BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 26 November, 2003, 16:40 GMT 21:40 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کُھلا کھاؤ تے ۔۔۔

کھاؤ مگر دھیان سے
خوشی کے موقعہ پر کھانا اور پینا چلتا رہتا ہے

بدھ کو پاکستان میں عید منائی گئی۔ عید خوشی کا تہوار ہے اور پوری دنیا میں خوشی منانے کے دو ہی طریقے زیادہ مقبول ہیں۔ یا تو ’کھلا‘ کھا کر یا پھر زیادہ پی کر اور اکثر صورتوں میں کھا پی کر۔

ہم میں زیادہ تر تو کھاتے بھی گوشت ہیں اور کیونکہ سردیاں ہیں اس لیئے اور چیزوں کے علاوہ پیتے بھی گوشت ہی ہیں (یخنی کی صورت میں)۔

ویسے تو عید الفطر سویوں کی عید مانی جاتی ہے مگر ہماری عید الفطر تو بارہ بجے کے بعد ہمیشہ عید البقر بن جاتی ہے۔ کیونکہ ایک تو بیچاری سویوں کی عمر تھوڑی ہوتی ہے اور دوسرا دن کے دس بارہ کے بعد پھر وہی نان گوشت۔ اس کے بغیر میری تو عید کبھی مکمل نہیں ہوئی۔

خیر لاہوریوں کے متعلق ویسے بھی مشہور ہے کہ یہ پہلے تو کھلا کھلا کر مارتے ہیں اور پھر مار مار کر کھلاتے ہیں۔ مجھے بھی آج لاہور یاد آ رہا ہے اور میکلورڈ روڈ پر بھنبھناتی مکھیوں والے لذیذ کھانے بھی۔

بس صرف کھانے کی عید
ویسے تو عید الفطر سویوں کی عید مانی جاتی ہے مگر ہماری عید الفطر تو بارہ بجے کے بعد ہمیشہ عید البقر بن جاتی ہے۔

عید کے دن سویوں اور گوشت کے علاوہ جو سب سے زیادہ چیزیں بکتی ہیں ان میں سیون اپ اور اینو فروٹ سالٹ سرِ فہرست ہیں۔ یاد ہے نہ اینو۔ پانی میں ڈال کر پینے والا ایک نمکین سفید سفوف جوگیس کے بلبلے بناتا تھا اور جسے پینے سے ایسا لگتا تھا کہ ایک دو کلو گوشت کو کچھ آرام ملا ہے اور تھک کے پیٹ میں بیٹھ گیا ہے۔ یاد ہے نا۔ اسی طرح سیون اپ۔

عید پہ اکثر زیادہ ہی کھانا کھایا جاتا ہے۔ ویسے ہم کب کم کھاتے ہیں یہ کسی اور سے پوچھیے مجھ سے نہیں۔ اور زیادہ کھانے کے بعد آرام سے بیٹھنا محال سا لگتا ہے۔ کھیل بھی نہیں سکتے کہ کچھ نیچے بیٹھ جائے مگر نیچا ہے ہی کہاں جہاں بیچارا بیٹھے۔ سب جگہ تو بک ہے۔

تو اس مبارک دن زیادہ تر لوگوں کا پیٹ خراب ہی رہتا ہے جس کا علاج بھی وہ کچھ نہ کچھ کھا کر کرتے ہیں۔ اسی طرح کسی نے ڈاکٹر سے کہا کہ میرے پیٹ میں بہت درد ہے تو ڈاکٹر نے اسے دوائی کھانے کو کہا۔ اس شخص کا جواب تھا کہ اگر اور جگہ ہوتی تو میں اتنا لذیذ کھانا کچھ اور نہ کھا لیتا۔

ویسے میرے دوست طارق بٹ کا کہنا ہے کہ اگر آپکو قبض ہے تو نان دہی کھائیں اور اگر پیچش لگے ہوئے ہیں تو پھر بھی علاج نان اور دہی ہی ہے۔ دونوں صورتوں میں نان کھانے سے افاقہ ہو گا۔

