گیری سوبرز: 12 انگلیاں، ایک اوور میں چھ چھکے اور 365 رنز کی اننگز کون بھول سکتا ہے

گیری سوبرز

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, عبدالرشید شکور
    • عہدہ, بی بی سی اردو

کرکٹ کی دنیا کے عظیم آل راؤنڈر سر گیری سوبرز نے جب ہوش سنبھالا تو اپنے دونوں ہاتھوں میں پانچ، پانچ انگلیاں اور ایک ایک انگوٹھا دیکھ کر وہ قطعاً پریشان نہیں ہوئے۔

سوبرز نے اپنی سوانح حیات کے پہلے باب میں اس کا ذکر تفصیل سے کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ ’یقیناً بہت سے لوگ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ میرا مقدر اس لیے بہت اچھا تھا کیونکہ میں دو اضافی انگلیوں کےساتھ دنیا میں آیا تھا۔

’یہ ان کی اپنی سوچ تو ہو سکتی ہے لیکن میں نے اس بارے میں کبھی بھی زیادہ نہیں سوچا تھا۔ دونوں ہاتھوں میں چھ، چھ انگلیوں کی وجہ سے مجھے کوئی پریشانی نہیں ہوئی اور نہ ہی میرا کوئی کام رُکا۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ʹجزائر غرب الہند میں اب بھی غیر معمولی جسمانی حالت والے کئی لوگ موجود ہیں۔ میں خود ایک ایسے ہی ویسٹ انڈین سے مل چکا ہوں جس کے دونوں ہاتھوں کی انگلیاں میری طرح اضافی تھیں۔‘

گیری سوبرز نے یہ دو اضافی انگلیاں ہمیشہ اپنے ساتھ نہیں رہنے دی تھیں۔ جب وہ نو یا دس برس کے تھے تو ایک ہاتھ کی ایک اضافی انگلی کو انھوں نے کسی تیز دھار آلے پر رکھ کر الگ کر دیا تھا۔ جبکہ دوسرے ہاتھ کی اضافی انگلی انھوں نے تیز دھار چاقو سے الگ کر دی تھی، اس وقت ان کی عمر پندرہ سال تھی۔

سر گیری سوبرز 28 جولائی سنہ 1936 کو برج ٹاؤن میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کے والد کینیڈین مرچنٹ نیوی میں تھے۔ سوبرز صرف پانچ برس کے تھے جب جرمنوں نے ان کے والد کی کشتی کو ایک حملے میں ڈبو دیا تھا۔

کرکٹ سوبرز کا پہلا شوق تھا جو جنون بن گیا۔ وہ آٹھ سال کے تھے جب باربیڈوس کے وانڈررز گراؤنڈ کے سکور بورڈ پر سکورنگ کیا کرتے تھے۔ سکورنگ کا فائدہ یہ ہوا کہ وہ اس دور کے تمام ہی بڑے کرکٹرز کو اپنے سامنے کھیلتا دیکھتے تھے جن میں فرینک وارل، کلائیڈ والکوٹ اور ایورٹن ویکس قابل ذکر تھے۔

ان کے کریئر پر وانڈررز کے دو گراؤنڈز میں فرینک گرانٹ اور برگس گرینڈیسن کا بہت زیادہ اثر رہا۔ وہ پچ کی تیاری میں ان دونوں کی مدد کیا کرتے تھے جس کے عوض انھیں گراؤنڈ میں کھیلنے کی اجازت مل جاتی تھی۔ برگس نے ہی گیری سوبرز کی صلاحیتوں کو بھانپتے ہوئے ویسٹ انڈین کپتان ڈینس ایٹکنسن سے ذکر کیا تھا جنھوں نے سوبرز کو اپنے ساتھ پریکٹس کا موقع دیا۔

اوور میں چھ چھکے اور گیند غائب

گیری سوبرز سے جب انگلش کاؤنٹی ناٹنگھم شائر نے معاہدہ کیا تو وہ اس پر بہت خوش تھے۔ ان کے خیال میں ایک سیزن کے پانچ ہزار پاؤنڈ، رہائش، گاڑی اور باربیڈوس جانے کا ٹکٹ اگر مل جائے تو اس سے زیادہ اچھی بات اور کیا ہو سکتی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ سنہ 1968 سے پہلے ہی کاؤنٹی کرکٹ کھیل سکتے تھے لیکن کاؤنٹی کھیلنے کا اہل ہونے کے لیے دو سال انگلینڈ میں قیام اور اپنے ملک کی نمائندگی نہ کرنا انھیں ہرگز قبول نہ تھا۔

