کرکٹ میں ایک روزہ میچز کی ابتدا: تین روزہ بارش جس نے کرکٹ تاریخ میں ون ڈے میچز کی بنیاد رکھی

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, عبدالرشید شکور
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
پانچ جنوری 1971 کو کرکٹ کی تاریخ میں ایک اہم دن کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ یہ وہی دن ہے جب پانچ دن کی روایتی ٹیسٹ کرکٹ چند اوورز کی ون ڈے کرکٹ میں سمٹ آئی تھی۔
اس روز میلبرن کرکٹ گراؤنڈ میں موجود 46 ہزار شائقین نے سوچا بھی نہ ہو گا کہ وہ اپنے سامنے انگلینڈ اور آسٹریلیا کے درمیان جو ون ڈے میچ دیکھ رہے ہیں وہ آنے والے برسوں میں ایک نئے دور کا نقطہ آغاز ثابت ہو گا۔
اُس موقع پر سر ڈان بریڈمین نے دونوں ٹیموں سے تعارف کرائے جانے کے بعد اپنی تقریر میں شائقین سے مخاطب ہوتے ہوئے یہ کہہ دیا تھا ’آپ ایک نئی تاریخ رقم ہوتے دیکھ رہے ہیں‘ لیکن آسٹریلوی آف سپنر ایشلے میلٹ کے بقول ’ہم تو اس وقت اس ون ڈے کو محض ایک مذاق سمجھ رہے تھے۔‘
انگلینڈ اور آسٹریلیا کے درمیان اس ون ڈے میچ کا انعقاد دراصل تیسرا ٹیسٹ میچ ختم کیے جانے کے بعد کیا گیا تھا جس کے ابتدائی تین دن بارش کی نذر ہو چکے تھے اور منتظمین پہلے دو ٹیسٹ ڈرا ہونے پر شائقین کی مایوسی اور اپنے مالی خسارے کے بارے میں کافی پریشان تھے۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
دریا کو کوزے میں بند کرنا
آج ون ڈے انٹرنیشنل کرکٹ نصف صدی کا سفر مکمل کر چکی ہے۔ اس سفر میں اس کے انداز میں کئی تبدیلیاں آئی ہیں لیکن اب ون ڈے کرکٹ اس موڑ پر کھڑی ہے جہاں ٹی ٹوئنٹی کی شکل میں ایک اور فارمیٹ اس کے متوازی موجود ہے۔
ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل کرکٹ کو شروع ہوئے ابھی دو دہائیاں بھی نہیں ہوئی ہیں لیکن اس کم وقت میں اس نے اس کھیل کے تمام ہی سٹیک ہولڈرز کو اپنی گرفت میں لے لیا ہے اور اب کرکٹ کا کھیل ٹی ٹوئنٹی کے بغیر ادھورا سمجھا جاتا ہے۔
ٹی ٹوئنٹی کے آنے کے بعد اس کے مثبت اور منفی پہلوؤں اور اس کے ون ڈے اور ٹیسٹ کرکٹ پر مرتب ہونے والے اثرات پر بحث، ناختم ہونے والا سلسلہ ہے۔
ایک طرف وہ لوگ ہیں جو اسے ٹیسٹ اور ون ڈے کے لیے بڑا خطرہ قرار دیتے ہیں تو دوسری جانب یہ رائے موجود ہے کہ اس طرزِ کرکٹ نے کھیل اور کھلاڑیوں کو مالی طور مستحکم کرنے کے ساتھ ساتھ اس کھیل کی کم ہوتی ہوئی مقبولیت کو واپس لانے میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستانی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان آصف اقبال سکول کا اپنا زمانہ یاد کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ پرانے وقتوں میں والدین اپنے بچوں کو اس خیال کے تحت تعلیم دلواتے تھے کہ پڑھ لکھ کر انھیں اچھی ملازمت مل جائے گی لیکن وہ (آصف) اُس وقت بھی یہ کہا کرتے تھے کہ وہ سکول امتحان پاس کرنے کے لیے جاتے ہیں جبکہ کرکٹ کو وہ اس لیے زیادہ وقت دیتے ہیں تاکہ اسے روزی کمانے کا ذریعہ بنا سکیں۔
آصف اقبال کہتے ہیں کہ اس زمانے میں سب اُن پر ہنستے تھے کہ یہ کیا بات کر رہا ہے لیکن آج آپ دیکھیں تو پتا چلے گا کہ کرکٹ نے وقت کے ساتھ ساتھ بہت ترقی کی ہے، پہلے صرف ٹیسٹ کرکٹ ہوا کرتی تھی پھر ون ڈے آ گئی اور اب اس سے بھی مختصر لیکن دلچسپ فارمیٹ ٹی ٹوئنٹی کی شکل میں موجود ہے۔