پیٹ کا معاملہ
اس مبارک دن زیادہ تر لوگوں کا پیٹ خراب ہی رہتا ہے جس کا علاج بھی وہ کچھ نہ کچھ کھا کر کرتے ہیں۔

ویسے طبی نکتہ نگاہ سے فوڈ پائزننگ اور پیٹ کی وائرل بیماریوں کی وجہ سے پیٹ میں جو انفیکشن ہوتی ہے وہ خود ہی ایک دو دن کے بعد ٹھیک ہو جاتی ہے۔ لیکن اگر زیادہ دیر رہے تو پھر اس کا علاج کرانا ضروری ہے۔

پیٹ میں جلن، دل میں جلن، خوراک کا ہضم نہ ہونا اور پیٹ کا درد، یا پیچش سب ہی ضرورت سے زیادہ کھانے اور وہ بھی مصالحہ دار کھانا کھانے سے ہوتی ہیں۔

ویسے مصالحہ دار کھانا اتنا نقصان نہیں دیتا جتنا زیادہ کھانا دیتا ہے۔ مصالحہ تو صرف جلتی پر تیل ڈالتا ہے۔

لیکن پھر بھی ڈاکٹر کہتے ہیں کہ زیادہ پسی ہوئی کالی مرچیں کھانا ایسے ہی ہے جیسے کسی نے انتڑیوں میں شیشہ کوٹ کے ڈال دیا ہو۔

ڈاکٹروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایک اچھے چربی بھرے کھانے کے دو گھنٹے کے بعد انسان کو ہارٹ اٹیک کا چانس چار گنا بڑھ جاتا ہے۔

انتڑیوں میں شیشہ
ڈاکٹر کہتے ہیں کہ زیادہ پسی ہوئی کالی مرچیں کھانا ایسے ہی ہے جیسے کسی نے انتڑیوں میں شیشہ کوٹ کے ڈال دیا ہو۔

ہوتا یہ ہے کہ ایک چربی بھرے کھانے کو پیٹ بھر کر کھانے کے بعد دل کو خوراک ہضم کرنے کے لئے تیزی سے کام کرنا پڑتا ہے۔ جس سے اس پر بوجھ زیادہ پڑتا ہے اور اس کے لیئے مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔ اس میں ان کے لئے زیادہ خطرہ ہے جنہیں پہلے ہی دل کی کوئی بیماری ہے۔ اس لئے اگر کم کھائیں گے تو دل آپ کا شکر گزار رہے گا۔

زندگی صرف سموسوں کا نام نہیں پھل اور سبزیاں بھی انسان کے کھانے کے لیئے بنی ہیں اور صحت کی کنجی دراصل پانی ہے۔ زیادہ پانی پیئیں، کیونکہ تھوڑی سی خوراک بھی پانی کے ساتھ مل کر بھرے ہوئے پیٹ کا احساس پیدا کرتی ہے۔

ہم اکثر اچھا کھانا کھا کر غنودگی محسوس کرتے ہیں اور سو جاتے ہیں۔ ڈاکٹروں کے مطابق کھانے کے بعد سونا بہت خطرناک ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ دل کے دورے سے پہلے جو وارننگ سائن ملتے ہیں انکا نیند کی وجہ سے پتہ نہیں چلتا اور انسان دل کے دورے سے بچنے کی دوائیاں لینے سے محروم رہتا ہے۔ کئی دفعہ تو آدمی سوئے کا سویا ہی رہ جاتا ہے۔

لیکن ہمارے ہاں تو یہ ہی دعا کی جاتی ہے کہ یااللہ کھاندیاں پیندیاں ہی موت آئے۔ اس کے لیئے اپنی عید نہ خراب کریں۔ عید مبارک۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد