کرکٹ میں بائیں ہاتھ سے بیٹنگ اور بولنگ کرنے والے اتنے منفرد کیوں ہوتے ہیں؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, عبدالرشید شکور
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
اس سوال کا جواب کوئی بھی یقین سے نہیں دے سکتا کہ دائیں ہاتھ کے بیٹسمینوں کے مقابلے میں بائیں ہاتھ سے کھیلنے والے بیٹسمین کیوں زیادہ جارحانہ انداز میں کھیلتے ہیں۔
اگر ہم مختلف ادوار پر نظر ڈالیں تو سر گیری سوبرز، کلائیو لائڈ، وسیم راجہ، برائن لارا، سنتھ جے سوریا، سعید انور، ایڈم گلکرسٹ اور کئی دیگر بیٹسمین بائیں ہاتھ سے کمالات دکھاتے ہوئے نظر آتے ہیں۔
کرکٹ کے کئی اہم ریکارڈز اور دلچسپ اعداد و شمار میں بائیں ہاتھ کے کھلاڑیوں کے نام نمایاں دکھائی دیتے ہیں۔
مزید پڑھیے
ایک اوور میں چھ چھکے
ایک اوور میں چھ چھکے مارنا اب کوئی حیران کن بات نہیں رہی لیکن ویسٹ انڈیز کے آل راؤنڈر سر گیری سوبرز نے جب پہلی بار ایک اوور میں چھ چھکے لگائے تو دنیا حیران رہ گئی تھی۔
سر گیری سوبرز نے یہ کارنامہ 1968 میں ناٹنگھم شائر کی طرف سے کھیلتے ہوئے گلیمورگن کے خلاف انجام دیا تھا۔ ان کی جارحانہ بیٹنگ کا شکار ہونے والے بدقسمت بولر بھی بائیں ہاتھ کے میلکم ناش تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سر گیری سوبرز کے بعد مختلف فارمیٹس میں ایک اوور میں چھ چھکے لگانے کا کارنامہ انڈیا کے روی شاستری، جنوبی افریقہ کے ہرشل گبز، انڈیا کے یووراج سنگھ، انگلینڈ کے راس وائٹلے، افغانستان کے حضرت اللہ ززئی اور نیوزی لینڈ کے لیو کارٹر انجام دے چکے ہیں۔
ان میں سے یووراج سنگھ، راس وائٹلے، حضرت اللہ ززئی اور لیو کارٹر بھی بائیں ہاتھ کے بیٹسمین ہیں۔
اننگز میں سب سے زیادہ چھکے
ٹیسٹ کرکٹ، ون ڈے انٹرنیشنل اور ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل کی ایک اننگز میں سب سے زیادہ چھکے لگانے والے بھی بائیں ہاتھ کے بیٹسمین ہیں۔
ٹیسٹ کرکٹ میں یہ اعزاز وسیم اکرم کو حاصل ہے جنہوں نے 1996 میں زمبابوے کے خلاف شیخوپورہ ٹیسٹ میں اپنی 257 رنز ناٹ آؤٹ کی اننگز میں 12 چھکے لگائے تھے۔
ون ڈے انٹرنیشنل میں یہ ریکارڈ انگلینڈ کے اوئن مورگن کے نام ہے جنہوں نے گذشتہ سال ورلڈ کپ میں افغانستان کے خلاف اپنی 148 رنز کی اننگز میں 17 چھکے لگائے تھے۔
افغانستان کے حضرت اللہ ززئی نے بھی گذشتہ سال آئرلینڈ کے خلاف ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں 162 رنز ناٹ آؤٹ کی اننگز میں 16 چھکے لگائے تھے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
برائن لارا کے دو عالمی ریکارڈز
ویسٹ انڈیز کے برائن لارا کو ٹیسٹ اور فرسٹ کلاس کرکٹ دونوں میں سب سے بڑی انفرادی اننگز کھیلنے کا منفرد اعزاز حاصل ہے۔
برائن لارا نے 1994 میں انگلینڈ کے خلاف انٹیگا ٹیسٹ میں 375 رنز بنا کر گیری سوبرز کے 365 رنز کا ریکارڈ توڑا تھا۔ لارا کا یہ ریکارڈ آسٹریلیا کے میتھیو ہیڈن نے 2003 میں زمبابوے کے خلاف پرتھ ٹیسٹ میں 380 رنز بنا کر توڑ دیا۔
وہ بھی اتفاق سے بائیں ہاتھ سے کھیلنے والے بیٹسمین تھے لیکن صرف چھ ماہ بعد ہی برائن لارا نے انگلینڈ کے خلاف انٹیگا ہی میں 400 ناٹ آؤٹ سکور کر کے ایک بار پھر عالمی ریکارڈ اپنے نام کر لیا۔
برائن لارا نے 1994 میں ہی وارک شائر کی طرف سے ڈرہم کاؤنٹی کے خلاف ایجبسٹن کے میدان میں 501 رنز ناٹ آؤٹ کی اننگز کھیل کر حنیف محمد کے 499 رنز کا پنتیس سال پرانا ریکارڈ توڑا تھا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بائیں ہاتھ کے بولرز بھی کسی سے کم نہیں
پاکستان کے وسیم اکرم نے ون ڈے انٹرنیشنل کریئر کا اختتام 502 وکٹوں پر کیا۔ ان کا یہ ریکارڈ سری لنکا کے مرلی دھرن نے توڑ دیا لیکن وسیم اکرم کی 502 وکٹیں اب بھی ون ڈے انٹرنیشنل میں کسی بھی فاسٹ بولر کی سب سے زیادہ وکٹیں ہیں۔
وسیم اکرم کا ایک ریکارڈ شاید بہت سے لوگوں کو معلوم نہ ہو کہ انھوں نے ون ڈے انٹرنیشنل میں سب سے زیادہ 176 وکٹیں بولڈ اور سب سے زیادہ 92 وکٹیں ایل بی ڈبلیو کے ذریعے حاصل کی ہیں۔
سری لنکا کے فاسٹ بولر چمندا واس کو ون ڈے انٹرنیشنل میں سب سے بہترین انفرادی بولنگ کا اعزاز حاصل ہے۔ انھوں نے 2001 میں زمبابوے کے خلاف کولمبو میں صرف 19 رنز دے کر 8 وکٹیں حاصل کی تھیں۔
فرسٹ کلاس کرکٹ کی تاریخ میں سب سے زیادہ وکٹیں حاصل کرنے کا ریکارڈ بھی بائیں ہاتھ کے بولر کا ہے۔
انگلینڈ کے ولفریڈ رہوڈز نے جو سلو لیفٹ آرم بولر تھے، اپنے فرسٹ کلاس کریئر میں 4204 وکٹیں حاصل کی تھیں یہ ریکارڈ 90 سال گزر جانے کے بعد بھی قائم ہے۔