اس تدریجی عمل کا براہ راست فائدہ کرکٹرز کو ہوا ہے اور یہ اسی کا نتیجہ ہے کہ والدین جو کبھی اپنے بچوں کو کرکٹ کھیلنے سے منع کیا کرتے تھے اب اپنے بچوں کو لے کر کرکٹ اکیڈمیوں کے باہر قطار میں کھڑے رہتے ہیں کیونکہ انھیں پتا ہے کہ اُن کے بچے اب کرکٹ میں بھی اپنا کریئر بنا سکتے ہیں۔
ٹی ٹوئنٹی سے ٹیسٹ اور ون ڈے کو جھٹکا
پاکستان سپر لیگ کی فرنچائز اسلام آباد یونائٹڈ کے تِھنک ٹینک میں شامل حسن چیمہ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ٹی ٹوئنٹی کے آنے سے بڑا نقصان ون ڈے انٹرنیشنل کا ہوا ہے، ٹیسٹ کرکٹ کی تعداد میں ضرور کمی آئی ہے لیکن اس کی ویلیو اسی طرح موجود ہے۔
حسن چیمہ کا کہنا ہے کہ ون ڈے انٹرنیشنل کی زیادہ اہمیت اب ہمیں صرف آئی سی سی کے ایونٹس میں ہی دکھائی دیتی ہے۔ دو طرفہ سیریز میں اتنی زیادہ توجہ نہیں دی جا رہی ہے۔ ان میچوں میں نہ زیادہ ریٹنگ آتی ہے اور نہ ہی زیادہ لوگ دیکھتے ہیں۔ ٹی ٹوئنٹی نے بڑی حد تک ون ڈے انٹرنیشنل کی جگہ لے لی ہے۔
تاہم سابق کپتان آصف اقبال بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اس بات سے اتفاق نہیں کرتے کہ ٹی ٹوئنٹی کے آنے سے ٹیسٹ اور ون ڈے کو جھٹکا لگا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ٹیسٹ میچوں میں اب شائقین بہت کم تعداد میں گراؤنڈ کا رخ کرتے ہیں، اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کے پاس پانچ دن کھیل دیکھنے کے لیے وقت نکالنا مشکل ہے جبکہ ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کم وقت میں انھیں تفریح فراہم کر دیتی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
کھیل کے معیار میں فرق
پاکستانی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان راشد لطیف کا کہنا ہے کہ ٹی ٹوئنٹی کے آنے کے بعد کھلاڑیوں کی مہارت کا گراف نیچے آیا ہے۔ کرکٹرز کے کریئر کم ہوگئے ہیں، ٹیسٹ میچ ڈھائی سے ساڑھے تین دن میں ختم ہو جاتے ہیں۔
’میچ کو ڈرا کرنا ممکن نہیں رہا کیونکہ کھلاڑیوں میں صبر اور بردباری نہیں رہی ہے۔‘
آصف اقبال کی رائے اس بارے میں مختلف ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کھیل میں بہت بہتری آئی ہے۔ ٹیسٹ میچوں کے رن ریٹ میں اضافہ ہوا ہے، جہاں تک نتائج کا تعلق ہے تو 70 اور 80 کی دہائی میں کھیلے جانے والے ٹیسٹ میچ زیادہ تر ڈرا ہوتے تھے لیکن اب وہ نتیجہ خیز ثابت ہو رہے ہیں۔
جب ون ڈے کرکٹ آئی تھی تو اس کی وجہ سے بھی کھلاڑی جارحانہ کرکٹ کھیلنے لگے تھے اور سب سے زیادہ بہتری فیلڈنگ میں آئی تھی۔
آصف اقبال کا کہنا ہے کہ وہ کھلاڑی جو ٹی ٹوئنٹی کے سٹائل سے ٹیسٹ کرکٹ کھیلنا چاہتے ہیں انھیں صرف ٹی ٹوئنٹی اور ون ڈے فارمیٹ تک محدود رکھا جائے اور صرف انھی کھلاڑیوں کو تینوں فارمیٹس میں کھلائیں جو ان میں خود کو ایڈجسٹ کر سکتے ہیں۔
کرکٹ اب براڈ کاسٹرز کے لیے ہوتی ہے
راشد لطیف کہتے ہیں اب جو بھی کرکٹ ہو رہی ہے وہ براڈ کاسٹرز کے لیے ہے جو کرکٹ بورڈز سے کہتے ہیں کہ انھیں ٹی ٹوئنٹی میچز چاہییں، اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ ٹیسٹ میچ کم ہوتے جا رہے ہیں۔
انگلینڈ، آسٹریلیا اور انڈیا ٹیسٹ کرکٹ کے سلسلے میں بہتر طور پر کام کر رہے ہیں لیکن جو ٹیمیں مالی طور پر مستحکم نہیں ہیں وہ زیادہ تر ٹی ٹوئنٹی کی طرف راغب ہو چکی ہیں۔
