BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 11 November, 2003, 15:39 GMT 20:39 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بیماری کا نمبر دس

چیزوں کے وزن کی طرح ان کی شدت بھی ماپی جا سکتی ہے
کون کتنا بیمار ہے ذرا سی دیر میں پتا چل جائے گا

آپ کتنے بیمار ہیں؟ ایک سے دس کے سکیل (پیمانے) پر اس کی شدت رکھ کر بتائیں۔

کئی مرتبہ آپ نے کھلاڑیوں کے کوچ کو بھی یہ کہتے ہوئے سنا ہو گا کہ فلاں کھلاڑی ستر فیصد فِٹ ہے لیکن وہ میچ نہیں کھیل سکتا۔ مجھے تو صرف یہ معلوم ہے کہ یا تو آدمی فِٹ ہوتا ہے یا ان فِٹ۔ درمیان میں کیا ہے یہ میں نہیں جانتا مگر جاننا ضرور چاہتا ہوں۔

ماہرین نے بیماریاں، نفسیاتی اور جسمانی، ماپنے کے لئے بہت سے سکیل بنائے ہیں جن سے وہ یہ معلوم کر لیتے ہیں کہ کوئی کتنا بیمار ہے یا ذہنی پریشانی میں مبتلا ہے۔

مثلاً ایک امریکی ڈاکٹر جان ایم گروہول جو کہ بذریعہ انٹرنیٹ ذہنی بیماریوں کی تشخیص اور علاج کے ماہر تصور کیے جاتے ہیں اپنی ویب سائٹ گروہول ڈاٹ کام پر ڈپریشن یا مایوسی ماپنے کا ایک سکیل پیش کرتے ہیں۔ اس کا نام گولڈ برگ ڈپریشن سکیل ہے۔ یہ سکیل انسان کے موڈ کے متعلق بتاتا ہے۔ اس میں 0 سے لے کر 5 تک کے سکیل کچھ اس طرح سے ہیں کہ 0 ظاہر کرتا ہے ’بالکل نہیں، 1 کچھ کچھ، 2 تھوڑا بہت، 3 درمیانہ، 4 بہت زیادہ، 5 بہت ہی زیادہ‘۔

اس سکیل کو ماپنے کے لئے تو اٹھارہ چیزیں پوچھی گئی ہیں جس سے ممکنہ ذہنی مریض کا پتا چلتا ہے لیکن میں ان میں سے چند ایک کا ذکر کرتا ہوں۔

پوچھے گئے سوالوں پر کچھ اس طرح نمبر لگانے ہیں۔’میں آہستہ آہستہ کام کرتا ہوں 0,1,2,3,4,5۔‘ اسی طرح ’میرا مستقبل تاریک ہے‘ (پھر وہی نمبر اور اس کے بعد سب پر)، ’مزہ اور خوشی میری زندگی سے نکل گئے ہیں‘، ’مجھے فیصلہ کرنے میں دشواری ہوتی ہے‘، ’میں تھکن محسوس کرتا ہوں‘، ’میں دکھی، غمگین اور ناخوش ہوں‘، ’میں ناکام محسوس کرتا ہوں‘، ’میرے ساتھ چاہے اچھا ہی ہو تب بھی میں غمزدہ رہتا ہوں‘، ’میں بے جان محسوس کرتا ہوں بلکہ زندہ سے زیادہ مردہ‘ وغیرہ وغیرہ۔

مجھے لگتا ہے کہ یہ سکیل مجھے سامنے رکھ کے بنائے گئے ہیں۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ اگر میں پہلے میں پانچ پر ہوں تو میں سب میں پانچ پر ہوں۔ میرے لئے کوئی اور راستہ ہی نہیں بچا۔

ڈاکٹر گروہول ایک بڑا نام ہے۔ ان کے انٹرویو سی این این، گوڈ مارننگ امریکہ، ٹائم اور کئی مقامی مواصلاتی اداروں اور اخبارات میں شائع ہو چکے ہیں۔ وہ جو بھی کہتے ہیں ٹھیک ہی کہتے ہوں گے۔

اب ذرا اس درد کے سکیل کو ہی لیجیئے۔ پوچھا گیا ہے کہ ایک سے دس کے سکیل میں اپنے درد کی شدت بتائیں۔ اس کو رینڈل کرونک پین سکیل کہتے ہیں۔ اس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ یہ آپ پر منحصر ہے کہ آپ اپنی درد کو کون سے سکیل پر رکھتے ہیں مطلب یہ کہ آپ اسے بڑھا چڑھا سکتے ہیں۔ اور جس طرح آپ کا درد بڑھتا یا گھٹتا ہے آپ اپنے سکیل کو بھی ایڈجسٹ کر سکتے ہیں۔ 1 سب سے کم اور 10 ناقابلِ برداشت۔

