کرکٹ کی تاریخ کا پہلا ٹائی ٹیسٹ: ’وننگ رن جو آسٹریلیا کی قسمت میں نہ تھا‘

کرکٹ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنوہ لمحہ جب آخری آسٹریلوی بلے باز آؤٹ ہو گیا اور میچ ٹائی پر ختم ہوا
    • مصنف, عبدالرشید شکور
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

کوئی جیتا نہ کوئی ہارا اور نہ ہی بازی ڈرا پر ختم ہوئی لیکن پھر یہ کیسا ٹیسٹ میچ تھا جس کے ختم ہونے پر سب ہی خوش اور مطمئن تھے۔

14 دسمبر 1960 کو برسبین کے وولن گابا گراؤنڈ میں جو کچھ بھی ہوا اس سے پہلے ٹیسٹ کرکٹ کی 84 سالہ تاریخ میں نہیں ہوا تھا۔ یہ ایک انتہائی دلچسپ تجربہ تھا جس سے وہ تمام بائیس کھلاڑی گزرے جو اس میچ میں شریک تھے۔

اس ٹیسٹ کے ُاس خاص دلچسپ لمحے کا ذکر کرنے سے پہلے اس سے پہلے رونما ہونے والے واقعات کا احوال بھی ضروری ہے تاکہ یہ معلوم ہوسکے کہ اس کا نقطۂ آغاز کیسے ہوا تھا۔

یہ ویسٹ انڈیز اور آسٹریلیا کے درمیان کھیلی گئی پانچ ٹیسٹ میچوں کی سیریز تھی جس کے لیے ویسٹ انڈیز کی ٹیم آسٹریلیا پہنچی تھی۔

سر فرینک ووریل ویسٹ انڈیز کے تازہ تازہ کپتان بنے تھے جس کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ تھی کہ وہ کسی غیر ملکی دورے پر ویسٹ انڈیز کی قیادت سنبھالنے والے پہلے غیرسفید فام کرکٹر تھے۔ ان کی کرکٹ سے گہری وابستگی سب پر عیاں تھی۔

وہ ایک ذہین کرکٹر تھے۔ اس وقت ان کی عمر 36 برس تھی لہذا سینئر ہونے کے ناتے ان کے لیے ساتھی کھلاڑیوں کے دل میں احترام موجود تھا۔

آسٹریلیا کے اس دورے میں سر فرینک ووریل کی شخصیت سے متاثر ہونے والوں میں آسٹریلوی بھی شامل تھے اور یہی وجہ ہے کہ اس سیریز کے اختتام پر فاتح ٹیم کو دی گئی ٹرافی کو خصوصی طور پر تیار کرکے ان ہی کے نام سے منسوب کر دیا گیا۔

آج بھی آسٹریلیا اور ویسٹ انڈیز کی سیریز سر فرینک ووریل ٹرافی کے نام سے کھیلی جاتی ہے۔

سر فرینک ووریل نے کپتان بننے کے بعد تمام کھلاڑیوں کے ذہنوں میں یہ بات باور کرا دی تھی کہ یہ ویسٹ انڈیز کی ٹیم ہے۔ یہ باربیڈوس، جمائیکا یا کسی تیسرے چوتھے جزیرے کی ٹیم نہیں ہے۔

کرکٹ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنمیچ ٹائی ہونے کے بعد سر فرینک ووریل کی قیادت میں ویسٹ انڈیز کو آسٹریلوی عوام نے سراہا

وہ کپتانی کا سیدھا سادہ فارمولا رکھتے تھے۔ فیلڈ میں مشکل سے مشکل صورتحال میں کھلاڑیوں کو مایوسی سے بچانے کے لیے ان کے پاس حوصلہ افزائی کرنے کا ہنر موجود تھا۔

ویسٹ انڈیز کی ٹیم میں گیری سوبرز اور روہن کنہائی کی شکل میں دو ورلڈ کلاس بیٹسمین بھی موجود تھے۔

اوپنر کونریڈ ہنٹ اننگز کے آغاز سے ہی نئی گیند کی درگت بنانے کے لیے تیار رہتے تھے۔ گیری الیگزینڈر تجربہ کار وکٹ کیپر تھے۔ سر فرینک ووریل کو ان ہی سے کپتانی منتقل ہوئی تھی۔

ویسٹ انڈیز کے پاس رامادھن اور ویلنٹائن کی مشہور سپن جوڑی موجود تھی۔ لانس گبز بھی موقع ملنے پر اپنا جادو جگانے کے لیے تیار بیٹھے تھے ۔ فاسٹ بولنگ میں ویزلے ہال کا طوطی بول رہا تھا لیکن دوسرے اینڈ سے انھیں خاص مدد حاصل نہیں تھی۔

اگر آسٹریلوی ٹیم کی بات کریں تو کپتان رچی بینو کو تجربہ کار کھلاڑیوں کی خدمات حاصل تھیں۔

کرکٹ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنمیچ کی 40ویں سالگرہ پر دسمبر 2000 میں آسٹریلیا کے کپتان رچی بینو اور ویسٹ انڈیز کے ویزلے ہال

بیٹنگ لائن بابی سمپسن، نارمن اونیل، کالن مک ڈونلڈ کی موجودگی میں متوازن تھی۔ لیفٹ آرم فاسٹ بولر ایلن ڈیوڈسن اور لیگ سپنر رچی بینو بیٹنگ میں بھی مکمل مہارت کی وجہ سے مستند آل راؤنڈر کا درجہ رکھتے تھے۔

وکٹ کیپر والی گراؤٹ کی صلاحیتوں سے کسی کو انکار نہ تھا۔

برسبین ٹیسٹ میں کیا ہوا؟

ویسٹ انڈیز کی ٹیم کا دورے کا آغاز اچھا نہ تھا۔ ویسٹرن آسٹریلیا کے خلاف فرسٹ کلاس میچ وہ صرف 97 رنز پر آؤٹ ہوکر 94 رنز سے ہاری تھی۔

نیو ساؤتھ ویلز نے اسے اننگز اور 119 رنز کے بھاری فرق سے شکست دی تھی۔ ویسٹ انڈیز کی ُامیدوں کا مرکز سرگیری سوبرز تھے لیکن وہ ویسٹرن آسٹریلیا کے خلاف دوسری اننگز میں سنچری اور آسٹریلین الیون کے خلاف 72 رنز کے علاوہ دیگر اننگز میں قابل ذکر کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کر پائے تھے۔

نیو ساؤتھ ویلز کی دوسری اننگز میں رچی بینو نے انھیں صفر پر بولڈ کر دیا تھا لیکن اس کے باوجود کپتان سر فرینک ووریل اپنی ٹیم سے مایوس نہیں تھے۔

برسبین ٹیسٹ میں ویسٹ انڈیز نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا لیکن 65 کے سکور پر اپنا پہلا ٹیسٹ کھیلنے والے کیمی سمتھ کے علاوہ ہنٹ اور کنہائی کی وکٹیں آسٹریلیا کو مل چکی تھیں۔

ان تینوں کو ایلن ڈیوڈسن نے آؤٹ کیا تھا۔ اس مرحلے پر سرگیری سوبرز اور کپتان سر فرینک ووریل کے درمیان چوتھی وکٹ کی شراکت میں بننے والے 174 رنز نے ابتدائی نقصان کا ازالہ کرنے کی کوشش کی۔

سرگیری سوبرز نے ٹیسٹ کرکٹ میں اپنی دسویں سنچری سکور کی۔ ان کی اننگز سے کوئی متاثر ہوا ہو یا نہیں لیکن سرڈان بریڈمین ضرور متاثر ہوئے تھے جو اس وقت آسٹریلیا کے چیف سلیکٹر تھے۔

کرکٹ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنسرگیری سوبرز نے ٹیسٹ کرکٹ میں اپنی دسویں سنچری اسکور کی

وہ خود ویسٹ انڈین ڈریسنگ روم میں گئے اور گیری سوبرز کی 132 رنز کی اننگز کی تعریف کی۔

سوبرز کی سنچری کے علاوہ سر فرینک ووریل، جو سولومن گیری الیگزینڈر اور ویزلے ہال کی نصف سنچریوں کی بدولت ویسٹ انڈیز نے پہلی اننگز کا اختتام 453 رنز پر کیا۔

ایلن ڈیوڈسن نے پانچ وکٹیں حاصل کیں۔

جب آسٹریلیا کی بیٹنگ آئی تو اس نے 505 رنز بنا ڈالے جس میں نارمن اونیل کے 181، بابی سمپسن کے 92 اور کالن مک ڈونلڈ کے 57رنز نمایاں تھے۔

ویزلے ہال چار وکٹیں حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔ ویسٹ انڈیز نے دوسری اننگز 52 رنز کے خسارے کے ساتھ شروع کی لیکن ایلن ڈیوڈسن کی چھ وکٹوں کی شاندار بولنگ نے اسے صرف 284 رنز پر محدود کر دیا جس میں کپتان سر فرینک ووریل اور روہن کنہائی کی نصف سنچریاں شامل تھیں۔

آسٹریلیا نے پانچویں روز دوسری اننگز شروع کی تو اسے میچ جیتنے کے لیے 233 رنز کا ہدف ملا تھا۔

ویزلے ہال کے ارادے خطرناک دکھائی دے رہے تھے۔ آسٹریلیا نے چھ وکٹیں صرف 92 پر گنوا دیں جن میں سے چار کو ویزلے ہال نے آؤٹ کیا تھا۔

آسٹریلوی ٹیم پر شکست کے بادل منڈلانے لگے تھے اس مرحلے پر کپتان رچی بینو اور ایلن ڈیوڈسن نے ساتویں وکٹ کی شراکت میں134 رنز بنا کر جیت کو اپنی طرف کرنے کی کوشش کی۔

یہ بھی پڑھیے

رچی بینو نے بریڈمین کو کیا جواب دیا؟

کرکٹ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشناس میچ کی 40ویں سالگرہ کے موقع پر اس میں شرکت کرنے والے کھلاڑیوں نے آسٹریلیا میں منعقد ہونے والی تقریب میں شرکت کی

چائے کے وقفے پر آسٹریلیا کو جیت کے لیے 124 رنز درکار تھے اور اس کی 4 وکٹیں باقی تھیں۔ اس موقع پر سر ڈان بریڈمین نے کپتان رچی بینو سے پوچھا کہ آپ کے ذہن میں کیا ہے۔ جیت یا ڈرا ؟

رچی بینو نے اطمینان سے جواب دیا ʹہم جیتنے کے لیے جائیں گے۔ بریڈمین اس جواب پر بہت خوش ہوئے تھے۔‘

تمام تر دلچسپی آخری اوور میں سمٹ آئی

رچی بینو اور ایلن ڈیوڈسن کی حکمت عملی بہت سادہ تھی۔ وہ وکٹوں کے درمیان رنز بنانے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دے رہے تھے۔ ویسٹ انڈین کھلاڑیوں کی بے چینی بڑھتی جا رہی تھی ایسے میں کپتان سر فرینک ووریل انھیں پرسکون رہنے کی تلقین کیے جا رہے تھے۔

میچ کے آخری سے پہلے اوور میں ڈیوڈ سن اور رچی بینو کی شاندار شراکت سولومن کی مڈ وکٹ سے براہ راست تھرو کے ذریعے اختتام کو پہنچی۔

ایلن ڈیوڈ سن 80 رنز کی عمدہ اننگز کھیلنے کے بعد بوجھل قدموں سے پویلین واپس جانے پر مجبور ہوئے تھے۔

ایلن ڈیوڈسن کے لیے یہ یادگار ٹیسٹ رہا تھا جس کی دونوں اننگز میں 44 اور80 رنز بنانے کے علاوہ میچ میں 11 وکٹیں بھی حاصل کی تھیں۔

ویزلے ہال کو آخری اوور کرنا تھا۔ آسٹریلیا کو جیتنے کے لیے آٹھ گیندوں پر صرف چھ رنز درکار تھے اور اس کی تین وکٹیں باقی تھیں سب سے اہم بات کپتان رچی بینو کریز پر موجود تھے۔

ایک طویل عرصے تک آسٹریلیا میں کھیلے جانے والے ٹیسٹ میچوں میں ایک اوور چھ کے بجائے آٹھ گیندوں پر مشتمل ہوا کرتا تھا۔

باؤنسر اور نوبال نہ کرنا

اس سے قبل کہ ویزلے ہال اوور شروع کرتے کپتان سر فرینک ووریل نے انھیں باؤنسر اور نوبال سے بچنے کی تاکید کی۔

پہلی گیند: اوور کی پہلی گیند وکٹ کیپر والی گراؤٹ کے پیر پر لگی جس پر رچی بینو نے انھیں بھاگنے کے لیے کہا اور یوں لیگ بائی کا ایک رن بنا۔

دوسری گیند: ویزلے ہال نے اپنے کپتان کی ہدایت کے برخلاف باؤنسر کیا لیکن رچی بینو ہک کرنے کی کوشش میں وکٹ کیپر الیگزینڈر کے ہاتھوں کیچ ہو گئے۔ انھوں نے 52 رنز سکور کیے۔ آسٹریلیا کا سکور آٹھ وکٹوں پر 228 رنز تھا۔

تیسری گیند: نئے بیٹسمین ای این میکیف اس گیند کو مڈ آف پر کھیلا اور کوئی رن نہیں بنا۔

چوتھی گیند: میکیف نے لیگ سائیڈ پر کھیلنے کی کوشش کی گیند بلے پر نہیں لگی اور وکٹ کیپر نے ویزلے ہال کی طرف تھرو کی لیکن ہال میکیف کو رن آؤٹ کرنے میں ناکام رہے، اور بائی کا ایک رن بن گیا۔

