تین کا چکر | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ملتان میں پاکستان اور انڈیا کے درمیان تین ٹیسٹ میچوں کی سیریز کے پہلے ٹیسٹ میچ میں ویرندر سہواگ کے تین سو نو سکور نے میچ کے تیسرے دن مجھے یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ کیا تیسری دنیا کے اس شہر ملتان میں پاکستان اور انڈیا کے علاوہ کوئی تیسری طاقت بھی یہ میچ کھیل رہی ہے۔ تین کا ہندسہ اس میچ میں چھایا ہوا ہے۔ کچھ بھی ہو کوئی ریکارڈ بنے کسی نہ کسی طرح نمبر تین اس میں موجود ہوتا ہے۔ اب ذرا اس نمبر پر غور کریں۔ نمبر تین کو تاریخی طور ہی پر ایک جادوئی نمبر سمجھا جاتا ہے۔ کئی کلچرز میں بہت ساری روحیں اکٹھی تین تین کی صورت میں آتی ہیں۔ جیومیٹری کے تکون کی طرح دوسرے بھی کئی تکون ہیں۔ جسم، دماغ اور روح، زمین، ہوا اور پانی، یقین، امید اور خیرات، وغیرہ وغیر۔ اسی طرح تین کا ہندسہ ایسا ہے کہ جو کسی بھی رسم کو ادا کرنے کے لئے ضروری سمجھا جاتا ہے۔ مثلاً کسی بھی کام کو کم از کم تین دن ضرور کریں، تین مرتبہ کریں۔ ان میں قبول، قبول، قبول اور طلاق، طلاق، طلاق کہنا بھی شامل ہیں۔ اب ذرا ملتان ٹیسٹ کو ہی لیں۔ یہ پاکستان کا 300 واں ٹیسٹ میچ ہے اور پاکستان اور بھارت کے درمیان تین ٹیسٹ میچوں کی سیریز کا پہلا میچ۔ اس میچ میں سہواگ 309 رنز بنا کر پہلے انڈین بنے جنہوں نے تین سو رنز بنائے۔ انہوں نے یہ ریکارڈ 375 گیندوں پر 39 چوکوں کی مدد سے قائم کیا اور سچن تندولکر کے ساتھ ملکر تیسری وکٹ کے لئے 336 رنز کی پارٹنرشپ بنائی۔ اب ذرا 333 ون ڈے اور 111 ٹیسٹ میچ کھلنے والے تندولکر کو ہی لیں (ویسے ایک ایک ایک کو بھی اگر جمع کریں تو تین ہی بنتا ہے)۔ انہوں نے اس میچ میں اپنی 33 ویں ٹیسٹ سنچری بنائی اور اب وہ گواسکر کی 34 ریکارڈ ٹیسٹ سنچریوں سے صرف ایک کی دوری پر ہیں۔ یہ میچ سال کے تیسرے مہینے میں ہو رہا ہے اور اس سے قبل پاکستان ون ڈے میچوں کی سیریز تین دو سے ہار چکا ہے۔ اس وقت تین بج چکے ہیں اور میں لکھنا بند کر رہا ہوں کیونکہ میں نہ تین میں ہوں نہ تیرہ میں۔ اب کیا ان نمبروں کی اہمیت جاننے کے لئے کسی تیسرے کی گواہی کی کوئی گنجائش باقی رہ گئی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||