کاؤنٹی کرکٹ میں سر گیری سوبرز نے یوں تو کئی شاندار اننگز کھیلیں لیکن اپنے پہلے ہی سیزن میں گلیمورگن کے خلاف سوانزی میں ان کی 76 رنز ناٹ آؤٹ کی اننگز ایک خاص وجہ سے ہمیشہ یاد رکھی جاتی ہے۔

یہ وہی اننگز ہے، جس میں سوبرز نے ایک ہی اوور میں چھ چھکے لگائے تھے۔ فرسٹ کلاس کرکٹ میں اس سے قبل کبھی ایسا نہیں ہوا تھا کہ کسی بیٹسمین نے ایک اوور کی تمام گیندوں پر چھکے لگائے ہوں۔

کرکٹ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

سوبرز کی اس ʹجارحیت ʹ کا شکار ہونے والے بدقسمت بولر میلکم ناش تھے جو لفٹ آرم میڈیم پیسر تھے لیکن اُس میچ میں کپتان ٹونی لوئس نے انھیں سپن بولنگ کرنے کو کہا تھا۔

سوبرز کا پہلا چھکا ڈیپ مڈوکٹ باؤنڈری کی طرف گیا۔ دوسرے چھکے نے ڈیپ سکوائر لیگ کی راہ لی۔ تیسری گیند پر سوبرز نے بالکل سامنے چھکا مارا۔ چوتھی گیند پر چھکے کا رُخ ڈیپ فائن لیگ کی طرف تھا۔ پانچویں گیند پر لانگ آف باؤنڈری پر راجر ڈیوس نے کیچ تو کر لیا لیکن توازن برقرار نہ رکھ سکے اور باؤنڈری کے باہر گر گئے۔ اس کے بعد آخری گیند کو سوبرز نے ڈیپ سکوائر لیگ کے باہر پہنچا کر تاریخ رقم کی۔

آخری چھکے پر گیند میدان سے باہر چلی گئی تھی۔ گیارہ سالہ رچرڈ لوئس کو یہ گیند قریبی باغ میں ملی جو انھوں نے کرکٹ کمنٹیٹر ولف وولر کے حوالے کر دی جنھوں نے اسے ناٹنگھم شائر کاؤنٹی تک پہنچا دیا اور یوں یہ گیند ناٹنگھم شائر کاؤنٹی کے میوزیم کی زینت بن گئی۔

سر گیری سوبرز کہتے ہیں ʹمیرے چھ چھکوں کی وڈیو ریکارڈنگ محفوظ ہونے کا پس منظر بھی دلچسپ ہے۔ ولف وولر بی بی سی ٹی وی کے لیے کمنٹری کر رہے تھے جب میں نے پہلا چھکا مارا تو انھیں پروڈیوسر کی جانب سے کہا گیا کہ میچ کی مزید ریکارڈنگ کے بجائے آپ کو سٹوڈیو واپسی کی اناؤنسمنٹ کرنی ہے لیکن انھوں نے اپنے پروڈیوسر سے مزید وقت مانگ لیا اور جب میں نے لگاتار تیسرا چھکا مارا تو وولر نے اپنے پروڈیوسر کو کہہ دیا کہ اب کچھ بھی ہو جائے یہ میچ ہی ریکارڈ ہو گا، سٹوڈیو واپسی نہیں ہو سکتی۔‘

سوبرز کہتے ہیں کہ ʹاگر یہ اننگز ریکارڈ نہ ہوتی تو اس کا بھرپور تاثر جو دنیا پر قائم ہوا وہ نہ ہوتا خاص کر وہ کیچ جس میں واضح طور پر دیکھا جاسکتا ہے کہ فیلڈر راجر ڈیوس باؤنڈری لائن کے باہر گر گئے تھے۔‘