اب چار گیندوں پر چار رنز درکار تھے۔

پانچویں گیند: والی گراؤٹ نے گیند کو سکوائر لیگ کی طرف اچھال دیا جہاں روہن کنہائی کیچ کے لیے تیار تھے۔ ویزلے ہال بھی کیچ لینے دوڑ پڑے لیکن اس کوشش میں ان سے کیچ ڈراپ ہو گیا اور ایک رن بھی بن گیا۔

سر فرینک ووریل نے بعد میں لکھا تھا ’ویزلے ہال کیچ لینے کے لیے وہاں کیسے پہنچ گئے تھے یہ میں کبھی بھی سمجھ نہیں پاؤں گا۔‘

اب میکیف سامنے تھے اور تین گیندوں پر تین رنز درکار تھے۔

کرکٹ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنویزلے ہال نے میچ میں بڑی عمدہ بولنگ کی

چھٹی گیند: میکیف نے ُپل شاٹ کھیلا۔ بیٹسمینوں نے دو رنز مکمل کیے اور وننگ رن کے لیے دوڑ پڑے لیکن کونریڈ ہنٹ کی تھرو وکٹ کیپر الیگزینڈر کے ہاتھوں میں آئی اور انھوں نے گراؤٹ کو رن آؤٹ کر دیا جو ڈائیو مارنے کے باوجود اپنی وکٹ نہ بچا پائے۔

سکور نو وکٹوں پر 232 تھا اور دو گیندوں پر صرف ایک رن بنا کر آسٹریلیا کو یہ ٹیسٹ جیتنا تھا۔

ساتویں گیند: نئے بیٹسمین کلائن نے گیند کو سکوائر لیگ کی طرف کھیلا اور دوڑ پڑے لیکن مستعد جو سولومن کی ڈائریکٹ تھرو ای این میکیف کو چند انچ پیچھے چھوڑ گئی۔

یہی وہ مشہور رن آؤٹ تھا جس نے ٹیسٹ کرکٹ کو ٹائی کی شکل میں ایک منفرد نتیجہ دے ڈالا۔

ڈریسنگ روم کا ماحول

اس میچ کے آخری لمحات کی سنسنی خیزی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ وکٹ کیپر والی گراؤٹ کی جب بیٹنگ آئی تو وہ اس قدر نروس تھے کہ انھیں اپنے بیٹنگ گلووز نہیں مل رہے تھے جو ان کے پیڈ کے اندر گر گئے تھے اسی طرح آخری بیٹسمین کلائن کو بھی اپنے گلووز کی تلاش تھی۔ پتہ چلا کہ وہ انہی گلووز کے اوپر بیٹھے ہوئے تھے۔

میچ ختم ہونے کے بعد بھی کھلاڑی اصل نتیجے کے بارے میں تذبذب کا شکار تھے۔ ای این میکیف کو لگ رہا تھا کہ آسٹریلیا میچ ہار گیا ہے۔ ویسٹ انڈیز والے سمجھ رہے تھے کہ وہ جیت گئے ہیں۔ اس دوران سر ڈان بریڈمین نے ایلن ڈیوڈسن کے پاس آ کر کہا کہ آپ نے نئی تاریخ رقم کی ہے۔

کرکٹ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

ویزلے ہال نے جس گیند سے آخری اوور کیا تھا وہ سونی رامادھن کے ہاتھ سے گری اور پویلین کے سامنے موجود ہزاروں شائقین میں موجود مونگ پھلی کے ایک کسان کے ہاتھ لگ گئی تھی جس نے کچھ عرصہ بعد ویزلے ہال کو اس بارے میں انکشاف کیا تھا۔

تاریخ نے خود کو دوہرایا

آسٹریلیا کے ایک سلیکٹر جیک رائیڈر نے برسبین ٹیسٹ کے بارے میں کہا تھا ’یہ انتہائی زبردست ہے ہم اس طرح کا ٹیسٹ میچ دوبارہ نہیں دیکھ سکیں گے۔‘

لیکن 26 سال بعد 1986 میں انڈیا اور آسٹریلیا کے درمیان مدراس ( چنئی ) میں کھیلا گیا ٹیسٹ بھی دلچسپ انداز میں کسی کی جیت ہار اور ڈرا کے بغیر ٹائی ہوا تھا اور اس وقت بھی میچ کی ایک گیند باقی رہتی تھی۔

دونوں میچوں میں واحد قدِر مشترک آسٹریلیا کے بابی سمپسن تھے۔ دونوں ٹیسٹ میچوں میں ان کا براہ راست تعلق رہا تھا۔ برسبین ٹیسٹ میں وہ آسٹریلوی ٹیم کے اوپننگ بیٹسمین اور مدراس ٹیسٹ آسٹریلوی ٹیم کے کوچ تھے۔