان پر عتاب نازل ہو جاتا ہے۔ بورڈ میں خرابیاں اپنی جگہ پر لیکن اس بات کا کیا جواز ہے کہ بھارت اس سال کے آغاز میں پہلے آسٹریلیا اور پھر پاکستان میں اچھی کارکردگی دکھانے کے بعد اپنی کارکردگی برقرار نہ رکھ سکا۔ آسٹریلوی کوچ کا کہنا ہے کہ ٹیم میں جیتنے کی حواہش اندر سےپیدا ہوتی ہے جیت کے لیے مضبوط نظام کے علاوہ ذاتی نظم و ضبط بھی ضروری ہے۔ کچھ لوگوں کا استدلال ہو گا کہ بھارت ٹیسٹ کرکٹ میں صرف آسٹریلیا سے ہار ہے اور جنوبی افریقہ پر برتری حاصل کی لیکن ایک روزہ میچوں میں اس کی کارکردگی اتنی بہتر نہیں رہی۔ بھارت کو اپنا معیار بہتر کرنا ہوگا اور اپنے اپ کو صرف نیوزی لینڈ سے بہتر ٹیم تصور کرنے کے بجائے آسٹریلیا کا مدمقابل بنانا ہوگا۔ بھارت کے کھلاڑیوں کو جس قدر اپنے وقار کا خیال ہے اس پر کوئی شک نہیں کیا جا سکتا لیکن جان رائٹ کا بھارتی صحافی کلیٹن مازیولو کو آسٹریلیوی دورے کے بعد یہ کہنا بھی اطمینان بخش نہیں کہ ہم اس سال صرف دس فیصد میچ ہارے ہیں۔ جب آسٹریلوی جیتے ہیں تو وہ اور زیادہ محنت کرتے ہیں۔ لیکن جب بھارت جیتا ہے تو لگتا ہے وہ اپنی ضرورت سے زیادہ تعریف کررہے ہوں۔ لینگر سے لیے کر کیسپروچ تک تمام کھلاڑیوں میں ایک صحت مند مقابلے کی فضا پائی جاتی ہے اور وہ اخباروں کی شرخیوں میں آنے کے لیے محنت کرتے ہیں۔ اس طرح کا رجحان بھارت کے کھلاڑیوں میں بھی پیدا ہونا چاہیے۔ نئے سال کا آغاز پر کچھ لوگ بھارت پر تنقید بھی کر رہے ہیں۔ بھارت کا کپتان مشکلات کا شکار ہے اور اس اعتماد بحال کرنا ہوگا۔ بھارت کا پرانا کوچ جانے والا ہے اور بھارت کو ایک نئے کوچ کے ساتھ شروعات کرنا ہوں گی۔ پرانے کوچ کے اچھے کام کو ضائع نہیں ہونا چاہیے بالکے اس کو آگے بڑہایا جانا چاہیے۔نوجوان کھلاڑیوں نے اپنی صلاحتیوں کا مظاہرہ کیا ہے لیکن انھیں کپتانی گوتم گمبھیر جیسے نئے چہرے ٹیم میں شامل ہو رہے ہیں جن کو ابھی فیلڈنگ کا بہت زیادہ تجربہ نہیں ہےاور ٹیم میں شامل ہونے کے طریقے کار اور بہتر کرنا ہوگا کیوں ٹیسٹ ٹیموں میں ان چیزوں پر دہیان دینے کا وقت نہیں ہوتا۔ ورلڈ کپ سے پہلے کمزور فیلڈنگ اور وٹوں کے درمیان دوڑنے کو بہتر کرنا ہوگا۔ آسٹریلیا کی ٹیم تک پہنچنے کے لیے کافی فاصلہ طے کرنا ہو گا لیکن کوئی بھی ٹیم ہمیشہ کے لیے ناقابل تسخیر نہیں ہو سکتی۔ آسٹریلوی کوچ سے جب پوچھا گیا کہ وہ اپنی ٹیم کے بارے میں کیا کہتے ہیں تو انہوں نے کہا اعداد شمار تو بالکل ٹھیک ہیں لیکن بدقسمتی سے گزشتہ دو سالوں سے بیٹنگ کے علاوہ فیلنگ اور بانگ کے شعبوں میں اتنی بہتری دکھائی نہیں دیتی جتنی ہونی چاہیے تھی۔ پیچھے آنے والی ٹیموں کے لیے امید تو ہے لیکن وقت ضائع کرنے کے لیے وقت نہیں ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||