365 رنز کی ورلڈ ریکارڈ اننگز

سوبرز اگرچہ اپنے ٹیسٹ کریئر کا آغاز سنہ 1954 میں کر چکے تھے تاہم انھیں اپنی پہلی ٹیسٹ سنچری کے لیے چار سال کا انتظار کرنا پڑا تھا۔ یہ جمود ان کے 17ویں ٹیسٹ میں کسی سنچری سے نہیں بلکہ ٹرپل سنچری سے ٹوٹا۔

سر گیری سوبرز پر لوگ تنقید کرتے تھے کہ انھوں نے پہلی سنچری بنانے میں اتنا وقت کیوں لیا لیکن وہ یہ بھول جاتے تھے کہ سوبرز نے بولر کی حیثیت سے اپنا ٹیسٹ کریئر شروع کیا تھا۔

گیری سوبرز کے بارے میں ٹیم کے ایک مینیجر برکلے گاسکن اور کرکٹ کمنٹیٹر رائے لارنس نے کہا تھا کہ جب بھی سوبرز نے پہلی سنچری سکور کی وہ اس پر اکتفا نہیں کریں گے بلکہ اس اننگز کو ڈبل سنچری یہاں تک کہ ٹرپل سنچری میں تبدیل کر دیں گے اور یہی ہوا۔

1958 میں پاکستان کے خلاف کنگسٹن ٹیسٹ میں انھوں نے 365 رنز ناٹ آؤٹ کی یادگار اننگز کھیل کر سر لین ہٹن کے 364 رنز کا عالمی ریکارڈ توڑا۔

یہ بھی پڑھیے

سر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

ٹیسٹ کرکٹ میں سب سے بڑی انفرادی اننگز کا سوبرز کا یہ ریکارڈ 36 سال تک قائم رہا جسے برائن لارا نے 375 رنز بنا کر توڑا۔ پھر آسٹریلیا کے میتھیو ہیڈن نے 380 رنز کی اننگز کھیلی لیکن برائن لارا 400 رنز بنا کر دوبارہ اس عالمی ریکارڈ کے مالک بن گئے اور آج تک ہیں۔

سوبرز اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ ʹاس اننگز کے دوران میں رات کو بہت کم نیند لے پایا تھا۔ مجھے یاد ہے جب میری ٹرپل سنچری مکمل ہوئی تو کلائیڈ والکوٹ نے مجھ سے کہا تھا کہ مجھے مزید 65 رنز بنانے کی کوشش کرنی چاہیے تاکہ ورلڈ ریکارڈ قائم ہو سکے۔ والکوٹ کا یہ بھی کہنا تھا کہ میرے کریئر میں تین سو رنز شاید دوبارہ نہ بن سکیں لہٰذا مجھے ہر صورت میں ورلڈ ریکارڈ کی طرف جانا چاہیے۔‘

سوبرز کی اس اننگز کے بارے میں متضاد باتیں سننے میں آتی رہی ہیں کہ وہ ایک دو بار آؤٹ ہو گئے تھے لیکن امپائر نے انھیں آؤٹ نہیں دیا جیسا کہ عبدالحفیظ کاردار کی کتاب ʹگرین شیڈوزʹ میں لکھا ہے کہ 334 کے سکور پر وہ فضل محمود کی گیند پر وکٹ کیپر امتیاز احمد کے ہاتھوں کیچ ہو گئے تھے لیکن امپائر نے انھیں آؤٹ نہیں دیا۔

اس کے برعکس حنیف محمد نے اپنی سوانح میں یہ بات واضح طور پر تحریر کی ہے کہ سوبرز نے اپنی اننگز میں کوئی بھی چانس نہیں دیا تھا۔ خود سوبرز کا اس بارے میں کہنا یہ ہے کہ اس اننگز میں ان کے آؤٹ ہونے کا صرف ایک موقع ایسا آیا تھا جب وہ خان محمد کی گیند کو مڈوکٹ پر کھیل کر رن لینے دوڑ پڑے تھے اور ان کی خوش قسمتی تھی کہ وقار حسن کا تھرو غلط اینڈ پر گیا۔