راشد لطیف کا کہنا ہے کہ انٹرنیشنل کرکٹ کا جو کلینڈر بن رہا ہے اس میں بیشتر ممالک نے فرنچائز کرکٹ کی وِنڈو نکال رکھی ہے۔ پہلے پانچ یا چھ ٹیسٹ میچوں کی سیریز عام تھیں لیکن اب زیادہ تر دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز دیکھنے میں آ رہی ہے، ون ڈے انٹرنیشنل پر زیادہ فرق پڑا ہے کیونکہ اب ہر دورے میں ون ڈے پر ٹی ٹوئنٹی میچوں کو ترجیح دی جا رہی ہے۔
کرکٹ مینیجمنٹ اب بزنس اور فنانس والوں کے لیے کام کرنے لگی ہیں۔
کھلاڑیوں کی مالی حالت میں بہتری
آصف اقبال کا کہنا ہے کہ آج کرکٹ نے جو بھی ترقی ہے اس کے لیے آئی سی سی اور تمام کرکٹ بورڈز کو کیری پیکر ورلڈ سیریز کا شکر گزار ہونا چاہیے جس نے ڈے نائٹ کرکٹ، رنگین لباس، سفید گیند، سیاہ سائٹ سکرین اور سولہ کیمروں سے کوریج کو حقیقت کا روپ دیا۔
دراصل یہی وہ انقلاب ہے جس نے کرکٹ کی شکل تبدیل کی۔
آصف اقبال کا کہنا ہے کہ انھیں اس بات کی خوشی ہے کہ آج کرکٹرز اچھا معاوضہ حاصل کر رہے ہیں جو ان کا حق ہے۔ یہ بات نہیں بھولنی چاہیے کہ اس کی ابتدا بھی پیکر سیریز سے ہوئی تھی جب کرکٹرز کو اس دور میں اچھے معاوضے دیے گئے تھے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
راشد لطیف بھی آصف اقبال کی اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ ٹی ٹوئنٹی آنے کے بعد انٹرنیشنل اور مقامی کھلاڑیوں کو اچھے پیسے مل رہے ہیں اور وہ اچھی زندگی بسر کر رہے ہیں۔
حسن چیمہ کہتے ہیں کہ ٹی ٹوئنٹی کے آنے سے کرکٹ بورڈز کے پاس بھی پیسہ آگیا ہے۔ اس سے قبل صرف انڈین کرکٹ بورڈ ہی پیسے کے معاملے میں نمایاں نظر آیا کرتا تھا۔
کیا ٹی ٹوئنٹی نے کرپشن کو ہوا دی ہے؟
یہ بات ریکارڈ پر موجود ہے کہ آئی سی سی کے اینٹی کرپشن یونٹ کے سابق سربراہ سر پال کونڈن نے سنہ 2008 میں ایک بیان میں آئی پی ایل کو کرپشن کے سلسلے میں بہت بڑا خطرہ قرار دیا تھا۔
راشد لطیف اس بارے میں کہتے ہیں کہ اس وقت جتنی بھی فرنچائز لیگز ہو رہی ہیں وہ ڈبل لیگ کی بنیاد پر ہو رہی ہیں۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ ایک ٹیم لگاتار پانچ میچ جیت کر نمایاں نظر آ رہی ہوتی ہے اور ایک ٹیم لگاتار پانچ میچ ہار کر سب سے نیچے ہوتی ہے لیکن پھر وہی ٹیم ٹاپ پر چلی جاتی ہے۔ وہ یہ نہیں کہہ رہے کہ کرپشن ہو رہی ہے لیکن شکوک وشبہات ضرور پیدا ہوتے ہیں۔
راشد لطیف کا کہنا ہے کہ فرنچائز کرکٹ میں براڈ کاسٹر ڈبل لیگ یعنی زیادہ میچوں سے زیادہ کمانا چاہتا ہے جبکہ ان کے خیال میں یہ فرنچائز کرکٹ سنگل کی بنیاد پر ہونی چاہیے۔ دوسری بات یہ کہ ڈومیسٹک لیگ ہو یا فرنچائز کرکٹ اس میں لائیو سٹریمنگ ہوتی ہے اور اس کی وجہ سے شرطیں بھی لگتی ہیں تو شک و شبہ پیدا ہونا لازمی امر ہے۔
ون ڈے انٹرنیشنل کا مستقبل
حسن چیمہ کا کہنا ہے کہ یہ بھی ممکن ہے کہ مستقبل میں ون ڈے انٹرنیشنل کرکٹ صرف آئی سی سی ایونٹس تک محدود ہو کر رہ جائے اور اس کے مقابلے میں فرنچائز اور انٹرنیشنل ٹی ٹوئنٹی کرکٹ مزید پھلے پھولے۔ اگر اولمپکس میں ٹی ٹوئنٹی کرکٹ شامل ہو جاتی ہے تو پھر زیادہ سے زیادہ ممالک میں اس کا پھیلاؤ ہوگا اور چھوٹے ممالک کے کئی کھلاڑی ابھر کر سامنے آئیں گے جیسا کہ نیپال کے سندیپ لمیچانے اور افغانستان کے راشد خان نے فرنچائز کرکٹ کے ذریعے اپنی پہچان کرائی ہے۔










