نئے سال کا ’پودا‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
نئے سال کا آغاز کچھ اس طرح سے ہوا۔ میں اور انور سن رائے ایک دوسرے کو یہ کہہ کر گلے ملے کہ چلو اس سال تو بچ گئے۔ پچھلے سال کے آخری مہینوں میں انور کا بائی پاس ہوا تھا اور اس طرح وہ ان لوگوں کی صف میں کھڑے ہو گئے جن کے بارے میں مجھے کسی نے کہا تھا کہ ’یہاں سے بائی پاس کروا لو۔ پاکستان میں تو کئی لوگ اوپر والے بٹن کھول کر سینہ پھلا کر کہتے ہیں ولایت سے بائی پاس کروا کر آئے ہیں‘۔ میں انور کی طرح مضبوط آدمی نہیں ہوں اس لیے ڈر گیا اور دل کے ساتھ چھیڑ چھاڑ تک ہی معاملہ محدود رکھا اور اس کے بعد گول کر دیا۔ خدا انور کو صحت اور لمبی عمر دے اور میرا معاملہ یہاں تک ہی رکھے۔ آمین۔ گزشتہ سال دوستوں کو میری صحت پر کافی تشویش تھی۔ کئی ایک نے علاج تبدیل کرنے کا مشورہ دیا، کسی نے کہا پاکستان آ جاؤ اپنی مرضی کے ڈاکٹر ملیں گے، کسی نے کہا کہ فلاں چیز کھاؤ دل کے لیے اچھی ہوتی ہے۔ ایک مشورہ جو سب سے زیادہ دیا گیا وہ تھا ہربل علاج کا۔ جڑی بوٹیوں کے ساتھ بیماریوں کا علاج صدیوں سے ہوتا آیا ہے۔ خصوصاً برِصغیر میں تو یہ علاج ہمیشہ سے مقبول تھا اور اب بھی کافی مقبول ہے بلکہ ایک خاص طبقے میں تو ہربل علاج فیشن کے طور پر بھی کیا جاتا ہے۔ حال ہی میں ہمارے (دل کے مریضوں کے حلقے میں) ایک دوست کو دل کا دورہ پڑا تو انہوں نے ایلوپیتھی علاج کے ساتھ ہربل علاج بھی کیا اور اب ماشااللہ صحتیاب ہیں۔ انہوں نے وہ دوائی مجھے لندن بھیجنے کی بھی پیش کش کی۔ میرے ساتھ مسئلہ یہ ہے کہ میں دنیا میں بہت کم ہی چیزوں کو مانتا ہوں۔ اور جن پر یقین نہیں رکھتا ان میں اس طرح کے علاج بھی شامل ہیں۔ یہ نہ پوچھیئے کیوں۔ اس کی کوئی وجہ نہیں۔ آپ کہیں گے کہ یہ کیا بات ہے۔ جڑی بوٹیوں سے علاج سے تو کسی کا کچھ نہیں بگڑتا۔ تو بھائی سن لیں کہ بگڑتا ہے۔ کسی اور کا نہیں تو کم آز کم جڑی بوٹیوں کا ضرور۔
حال ہی میں ماحولیات کے ادارے ڈبلیو ڈبلیو ایف کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ہربل علاج کی وجہ سے دس ہزار کے قریب طبی استعمال میں آنے والی جڑی بوٹیوں کے بالکل ختم ہونے کا خطرہ ہے۔ دوسری طرف پلانٹ لائف انٹرنیشنل گروپ کی ایک رپورٹ میں بھی کہا گیا ہے کہ پودوں کو بیدردی سے استعمال اور ضائع کیا جاتا ہے۔ مثلاً ایک پودے بیر بیری، حکمت کی زبان میں عِنب الدّب، کے متعلق کہا جاتا ہے کہ وہ مشرقی یورپ میں بالکل ناپید ہوتا جا رہا ہے۔ عِنب الدّب سرد علاقے کی ایک سرسبز جھاڑی ہے جس میں سرخ پھول لگتا ہے۔ اس کے سبز چمکدار پتے قابض اور مقوی دوا کے طور پر استعمال کیے جاتے ہیں۔ اس طرح یہ گردوں کے علاج کے لیے بھی بہتر تصور کیے جاتے ہیں۔ گروپ کا کہنا ہے کہ اگرچہ جڑی بوٹیوں کے ڈاکٹروں کو صرف اس پودے کے پتے چاہیئے ہوتے ہیں لیکن وہ پتے کے حصول میں پورے کا پورا پودا اکھاڑ پھینکتے ہیں۔ پودے بھی بچوں کی طرح ہیں۔ ان کو پھلتا پھولتا دیکھ کر کتنی خوشی ہوتی ہے یہ میں اچھی طرح سمجھ سکتا ہوں اور وہ اس لیے کہ اپنے باغ میں جو پھولوں کے پودے میں نے دو ماہ پہلے لگائے تھے ان کی کونپلیں اب زمین میں سے نکل رہی ہیں۔ میں روز صبح اٹھ کر انہیں دیکھتا ہوں کہ اب ان کا قد کتنا بڑھا ہے۔ ان کو دیکھ کر جتنی خوشی ملتی ہے وہ میں بیان نہیں کر سکتا۔ اکثر میں اپنے ساتھ اپنے بیٹے بلال کو بھی لے جاتا ہوں اور اسے دکھاتا ہوں کہ اپنا لگایا ہوا پودا جب بڑا ہوتا ہے تو بالکل اپنا بچہ لگتا ہے اور اسے دیکھنے میں کتنا مزہ ہے۔ بلال بہت چھوٹا ہے۔ اپنے لگائے ہوئے پودے اور بچے کی تشبیہ کو ابھی نہیں سمجھتا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||