حنیف محمد دونوں ہاتھوں سے بولنگ کر لیں

اس اننگز کے دوران گیری سوبرز کا سکور جب 363 رنز پر پہنچا تو کپتان عبدالحفیظ کاردار نے حنیف محمد کو بولنگ دی۔ پہلی گیند پر سوبرز نے ایک رن لیا اور اگلی گیند پر والکوٹ نے ایک رن بنایا۔

اس موقع حنیف محمد نے امپائر سے پوچھا کہ کیا وہ بائیں ہاتھ سے گیند کر سکتے ہیں۔ امپائر نے سوبرز سے جب پوچھا تو ان کا جواب کچھ یوں تھا ʹمجھے کیا اعتراض ہو سکتا ہے، حنیف محمد چاہیں تو دونوں ہاتھوں سے گیند کروا لیں۔‘

پھر سوبرز نے کوور پوزیشن کی طرف کھیل کر ایک رن بنایا اور یوں سر لین ہٹن کا 364 رنز کا عالمی ریکارڈ ان کے نام ہو گیا۔ اس وقت ہزاروں کی تعداد میں تماشائی سوبرز کو مبارکباد دینے میدان میں آ گئے تھے اور کھیل تقریباً 20 منٹ رُکا رہا تھا۔ تماشائیوں کی وجہ سے پچ کے ایک حصے کو بھی نقصان پہنچا تھا اور پاکستانی ٹیم نے اس ٹکڑے کی مرمت سے پہلے کھیلنے سے انکار کر دیا تھا۔

گیری سوبرز کا مجسمہ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

پاکستانی امپائرز کا ہدف

سر گیری سوبرز نے اپنی سوانح عمر میں الزام لگایا ہے کہ جب وہ 365 رنز والی یادگار سیریز کے بعد پاکستان آئے تو یہاں انھیں خراب امپائرنگ کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

سوبرز کہتے ہیں ʹکراچی ٹیسٹ کی پہلی اننگز میں فضل محمود کی گیند لیگ سٹمپ کے باہر پیڈ پر لگی تھی لیکن امپائر نے مجھے ایل بی ڈبلیو دے دیا۔‘

’میں حیران تھا لیکن کچھ نہیں کہا مگر دوسری اننگز میں جب فضل محمود کی گیند بلے کا کنارہ لیتی ہوئی لیگ سلپ میں اعجاز بٹ کے پاس گئی اور گیند ہاتھوں میں جانے سے پہلے ان کے آگے زمین پر گری تو اس وقت میری حیرت کی انتہا نہ رہی جب فضل محمود کی اپیل پر امپائر نے انگلی اٹھا دی۔ میں نے اعجاز بٹ کی طرف دیکھا تو انھوں نے مجھ سے پوچھا کہ کیا ہوا؟ ہم دونوں جانتے تھے کہ مجھے کیچ آؤٹ نہیں دیا گیا۔ یہ فیصلہ ایل بی ڈبلیو ہی ہو سکتا تھا۔‘

سوبرز مزید کہتے ہیں کہ ʹمجھے یاد ہے کہ میرے اس طرح آؤٹ ہونے پر نان سٹرائیک اینڈ پر کھڑے کولی سمتھ نے فضل محمود سے غصے میں کچھ کہا تھا۔ میں ڈریسنگ روم میں آ کر اپنا بیگ تیار کرنے لگا کیونکہ میں واپس ویسٹ انڈیز جانا چاہتا تھا۔‘

سوبرز کا کہنا ہے کہ ʹمجھے پاکستانی ٹیم کے ایک دو کھلاڑیوں نے پہلے سے بتا دیا تھا کہ انھیں یہ بات معلوم تھی کہ میرے ساتھ یہ سب کچھ ہونے والا تھا۔ دراصل یہ بدترین امپائرنگ تھی جس کا سامنا میں نے اپنے کریئر میں کیا تھا۔‘

سوبرز اس سیریز کے ڈھاکہ ٹیسٹ کی پہلی اننگز میں بھی فضل محمود کی گیند پر ایل بی ڈبلیو دیے گئے تھے۔

یہ بھی پڑھیے

گیری سوبرز اور پرو کربی

،تصویر کا ذریعہBettmann/Getty Images

،تصویر کا کیپشنگیری سوبرز اور پرو کربی

کولی سمتھ کی ہلاکت کا اثر

سر گیری سوبرز اور ان کے ساتھی کرکٹر کولی سمتھ درحقیقت یک جان دو قالب تھے۔ ان کی دوستی مثالی تھی۔

یہی وجہ ہے کہ ٹریفک حادثے میں کولی سمتھ کی موت نے سر گیری سوبرز کی ذہنی حالت ہی بدل دی تھی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ جس حادثے میں کولی سمتھ کی موت واقع ہوئی وہ کار سوبرز چلا رہے تھے۔

یہ چھ ستمبر 1959 کا واقعہ ہے جب گیری سوبرز، کولی سمتھ اور ایک اور کرکٹر ٹام ڈیوڈنی لنکاشائر لیگ کا میچ کھیل کر لندن کے لیے روانہ ہوئے تھے جہاں انھیں ایک چیریٹی میچ کھیلنا تھا۔ ابتدا میں کولی سمتھ نے ڈرائیونگ کی اور بعد میں سوبرز نے سٹیرنگ سنبھال لیا۔

یہ صبح کے پونے پانچ بجے کا وقت تھا جب اچانک سامنے سے آنے والے مویشیوں کے ایک ٹرک کی تیز ہیڈ لائٹس نے سوبرز کو سنبھلنے کا موقع ہی نہیں دیا۔ جب حواس قابو میں آئے تو سوبرز نے دیکھا کہ ان کے دونوں ساتھی کار کے باہر گرے ہوئے تھے۔ سوبرز نے کولی سمتھ سے پوچھا ʹلٹل مین کیسے ہو؟ جواب ملا میں ٹھیک ہوں تم بگ مین ڈیوڈنی کو دیکھو۔‘

ایمبولنس میں ان تینوں کو ہسپتال لے جایا گیا۔ سوبرز کہتے ہیں کہ وہ یہ سن کر لرز گئے کہ کولی سمتھ کی ریڑھ کی ہڈی بُری طرح متاثر ہوئی ہے اور پھر تین روز بعد ان کی موت واقع ہو گئی۔

سوبرز پر اس حادثے کا اتنا گہرا صدمہ ہوا تھا کہ اس سے باہر نکلنے میں انھیں کافی وقت لگا۔ اس دوران وہ ضرورت سے زیادہ شراب پینے لگے تھے۔ وہ خود کو اپنے سب سے بہترین دوست کی موت کا ذمہ دار سمجھ رہے۔

انڈین اداکارہ سے منگنی

1966میں ویسٹ انڈین ٹیم کے دورۂ انڈیا میں گیری سوبرز کی اداکارہ انجو مہندرو سے ملاقات ہوئی اور وہ انھیں دل دے بیٹھے۔ یہاں تک کہ بات منگنی تک جا پہنچی۔

منگنی کی تقریب میں پانچ سو سے زیادہ لوگ مدعو کیے گئے اور میڈیا کے لیے یہ ایک بڑی خبر تھی۔

سوبرز کہتے ہیں ʹمیں اپنے کریئر کے عروج پر تھا اور یہ سب کچھ ایسے وقت ہوا تھا جب انڈیا میں کرکٹر منصور علی خان پٹودی کی اداکارہ شرمیلا ٹیگور سے شادی کی مثال موجود تھی۔

’میں انجو کو شادی کی تقریب کے لیے لندن لے جانا چاہتا تھا لیکن کچھ مسائل آڑے آ گئے۔ ہم دونوں کے درمیان فاصلے سب سے بڑی رکاوٹ بن گئے۔‘

’وہ میرے ساتھ انگلینڈ نہ جا سکیں اور پھر مجھے اندازہ ہوا کہ یہ شادی نہیں ہو پائے گی اور جب چند برس بعد میری آسٹریلین لڑکی پرو کربی سے منگنی ہوئی تو مجھے انجو مہندرو کو فون کر کے اجازت لینا پڑی تھی۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’انھوں نے اگرچہ اس کی اجازت دے دی تھی لیکن مجھے پتا چلا تھا کہ انھیں اس بات کا بہت دُکھ تھا کہ میں ان کی فیملی کا حصہ نہ بن سکا۔‘