پرمجھےجیت چاہئے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مجھے ایک لطیفہ یاد آ رہا ہے اور میں اسے سنائےبغیر نہیں رہ سکتا۔ لطیفہ کچھ یوں ہے کہ کسی آدمی کے گھر کے باہر کھٹکھا ہوتا ہے۔ جب وہ دروازہ کھول کر باہر دیکھتا ہے تو اسے ایک سنیل یعنی گھونگھا نظر آتا ہے۔ اس شخص کو بہت غصہ آتا ہے کہ گھونگھے نے اسے صبح سویرے اٹھا دیا اور اسے دروازہ کھولنے کے لئے آنا پڑا۔ غصے میں وہ گھونگھے کو اٹھاتا ہے اور پوری قوت سے بہت دور پھینک دیتا ہے۔ اس واقعہ کے تین سال کے بعد پھر اس کے دروازے پر تین مرتبہ دستک ہوتی ہے۔ جب دروازہ کھول کر وہ باہر دیکھتا ہے تو اسی گھونگھے کو پاتا ہے۔ اس سے پہلے کہ وہ کچھ کہے گھونگھا بلند آواز اس سے مخاطب ہوتا ہے کہ ’تم نے ایسا کیوں کیا تھا‘۔ پاکستان اور انڈیا کے درمیان کرکٹ کا لاہور میں ہونے والا پانچواں اور آخری ایک روزہ میچ دیکھ کر مجھ پر کچھ ایسی ہی کیفیت ہے اور کچھ اسی طرح کا سوال میرے ذہن میں بھی گھوم رہا ہے کہ ’تم نے میرے ساتھ ایسا کیوں کیا؟‘ میں کرکٹ کا ایک بہت بڑا فین تھا۔ تھا اس لئے لکھ رہا ہوں کہ آخری مرتبہ میں نے ٹی وی کی سکرین کے ساتھ جڑ کر 1996 کے ورلڈ کپ کا کوارٹر فائنل میچ دیکھا تھا اور اس کے بعد عامر سہیل نے ایسا جادو کیا کہ میں کرکٹ سے اتنا دور بھاگتا رہا جتنا سچن کے بیٹ کو چھو کر بال بھاگتی ہے۔ درمیان میں میں نے 2003 کا کرکٹ ورلڈ کپ بھی بی بی سی اردو کے لئے کور کیا لیکن اس میں کرکٹ دیکھنے کا جنون کم اور جنوبی افریقہ دیکھنے کا زیادہ تھا۔ پر حالیہ سیریز میں پاک انڈیا گولوں کے تبادلے اور حالتِ جنگ کی ٹینشن کے بعد گیندوں کے تبادلے اور کرکٹ کی ٹینشن نے ایک مرتبہ پھر کرکٹ کے جنون کی سلگتی لکڑی کو ہوا دی اور اسی کے تاؤ میں میں میچ دیکھنے یا سننے کے لئے صبح سویرے پانچ بجے بستر سے اٹھنے لگا۔ میچ تھے بھی کچھ اس طرح کے۔ لمبا سکور، بولروں کی پٹائی، سچن کی سینچری، ڈراوڈ کا ٹھہراؤ، انضمام کی فارم اور یاسر حمید کی عمدہ اننگز۔ سارے میچوں میں سکور بھی بہت ہوا۔ کراچی کے پہلے ہی میچ میں بیٹسمینوں نے بولروں کا بُھرکس نکال دیا اور دونوں ٹیموں کی طرف سے مجموعی طور پر 693 رنز بنے، 349 انڈیا کے اور 344 پاکستان کے۔ یہ میچ ہمیشہ یاد رہے گا۔ بعد میں پاکستان نے راولپنڈی کا میچ جیت کر پشاور والا میچ بھی جیت لیا۔ راولپنڈی میں مجموعی طور پر 646 رنز بنے اور پشاور میں 451 ۔ پشاور والے میچ کے دن دراصل اس خطے میں ایک نہیں دو میچ ہو رہے تھے۔ ایک پاک فوج اور انتہا پسندوں کے درمیان جو پہلے کبھی مجاہد ہوا کرتے تھے اور دوسرا ارباب نیاز سٹیڈیم میں پاک ٹیم اور اس کی دیرینہ حریف انڈیا کی ٹیم کے درمیان۔ دونوں میچوں میں میزبان جیت گئے اور باہر سے آنے والوں کو شکست ہوئی۔ لاہور کے دونوں میچ ذرا مختلف تھے۔ ان میں مہمان جیت گئے اور میزبانوں کو شکست ہوئی۔ شاید لاہور میں مہمانوں کی جیت برداشت کی جا سکتی تھی جبکہ پشاور میں یہ ممکن نہ تھا۔ اس لئے کوئی ہنگامہ نہیں ہوا۔ ایسا لگا کہ بولروں اور بیٹسمینوں کے درمیان ایک معاہدہ تھا کہ لاہور کی پچ پر 293 سے زیادہ سکور نہیں کرنا۔ پہلا میچ انڈیا جیتا اور اس نے پاکستان کے 293 کے جواب میں پینتالیسویں اوور میں ہی 294 رنز بنا لئے اور دوسرا میچ بھی انڈیا ہی جیتا۔ اس میں انڈیا نے 293 رنز بنائے اور پاکستان کی ٹیم جو کہ بظاہر 130 یا 140 کے سکور پر آؤٹ ہوتی نظر آ رہی تھی معین خان کی جارحانہ اننگز کی بدولت 253 کا سکور بنا پائی۔ میں نے پورا میچ اپنے انڈین دوستوں کی طرف پیٹھ کر کے دیکھا۔ وجہ کوئی اور نہیں تھی بس وہ بھی کچھ اسی طرح دوسری میز پر میچ دیکھ رہے تھے۔ پتہ نہیں کیوں مجھے 1996 والا ورلڈ کپ کا میچ یاد آ رہا ہے جس میں سعید انور اور عامر سہیل کی ایک اچھی پارٹنرشپ کے بعد پتہ نہیں عامر سہیل کو کیا ہوا کہ اس نے وانکٹیش پرساد کو ایک چوکا لگانے کے بعد بیٹ سے اشارہ کیا کہ تمہیں ادھر پھینک دوں گا اور اگلی ہی گیند پر پرساد نے انہیں اسی جگہ پھینک دیا تھا جس جگہ عامر نے گیند پھینکا تھا۔ یعنی باؤنڈری کے باہر۔ پاکستانی کھلاڑیوں کو کیا ہو جاتا ہے، وہ میچ کا پریشر کیوں برداشت نہیں کر پاتے۔ آخری میچ میں یاسر حمید، یوحنا اور یونس کو کس بات کی جلدی تھی کہ وہ شروع ہی سے آؤٹ ہونے کی فکر میں رہے اور شعیب جو اگرچہ بیٹسمین تو نہیں لیکن کھلاڑی ضرور ہیں کیوں یہ نہ سمجھ سکے کہ ٹہل کر دوسرے اینڈ پر جاتا ہوا شخص رن آؤٹ ہو جاتا ہے۔ خیر میرا کرکٹ کا جنون اب کچھ ٹھنڈا پڑ رہا ہے انڈیا کی ٹیم نے اس سلگتی لکڑی پر پانی ڈال دیا ہے اور دھواں اب الفاظ کی شکل میں باہر آ رہا ہے۔ میں ایک جینٹلمین کرکٹ فین ہوں اور اس بات پر میرا پورا اعتماد ہے کہ may the best team win لیکن اس کے ساتھ ساتھ میں ہمیشہ چاہتا ہوں کہ بیسٹ ٹیم صرف میری ہو۔ ہار جیت میں سے جیت ہی مجھے پسند ہے چاہے وہ کرکٹ ہی ہو۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||