میں سوچتا ہوں کہ مریض ڈاکٹر کو یہ تو بتا سکتا ہے کہ اسے درد ہے یا ناقابلِ برداشت درد ہے لیکن یہ نہیں بتا سکتا کہ یہ 4 ہے کہ 5 یا اسے بہت درد ہے کہ بہت ہی زیادہ، کیا وہ نو پر ہے کہ دس پر۔ میں تو یہ ہی سوچتا رہوں گا کہ کہیں مجھے آٹھ درد تو نہیں تھا جو میں نے 9 بتا دیا یا میں تو صرف غمگین تھا بہت زیادہ غمگین نہیں۔

بو ڈیریک
ہولی وڈ کی بو ڈیریک کے دس نمبر نے دھوم مچا دی تھی

پچھلے دنوں ہندوستانی مصنفہ گیتا مہتا کی ایک کتاب سنیکس اینڈ لیڈرز (سانپ اور سیڑھیاں) پڑھ رہا تھا۔ اس ایک سے دس تک کے سکیل کی بحث سے مجھے اس کتاب میں لکھا ایک واقعہ یاد آ گیا ہے۔ وہ یوں ہے کہ 1986 میں بھارتی وزیرِ اعظم راجیو گاندھی نے غیر ملکی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کرنے اور اسے فروغ دینے کے لئے دنیا کی پانچ سو بڑی کمپنیوں کے سربراہوں کو ہندوستان آنے کی دعوت دی تاکہ وہ دیکھیں کہ یہ کیسا ملک ہے اور یہاں سرمایہ کاری کے کتنے مواقع ہیں۔ جن لوگوں نے ان مندوبین سے خطاب کرنا تھا ان میں مدر ٹریسا بھی تھیں۔ انہوں نے ان امیر لوگوں سے اپیل کی کہ فلاح و بہبود کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں۔ آخر میں evaluation form یا اس بات کا جائزہ لینے کے لئے مندوبین کو فارم دیے گئے کہ اس تقریب میں حصہ لینے والے کیسے لوگ تھے یا انہیں وہ کیسے لگے۔ یہاں بھی ایک سے دس تک کا سکیل تھا۔ ایک سب سے کم اور دس سب سے زیادہ۔ اتفاقِ رائے سے مدر ٹریسا دسویں نمبر پر آئیں اور بلاشبہ انہیں آنا بھی تھا۔ جب وہ باہر جا رہی تھیں تو انہوں نے اپنی ہم عصر راہباؤں سے کہا کہ میں نمبر دس ہوں، نمبر دس۔ ’ویسے نمبر دس کا مطلب کیا ہے۔‘ ان کے اس سوال پر ان کی ساتھی راہباؤں نے، جو ان کی دیرینہ دوست بھی تھیں، کہا کہ ’آپ نئی بو ڈیرک ہیں۔‘

جب انہوں نے کہا کہ وہ مدر کو ویڈیو لا کر دکھائیں گی کہ اصل میں نمبر 10 ہے کیا تو اس وقت کئی نوجوان راہبائوں کے لئے اپنی ہنسی قابو میں کرنا بہت مشکل ہو گیا۔

(ان کے لئے جن کو بو ڈیرک کا نہیں پتا۔ بو ڈیرک ایک مشہور فلم ایکٹریس ہیں جنہوں نے فلم ’10‘میں ایک خوبصورت سیکسی دوشیزہ کا کردار ادا کیا تھا جس پر ایک آدمی (ڈڈلی مور) اپنی شادی کے دن ہی فریفتہ ہو جاتا ہے۔ انکا سمندر پر فلمایا ہوا سین آج تک نقل کیا جاتا ہے اور ان کے بعد بہت سی ایکٹریس سمندر کے پانی سے نکلی ہیں لیکن ان کی طرح کوئی نہیں نکلی۔)

یہ ’فِگرز‘ یعنی کہ ہندسوں کا کام ہے اور ’فِگرز‘ کبھی جھوٹ نہیں بولتے۔

اسی طرح اگر میں کہوں کہ مجھے بھی اتنا ہی درد یا پریشانی ہے جتنی برطانیہ میں نمبر 10 کو تو شاید بہت سے لوگوں کو بھی میرے درد کا احساس ہو جائے۔

درد ماپا جا سکتا ہے۔ میں غلط تھا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد